ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( موت کے وقت ) نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی۔
حدیث 3622 — سنن النسائي 30:12
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دِرْهَمًا وَلاَ دِينَارًا وَلاَ شَاةً وَلاَ بَعِيرًا وَمَا أَوْصَى.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار، نہ بکری چھوڑی اور نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔ ( اس روایت کے دونوں راویوں میں سے ایک راوی جعفر بن محمد بن ہذیل نے اپنی روایت میں دینار اور درہم کا ذکر نہیں کیا ہے۔)
حدیث 3624 — سنن النسائي 30:14
صحیحصحیح
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ رضى الله عنه لَقَدْ دَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا فَانْخَنَثَتْ نَفْسُهُ صلى الله عليه وسلم وَمَا أَشْعُرُ فَإِلَى مَنْ أَوْصَى
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی ( اس وقت آپ کی حالت اتنی خراب تھی کہ ) آپ نے پیشاب کرنے کے لیے طشت منگوایا کہ اتنے میں آپ کے اعضاء ڈھیلے پڑ گئے ( روح پرواز کر گئی ) اور میں نہ جان سکی تو آپ نے کس کو وصیت کی؟ ۱؎۔
حدیث 3625 — سنن النسائي 30:15
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ غَيْرِي - قَالَتْ - وَدَعَا بِالطَّسْتِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت میرے سوا آپ کے پاس کوئی اور نہ تھا اس وقت آپ نے ( پیشاب کے لیے ) طشت منگا رکھا تھا۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا ایسا بیمار کہ مرنے کے قریب آ لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سارا مال ہے اور ایک بیٹی کے علاوہ میرا کوئی وارث نہیں، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے جواب دیا: ”نہیں“۔ میں نے کہا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“۔ میں نے کہا: تو ایک تہائی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ایک تہائی، حالانکہ یہ بھی زیادہ ہی ہے“ تمہارا اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔
سعد بن ابی وقاس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لائے اور میں ان دنوں مکے میں تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: آدھے مال کی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایک تہائی دے دو، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے، تمہارا اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں تنگدست چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور لوگوں سے جو ان کے ہاتھ میں ہے مانگتے پھریں“۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ۔ ( وہ مکہ میں بیمار پڑے تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لاتے تھے، وہ اس سر زمین میں جہاں سے وہ ہجرت کر کے جا چکے تھے مرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی: ”سعد بن عفراء پر اللہ کی رحمت نازل ہو“، ( سعد کی صرف ایک بیٹی تھی ) ، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی ( اللہ کی راہ میں دینے کی ) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: آدھے مال کی، اللہ کی راہ میں وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: تو ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے، تم اگر اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج اور پریشان حال بنا کر اس دنیا سے جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔
سعد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ آل سعد میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ سعد بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی ( اللہ کی راہ میں دینے ) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اور انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مکہ میں بیمار پڑے تو ( ان کی بیمار پرسی کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ آپ کو دیکھ کر رو پڑے، کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی سر زمین میں مر رہا ہوں جہاں سے ہجرت کر کے جا چکا ہوں، آپ نے فرمایا: ”نہیں، ان شاءاللہ ( تم یہاں نہیں مرو گے ) “۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: دو تہائی کی دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: آدھا دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ انہوں نے کہا: تو تہائی کی وصیت کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا ایک تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔