قرآني·Qurani
اردو

صلاة العيدين

42 احادیث · #1556–1597

حدیث 1556 — سنن النسائي 19:1
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ لأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ قَالَ ‏ "‏ كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا وَقَدْ أَبْدَلَكُمُ اللَّهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگوں کے لیے سال میں دو دن ایسے ہوتے تھے جن میں وہ کھیل کود کیا کرتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ سے ہجرت کر کے ) مدینہ آئے تو آپ نے فرمایا: تمہارے لیے دو دن تھے جن میں تم کھیل کود کیا کرتے تھے ( اب ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلہ ان سے بہتر دو دن دے دیئے ہیں: ایک عید الفطر کا دن اور دوسرا عید الاضحی کا دن ۔
حدیث 1557 — سنن النسائي 19:2
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ، لَهُ أَنَّ قَوْمًا، رَأَوُا الْهِلاَلَ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى الْعِيدِ مِنَ الْغَدِ ‏.‏
ابو عمیر بن انس اپنے ایک چچا سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عید کا چاند دیکھا تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( اور آپ سے اس کا ذکر کیا ) آپ نے انہیں دن چڑھ آنے کے بعد حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں، اور عید کی نماز کی لیے کل نکلیں۔
حدیث 1558 — سنن النسائي 19:3
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ لاَ تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ قَالَتْ بِأَبَا ‏.‏ فَقُلْتُ أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَتْ نَعَمْ بِأَبَا قَالَ ‏ "‏ لِيَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ وَيَشْهَدْنَ الْعِيدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى ‏"‏ ‏.‏
حفصہ بنت سرین کہتی ہیں کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو کہتی تھیں: میرے باپ آپ پر فدا ہوں تو میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ایسا ذکر کرتے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے فرمایا: چاہیئے کہ دوشیزائیں، پردہ والیاں، اور جو حیض سے ہوں ( عید گاہ کو ) نکلیں اور سب عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، البتہ جو حائضہ ہوں وہ صلاۃ گاہ سے الگ رہیں ۔
حدیث 1559 — سنن النسائي 19:4
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ لَقِيتُ أُمَّ عَطِيَّةَ فَقُلْتُ لَهَا هَلْ سَمِعْتِ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ إِذَا ذَكَرَتْهُ قَالَتْ بِأَبَا قَالَ ‏ "‏ أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَيَشْهَدْنَ الْعِيدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ مُصَلَّى النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( ایسا ایسا کہتے ہوئے ) سنا ہے؟ اور وہ جب بھی آپ کا ذکر کرتیں تو کہتیں: میرے باپ آپ پر فدا ہوں، ( انہوں نے کہا: ہاں ) آپ نے فرمایا: بالغ لڑکیوں کو اور پردہ والیوں کو بھی ( عید کی نماز کے لیے ) نکالو تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، اور حائضہ عورتیں مصلیٰ ( عید گاہ ) سے الگ تھلگ رہیں ۔
حدیث 1560 — سنن النسائي 19:5
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله تعالى عنه - حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَالْوَفْدِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ فَأَقْبَلَ بِهَا حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ ‏"‏ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَىَّ بِهَذِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِعْهَا وَتُصِبْ بِهَا حَاجَتَكَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں موٹے ریشمی کپڑے کا ایک جوڑا ( بکتے ہوئے ) پایا، تو اسے لیا، اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اسے خرید لیں، اور عید کے لیے اور وفود سے ملتے وقت اسے پہنیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہ ہو گا، یا اسے تو وہی پہنے گا جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہ ہو گا ، تو عمر رضی اللہ عنہ ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس باریک ریشمی کپڑے کا ایک جبہ بھیجا، تو وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا تھا کہ یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں، پھر آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بیچ دو، اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرو ۱؎۔
حدیث 1561 — سنن النسائي 19:6
صحیح Isnaadصحیح Isnaadحسن
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَشْعَثِ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، أَنَّ عَلِيًّا، اسْتَخْلَفَ أَبَا مَسْعُودٍ عَلَى النَّاسِ فَخَرَجَ يَوْمَ عِيدٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُصَلَّى قَبْلَ الإِمَامِ ‏.‏
ثعلبہ بن زہدم سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابومسعود رضی اللہ عنہ کو لوگوں پر اپنا نائب مقرر کیا، تو ( جب ) وہ عید کے دن نکلے تو کہنے لگے: لوگو! یہ سنت نہیں ہے کہ امام سے پہلے نماز پڑھی جائے۔
حدیث 1562 — سنن النسائي 19:7
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عِيدٍ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بغیر اذان اور بغیر اقامت کے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی۔
حدیث 1563 — سنن النسائي 19:8
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، عِنْدَ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَذْبَحَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ يُقَدِّمُهُ لأَهْلِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْبَحْهَا وَلَنْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
شعبی (عامر بن شراحیل) کہتے ہیں کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہم نے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے پاس بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا، تو آپ نے فرمایا: اپنے اس دن میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر قربانی کریں، تو جس نے ایسا کیا تو اس نے ہماری سنت کو پا لیا، اور جس نے اس سے پہلے ذبح کر لیا تو وہ محض گوشت ہے جسے وہ اپنے گھر والوں کو پہلے پیش کر رہا ہے ، ابوبردہ ابن نیار ( نماز سے پہلے ہی ) ذبح کر چکے تھے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو دانت والے دنبہ سے بہتر ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے ہی ذبح کر لو، لیکن تمہارے بعد اور کسی کے لیے یہ کافی نہیں ہو گا ۔
حدیث 1564 — سنن النسائي 19:9
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ - رضى الله عنهما - كَانُوا يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے۔
حدیث 1565 — سنن النسائي 19:10
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُخْرِجُ الْعَنَزَةَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى يُرْكِزُهَا فَيُصَلِّي إِلَيْهَا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی دونوں میں نیزہ لے جاتے اور اسے گاڑتے، پھر اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔