حدیث 1596 — سنن النسائي 19:41
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ دَخَلَ عُمَرُ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ رضى الله عنه فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ فَإِنَّمَا هُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ( مسجد میں ) داخل ہوئے، حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے تو آپ انہیں ڈانٹنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑو ( کھیلنے دو ) یہ بنو ارفدہ ہی تو ہیں ۔
حدیث 1597 — سنن النسائي 19:42
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ وَتُغَنِّيَانِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُسَجًّى بِثَوْبِهِ - وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى مُتَسَجٍّ ثَوْبَهُ - فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ " . وَهُنَّ أَيَّامُ مِنًى وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے ( گھر میں ) داخل ہوئے، ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، اور گانا گا رہی تھیں۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ اپنے کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے، تو آپ نے اپنا چہرہ کھولا، اور فرمایا: ابوبکر! انہیں چھوڑو کھیلنے دو، یہ عید کے دن ہیں، اور منیٰ کے دن تھے ۲؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مدینہ میں تھے۔