قرآني·Qurani
اردو

قصر الصلاة في السفر

26 احادیث · #1433–1458

حدیث 1433 — سنن النسائي 15:1
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‏{‏ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا، مِنَ الصَّلاَةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ‏}‏ فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ‏"‏ ‏.‏
یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے آیت کریمہ: «‏ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا» تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے ( النساء: ۱۰۱ ) ، کے متعلق عرض کیا کہ اب تو لوگ مامون اور بےخوف ہو گئے ہیں؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے بھی اس سے تعجب ہوا تھا جس سے تم کو تعجب ہے، تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: یہ ایک صدقہ ہے ۱؎ جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، تو تم اس کے صدقہ کو قبول کرو ۔
حدیث 1434 — سنن النسائي 15:2
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِنَّا نَجِدُ صَلاَةَ الْحَضَرِ وَصَلاَةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ وَلاَ نَجِدُ صَلاَةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَعْلَمُ شَيْئًا وَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ ‏.‏
امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے کہا کہ ہم قرآن میں حضر کی صلاۃ ۱؎ اور خوف کی صلاۃ کے احکام ۲؎ تو پاتے ہیں، مگر سفر کی صلاۃ کو قرآن میں نہیں پاتے؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: بھتیجے! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم میں بھیجا، اور ہم اس وقت کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۳؎۔
حدیث 1435 — سنن النسائي 15:3
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ لاَ يَخَافُ إِلاَّ رَبَّ الْعَالَمِينَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کے لیے نکلے، آپ صرف رب العالمین سے ہی ڈر رہے تھے ۱؎ ( اس کے باوجود ) آپ ( راستہ بھر ) دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے۔
حدیث 1436 — سنن النسائي 15:4
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنَّا نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ لاَ نَخَافُ إِلاَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرتے تھے، ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوتا تھا، پھر بھی ہم دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔
حدیث 1437 — سنن النسائي 15:5
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ عُبَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ، قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُصَلِّي بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ ‏.‏
ابن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذوالحلیفہ ۱؎ میں دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے ان سے اس سلسلہ میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: میں تو ویسے ہی کر رہا ہوں جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔
حدیث 1438 — سنن النسائي 15:6
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَلَمْ يَزَلْ يَقْصُرُ حَتَّى رَجَعَ فَأَقَامَ بِهَا عَشْرًا ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلا تو آپ برابر قصر کرتے رہے یہاں تک کہ آپ واپس لوٹ آئے، آپ نے وہاں دس دن تک قیام کیا تھا۔
حدیث 1439 — سنن النسائي 15:7
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیح
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَبِي أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، - وَهُوَ السُّكَّرِيُّ - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ رضى الله عنهما ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں دو رکعتیں پڑھیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں ہی پڑھیں۔
حدیث 1440 — سنن النسائي 15:8
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، - وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عُمَرَ، قَالَ صَلاَةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ وَالْفِطْرِ رَكْعَتَانِ وَالنَّحْرِ رَكْعَتَانِ وَالسَّفَرِ رَكْعَتَانِ تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر کی نماز دو رکعت ہے، عید الاضحی کی نماز دو رکعت ہے، اور سفر کی نماز دو رکعت ہے، اور بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب پوری ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔
حدیث 1441 — سنن النسائي 15:9
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، - وَهُوَ ابْنُ عَائِذٍ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ فُرِضَتْ صَلاَةُ الْحَضَرِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعًا وَصَلاَةُ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَصَلاَةُ الْخَوْفِ رَكْعَةً ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ حضر ( اقامت ) کی نماز تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر چار رکعتیں فرض ہوئیں، اور سفر کی نماز دو رکعت، اور خوف کی نماز ایک رکعت ۱؎۔
حدیث 1442 — سنن النسائي 15:10
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلاَةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر حضر ( اقامت ) میں چار رکعتیں، اور سفر میں دو رکعتیں، اور خوف میں ایک رکعت نماز فرض کی ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔