وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلاً، يَقُولُ أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ .
یعقوب بن عبد الرحمٰن نے ابو حازم سے روایت کی ، کہا : میں نےحضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے حضرت ابو اسید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی ۔ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔ انھوں نے یہ نہیں کہا ۔ جب آپ نے کھا نا تناول فرما لیا اس نے وہ ( مشروب ) کو پلا یا ۔
محمد ابو غسان نے کہا : مجھے ابو حازم نے حجرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث روایت کی اور کہا : ( اس نے ) پتھر کے ایک بڑے پیا لے میں ( نبیذ بنائی ) پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھا نے سے فارغ ہو ئے تو اس ( ابو اسید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دلہن ) نے اس ( پھل کو جوپانی کے ساتھ برتن میں ڈالا ہوا تھا ) پا نی میں گھلایا اور آپ کو پلا یا آپ کو خصوصی طور پر ( پلایا)
حدیث 5236 — صحيح مسلم 36:110
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا - ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ - أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى جَاءَهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا فَلَمَّا كَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ قَالَ " قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي " . فَقَالُوا لَهَا أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا فَقَالَتْ لاَ . فَقَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَكِ لِيَخْطُبَكِ قَالَتْ أَنَا كُنْتُ أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ . قَالَ سَهْلٌ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ قَالَ " اسْقِنَا " . لِسَهْلٍ قَالَ فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ . قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا فِيهِ قَالَ ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَوَهَبَهُ لَهُ . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ " اسْقِنَا يَا سَهْلُ " .
محمد بن سہل تیمی اور ابو بکر بن اسحٰق نے کہا : ہمیں ابن ابی مریم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو غسان محمد بن مطرف نے بتا یا کہ مجھے ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا ۔ ( اس کے والد نعمان بن ابی الجون کندی نے پیش کش کی ) آپ نے ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : کہ اس ( عورت کولا نے کے لیے اس ) کی طرف سواری وغیرہ بھیجیں ۔ تو انھوں ( حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بھیج دی وہ عورت آئی بنو ساعدہ کے قلعہ نما مکانات میں ٹھہری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے روانہ ہو کر اس کے پاس تشریف لے گئے جب آپ اس کے پاس گئے تو وہ عورت سر جھکا ئے ہو ئے تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس سے بات کی تو وہ کہنے لگی : میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے تمھیں خود سے پناہ دے دی ۔ " لوگوں نے اس سے کہا : کیا تم جا نتی ہو یہ کو ن ہیں ؟ اس نے کہا : نہیں انھوں نے کہا : یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور تمھیں نکا ح کا پیغا م دینے تمھا رے پاس آئے تھے ۔ اس نے کہا : میں اس سے کم تر نصیب والی تھی ۔ سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا ئے آپ خود اور آپ کے ساتھ بنو ساعدہ کے چھت والے چبوترے پر تشریف فرما ہو ئے پھر سہل پانی پلا ؤ " کہا : میں نے ان کے لیے وہی پیا لہ ( نما برتن ) نکا لا اور اس میں آپ کو پلا یا ۔ ابو حازم نے کہا : سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکالا اور ہم نے بھی اس میں سے پیا ، پھر عمر بن عبد العزیز نے حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ پیا لہ بطور ہبہ مانگ لیا ۔ حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ پیا لہ ان کو ہبہ کر دیا ۔ ابو بکر بن اسحاق کی روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " سہل!ہمیں ( کچھ ) پلا ؤ ۔
حدیث 5237 — صحيح مسلم 36:111
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ، بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ الْعَسَلَ وَالنَّبِيذَ وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے اس پیالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کا مشروب پلا یا ہے ۔ شہد نبیذ پانی اور دودھ ۔
حدیث 5238 — صحيح مسلم 36:112
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لَمَّا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَحَلَبْتُ لَهُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ .
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو اسحاق ( ہمدانی ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو ہم ایک چرواہے کے پاس سے گزرے ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی ہوئی تھی ، انھوں ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ دودھ دوہا ، پھر میں آپ کے پاس وہ دودھ لایا ، آپ نے اسے نوش فرمایا ، یہاں تک کہ میں راضی ہوگیا ۔
حدیث 5239 — صحيح مسلم 36:113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَتْبَعَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ - قَالَ - فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَاخَتْ فَرَسُهُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي وَلاَ أَضُرُّكَ . قَالَ فَدَعَا اللَّهَ - قَالَ - فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرُّوا بِرَاعِي غَنَمٍ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو اسحاق ہمدانی سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئےسنا : کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کو آئے تو سراقہ بن مالک نے ( مشرکوں کی طرف سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بددعا کی تو اس کا گھوڑا ( زمین میں ) دھنس گیا ( یعنی زمین نے اس کو پکڑ لیا ) ۔ وہ بولا کہ آپ میرے لئے دعا کیجئے میں آپ کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی ( تو اس کو نجات ملی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے چرواہے کے قریب سے گزرے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے پیالہ لیا اور تھوڑا سا دودھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دوہا اور لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ رضی اللہ عنہ نے پیا ، یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا ۔
یونس نے زہری سے روایت کی ، کہا : ابن مسیب نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس رات بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے ۔ ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھا اور دودھ کا پیالہ لے لیا ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو فطرت کی ہدایت کی ( یعنی اسلام کی اور استقامت کی ) ۔ اگر آپ شراب کو لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی ۔
حدیث 5241 — صحيح مسلم 36:115
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ بِإِيلِيَاءَ .
معقل نے زہری سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( دو پیالے ) لائے گئے ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔ انھوں ( معقل ) نے " ایلیاء " کا ذکر نہیں کیا ۔
ابو عاصم ضحاک نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھ سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ دودھ کا ( مقام ) نقیع سے لایا ، جو ڈھانپا ہوا نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اس کو ڈھانپا کیوں نہیں؟ ( اگر ڈھانپنے کو کچھ نہ تھا تو ) ایک آڑی لکڑی ہی اس پر رکھ لیتا ۔ ابوحمید ( راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ ہمیں رات کے وقت مشکیزوں کو باندھنے اور دروازے بند کرنے کا حکم فرمایا ۔
روح بن عبادہ نے کہا : ہمیں ابن جریج اور زکریا بن اسحاق نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک پیالہ لائے ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔ زکریا نے ( اپنی روایت کردہ حدیث میں ) حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول : " رات کے وقت " بیان نہیں کیا ۔