قرآني·Qurani
اردو

الأشربة

270 احادیث · #5114–5383

حدیث 5254 — صحيح مسلم 36:128
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ زُهَيْرٍ ‏.‏
سفیان بن ابو زبیر سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زہیر کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
حدیث 5255 — صحيح مسلم 36:129
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ، بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ غَطُّوا الإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لاَ يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غِطَاءٌ أَوْ سِقَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ وِكَاءٌ إِلاَّ نَزَلَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ ‏"‏ ‏.‏
ہاشم بن قاسم نے کہا : " ہمیں لیث بن سعد نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد لیثی نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے جعفر بن عبداللہ بن حکم سے ، انھوں نے قعقاع بن حکیم سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " برتن ڈھانک دو ، مشکیزے کامنہ باندھ دو ، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے ۔ پھر جس بھی ان ڈھکے برتن اور منہ کھلے مشکیزے کے پاس سے گزرتی ہے ۔ تو اس وبا میں سے ( کچھ حصہ ) اس میں اُتر جاتا ہے ۔
حدیث 5256 — صحيح مسلم 36:130
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ يَوْمًا يَنْزِلُ فِيهِ وَبَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ قَالَ اللَّيْثُ فَالأَعَاجِمُ عِنْدَنَا يَتَّقُونَ ذَلِكَ فِي كَانُونَ الأَوَّلِ ‏.‏
علی جہضمی نے کہا : ہمیں لیث بن سعد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر انھوں نے اس ( حدیث ) میں یہ کہا؛ " سال میں ایک ایسا دن ہے جس میں وبانازل ہوتی ہے ۔ " ( علی نے ) حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا : لیث نے کہا : ہمارے ہاں کے عجمی لوگ کانون اول ( یعنی دسمبر ) میں اس وبا سے بچتے ہیں ( بچنے کے حیلے کرتے ہیں ۔)
حدیث 5257 — صحيح مسلم 36:131
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ ‏"‏ ‏.‏
سالم نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : " جب تم سونے لگو تواپنے گھروں میں ( جلتی ہوئی ) آگ نہ چھوڑا کرو ( اسے پوری طرح بجھا دیا کرو ۔)
حدیث 5258 — صحيح مسلم 36:132
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي عَامِرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ احْتَرَقَ بَيْتٌ عَلَى أَهْلِهِ بِالْمَدِينَةِ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا حُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَأْنِهِمْ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ هَذِهِ النَّارَ إِنَّمَا هِيَ عَدُوٌّ لَكُمْ فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے ، کہا : مدینہ میں ایک گھر اپنے رہنے والوں کے اوپر جل گرا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا حال سنایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " یہ آگ جو ہے یہ تمہاری دشمن ہے ۔ جب تم سونے لگو تو اس کو خود سے ( ہٹانے کے لیے ) بجھا ہٹا دیاکرو ۔
حدیث 5259 — صحيح مسلم 36:133
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَضَعَ يَدَهُ وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ مَرَّةً طَعَامًا فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهَا ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لاَ يُذْكَرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ جَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَجَاءَ بِهَذَا الأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهَا ‏"‏ ‏.‏
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے خیثمہ سے ، انھوں ن ابوحذیفہ سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تو اپنے ہاتھ نہ ڈالتے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم شروع نہ کرتے اور ہاتھ نہ ڈالتے ۔ ایک دفعہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے پر موجود تھے اور ایک لڑکی دوڑتی ہوئی آئی جیسے کوئی اس کو ہانک رہا ہے اور اس نے اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ پھر ایک دیہاتی دوڑتا ہوا آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ پھر فرمایا کہ شیطان اس کھانے پر قدرت پا لیتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے اور وہ ایک لڑکی کو اس کھانے پر قدرت حاصل کرنے کو لایا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ، پھر اس دیہاتی کو اسی غرض سے لایا تو میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا ، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اس ( شیطان ) کا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۔
حدیث 5260 — صحيح مسلم 36:134
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ الأَرْحَبِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ كُنَّا إِذَا دُعِينَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى طَعَامٍ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَقَالَ ‏"‏ كَأَنَّمَا يُطْرَدُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْجَارِيَةِ ‏"‏ كَأَنَّمَا تُطْرَدُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدَّمَ مَجِيءَ الأَعْرَابِيِّ فِي حَدِيثِهِ قَبْلَ مَجِيءِ الْجَارِيَةِ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ ثُمَّ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ وَأَكَلَ ‏.‏
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں اعمش نے خیثمہ بن عبدالرحمان سے خبر دی ، انھوں نے ابو حذیفہ ارحبی سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے کہا : جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی دعوت دی جاتی ، پھر ابومعاویہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، اورکہا : جیسے اس ( بدو ) کو پیچھے سے زور سے دھکیلا جارہا ہو ۔ اورلڑکی کے بارے میں کہا : جیسے اسے پیچھے سے زور دے دھکیلا جارہا ہو ، انھوں نے ا پنی حدیث میں بدو کے آنے کا ذکرپہلے کیا اور لڑکی کے آنے کا بعد میں اور حدیث کے آخر میں اضافہ کیا : " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھی اور تناول فرمایا ۔
حدیث 5261 — صحيح مسلم 36:135
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَدَّمَ مَجِيءَ الْجَارِيَةِ قَبْلَ مَجِيءِ الأَعْرَابِيِّ ‏.‏
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور لڑکی کا آنا ، اعرابی کے آنے سے پہلے بیان کیا ۔
حدیث 5262 — صحيح مسلم 36:136
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ - عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ لاَ مَبِيتَ لَكُمْ وَلاَ عَشَاءَ ‏.‏ وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ ‏.‏ وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ ‏"‏ ‏.‏
ابو عاصم نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " کہ جب آدمی اپنے گھر میں جاتا ہے ، اور گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ جل جلالہ کا نام لیتا ہے ، تو شیطان ( اپنے رفیقوں اور تابعداروں سے ) کہتا ہے کہ نہ تمہارے یہاں رہنے کا ٹھکانہ ہے ، نہ کھانا ہے اور جب گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہیں رہنے کا ٹھکانہ تو مل گیا اور جب کھاتے وقت بھی اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہارے رہنے کا ٹھکانہ بھی ہوا اور کھانا بھی ملا ۔
حدیث 5263 — صحيح مسلم 36:137
وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ طَعَامِهِ وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ دُخُولِهِ ‏"‏ ‏.‏
روح بن عبادہ نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ کہتے ہوئےسنا ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئےسنا ۔ ابوعاصم کی حدیث کے مانند ، البتہ انھوں نے یہ کہا : " اور اگر اس نے اپنے کھانے کے وقت اللہ کا نام نہ لیا اور اگر اس نے داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لیا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔