قرآني·Qurani
اردو

الأشربة

270 احادیث · #5114–5383

حدیث 5304 — صحيح مسلم 36:178
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏"‏ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
ابو معاویہ نے اعمش سے اسی سندکے ساتھ روایت کی : " جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے " آخرتک اور حدیث کاابتدائی حصہ؛ " شیطان تمہارے پا س حاضر ہوتا ہے " ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 5305 — صحيح مسلم 36:179
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي، صَالِحٍ وَأَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي ذِكْرِ اللَّعْقِ ‏.‏ وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَذَكَرَ اللُّقْمَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا ‏.‏
محمد بن فضیل نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح اور ابوسفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( انگلیاں ) چاٹنے کے بارے میں روایت بیان کی اور ابو سفیان سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، اور لقمے کا ذکر کیا ، ان دونوں ( جریر اورابومعاویہ ) کی حدیث کی طرح ۔
حدیث 5306 — صحيح مسلم 36:180
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ، بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلاَثَ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ ‏"‏ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلاَ يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ‏"‏ ‏.‏ وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الْقَصْعَةَ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكُمْ لاَ تَدْرُونَ فِي أَىِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ ‏"‏ ‏.‏
بہز نے کہا : ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت کھاناکھاتے تو ( آخر میں ) اپنی تین انگلیوں کو چاٹتے اور کہا : آپ نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے ناپسندیدہ چیز کو دور کرلے اور کھالے اور اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے ۔ " اورآپ نے ہمیں پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : " تم نہیں جانتے کہ تمھارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔
حدیث 5307 — صحيح مسلم 36:181
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ر وایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص کھاناکھائے تو اپنی انگلیوں کو چاٹ لے ، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس میں برکت ہے ۔
حدیث 5308 — صحيح مسلم 36:182
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ وَلْيَسْلُتْ أَحْدُكُمُ الصَّحْفَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ فِي أَىِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ أَوْ يُبَارَكُ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں حماد نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ، مگرانھوں نےکہا : " تم میں سے ہر ایک پیالہ صاف کرے ۔ " اور فرمایا : " تمھارے کس کھانے ( کے کس حصے ) میں برکت ہے ، یا ( فرمایا : ) کس کھانے میں تمھارے لئے برکت ڈالی جاتی ہے ۔
حدیث 5309 — صحيح مسلم 36:183
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ وَكَانَ لَهُ غُلاَمٌ لَحَّامٌ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَرَفَ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ فَقَالَ لِغُلاَمِهِ وَيْحَكَ اصْنَعْ لَنَا طَعَامًا لِخَمْسَةِ نَفَرٍ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدْعُوَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَامِسَ خَمْسَةٍ ‏.‏ قَالَ فَصَنَعَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَاهُ خَامِسَ خَمْسَةٍ وَاتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ هَذَا اتَّبَعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ رَجَعَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ بَلْ آذَنُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو وائل سے ، انھوں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ انصار میں ایک آدمی جس کا نام ابوشعیب تھا ، جس کا ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا ۔ اس انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک معلوم ہوئی تو اپنے غلام سے کہا کہ ہم پانچ آدمیوں کے لئے کھانا تیار کر کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرنا چاہتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ آدمیوں میں پانچویں ہوں گے ۔ راوی کہتا ہے کہ اس نے کھانا تیار کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ میں پانچویں تھے ۔ ان کے ساتھ ایک آدمی ہو گیا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر پہنچے تو ( صاحب خانہ سے ) فرمایا کہ یہ شخص ہمارے ساتھ چلا آیا ہے ، اگر تو چاہے تو اس کو اجازت دے ، ورنہ یہ لوٹ جائے گا ۔ اس نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! بلکہ میں اس کو اجازت دیتا ہوں ۔
حدیث 5310 — صحيح مسلم 36:184
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ ‏.‏ قَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي رِوَايَتِهِ لِهَذَا الْحَدِيثِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، الأَنْصَارِيُّ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں یہی حدیث ابو معاویہ سے بیان کی ، نیز یہ حدیث ہمیں نصر بن علی جہضمی اور ابو سعید اشج نے بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ، عبیداللہ بن معاذ نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن یوسف نے سفیان سے حدیث بیان کی ، ان سب ( ابو معاویہ ، شعبہ اورسفیان ) نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے ابو وائل سے ، انھوں نے ابو مسعود سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جس طرح جریر کی حدیث ہے ۔ نصر بن علی نے اس حدیث کی اپنی روایت میں کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش سے شقیق بن سلمہ سے ، انھوں نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، پھر پوری حدیث بیان کی ۔
حدیث 5311 — صحيح مسلم 36:185
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، - وَهْوَ ابْنُ رُزَيْقٍ - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
عمار بن رزیق نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز زہیر نے کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے ، انھوں نے ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز ( زہیر نے ) اعمش سے ، انھوں نے سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث بیان کی ۔
حدیث 5312 — صحيح مسلم 36:186
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ جَارًا، لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَاءَ يَدْعُوهُ فَقَالَ ‏"‏ وَهَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ لِعَائِشَةَ فَقَالَ لاَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ ‏"‏ فَعَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَهَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَهَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فِي الثَّالِثَةِ ‏.‏ فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ ‏.‏
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارس سے تعلق رکھنے والا پڑوسی شوربا اچھا بناتا تھا ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے شوربا تیار کیا ، پھرآکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : " ان کو بھی دعوت ہے؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ( مجھے بھی تمہاری دعوت قبول نہیں ) وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان کو بھی؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو نہیں ۔ " وہ پھر دعوت دینے کے لئے آیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان کو بھی؟ " توتیسری بار اس نے کہا : ہاں ۔ پھر آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ اس کے گھر آگئے ۔
حدیث 5313 — صحيح مسلم 36:187
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالاَ الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا قُومُوا ‏"‏ ‏.‏ فَقَامُوا مَعَهُ فَأَتَى رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا رَأَتْهُ الْمَرْأَةُ قَالَتْ مَرْحَبًا وَأَهْلاً ‏.‏ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيْنَ فُلاَنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ ‏.‏ إِذْ جَاءَ الأَنْصَارِيُّ فَنَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أَكْرَمَ أَضْيَافًا مِنِّي - قَالَ - فَانْطَلَقَ فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ فَقَالَ كُلُوا مِنْ هَذِهِ ‏.‏ وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ ‏"‏ ‏.‏ فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَمِنْ ذَلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَابَكُمْ هَذَا النَّعِيمُ ‏"‏ ‏.‏
خلف بن خلیفہ نے یزید بن کیسان سے ، انھوں نے ابوحازم سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ رات یا دن کو باہر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو پوچھا کہ تمہیں اس وقت کون سی چیز گھر سے نکال لائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! بھوک کے مارے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں بھی اسی وجہ سے نکلا ہوں ، چلو ۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر آئے ، وہ اپنے گھر میں نہیں تھا ۔ اس کی عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں شخص ( اس کے خاوند کے متعلق فرمایا ) کہاں گیا ہے؟ وہ بولی کہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گیا ہے ( اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عذر سے اجنبی عورت سے بات کرنا اور اس کو جواب دینا درست ہے ، اسی طرح عورت اس مرد کو گھر بلا سکتی ہے جس کے آنے سے خاوند راضی ہو ) اتنے میں وہ انصاری مرد آ گیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج کے دن کسی کے پاس ایسے مہمان نہیں ہیں جیسے میرے پاس ہیں ۔ پھر گیا اور کھجور کا ایک خوشہ لے کر آیا جس میں گدر ، سوکھی اور تازہ کھجوریں تھیں اور کہنے لگا کہ اس میں سے کھائیے پھر اس نے چھری لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دودھ والی بکری مت کاٹنا ۔ اس نے ایک بکری کاٹی اور سب نے اس کا گوشت کھایا اور کھجور بھی کھائی اور پانی پیا ۔ جب کھانے پینے سے سیر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، قیامت کے دن تم سے اس نعمت کے بارے میں سوال ہو گا کہ تم اپنے گھروں سے بھوک کے مارے نکلے اور نہیں لوٹے یہاں تک کہ تمہیں یہ نعمت ملی ۔ ( اس فضل پر سوال ضرور ہوگا)
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔