وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ضَحِّ بِهِ أَنْتَ " . قَالَ قُتَيْبَةُ عَلَى صَحَابَتِهِ .
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے انھوں نے یزید بن ابی حبیب سے انھوں نے ابو خیر سے انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کچھ بکریاں عطا کیں کہ وہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیں ۔ آخر میں بکری کا ایک سالہ بچہ رہ گیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرما یا : " اس کی قربانی تم کر لو ۔ قتیبہ نے ( اصحابه کے بجا ئے ) علي صحابته آپ کے صحابہ میں ( تقسیم کردیں ۔ ) " کے الفاظ کہے ۔
ہشام دستوائی یحییٰ بن ابی کیثر سے انھوں نے بعجہ جہنی سے انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان قربانی کے کچھ جا نور بانٹے تو مجھے ایک سالہ بھیڑ یا بکری ملی ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے حصے میں ایک سالہ بھیڑ یا بکری آئی ہے آپ نے فرما یا : " اسی کی قربانی کردو ۔
معاویہ بن سلام نے کہا : مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی ، کہا مجھے بعجہ بن عبد اللہ نے بتا یا کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں میں قربانی کے جا نور تقسیم کیے ۔ اسی ( سابقہ ) حدیث کے ہم معنی ۔
حدیث 5087 — صحيح مسلم 35:24
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا .
ابو عوانہ نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی ۔ آپ نے انھیں اپنے ہا تھ سے ذبح کیا بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی ۔ آپ نے ( قربانی کے وقت انھیں لٹا کر ) ان کے رخسار پر اپنا قدم مبارک رکھا ۔
حدیث 5088 — صحيح مسلم 35:25
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ قَالَ وَرَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا قَالَ وَسَمَّى وَكَبَّرَ .
وکیع نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خوبصورت سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی ۔ کہا : میں نے دیکھا کہ آپ انھیں اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہے تھے ۔ اور میں نے دیکھا آپ نے ان کے رخسار پر قدم رکھا ہوا تھا ( اور ) کہا : آپ نے اللہ کا نام لیا ( بسم اللہ پڑھی ) اور تکبیر کہی ۔
حدیث 5089 — صحيح مسلم 35:26
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ . قَالَ قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ نَعَمْ .
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی : کہا : مجھے قتادہ نے بتا یا کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی دی اس ( پچھلی حدیث ) کے مانند ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں نے قتادہ سے پو چھا : کیا آپ نے ( خود ) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا تھا ؟ کہا : ہاں ۔
حدیث 5090 — صحيح مسلم 35:27
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَيَقُولُ " بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ " .
سعید نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے مانند روایت کی مگر انھوں نے یہ کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ واللہ اکبرکہہ رہے تھے ۔
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو ، سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو ( یعنی پاؤں ، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں ) ۔ پھر ایک ایسا مینڈھا قربانی کے لئے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! چھری لا ۔ پھر فرمایا کہ اس کو پتھر سے تیز کر لے ۔ میں نے تیز کر دی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی ، مینڈھے کو پکڑا ، اس کو لٹایا ، پھر ذبح کرتے وقت فرمایا کہ بسم اللہ ، اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل کی طرف سے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت کی طرف سے اس کو قبول کر ، پھر اس کی قربانی کی ۔
یحییٰ بن سعید نے سفیان ( بن سعید ) سے رویت کی ، کہا مجھے میرے والد ( سعید بن مسروق ) نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کل دشمن سے لڑنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلدی کر یا ہوشیاری کر جو خون بہا دے اور اللہ کا نام لیا جائے اس کو کھا لے ، سوا دانت اور ناخن کے ۔ اور میں تجھ سے کہوں گا اس کی وجہ یہ ہے کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں ۔ راوی نے کہا کہ ہمیں مال غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں ، پھر ان میں سے ایک اونٹ بگڑ گیا ، ایک شخص نے اس کو تیر سے مارا تو وہ ٹھہر گیا ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان اونٹوں میں بھی بعض بگڑ جاتے ہیں اور بھاگ نکلتے ہیں جیسے جنگلی جانور بھاگتے ہیں ۔ پھر جب کوئی جانور ایسا ہو جائے تو اس کے ساتھ یہی کرو ۔ ( یعنی دور سے تیر سے نشانہ کرو ) ۔
وکیع نے کہا : ہمیں سفیان بن سعید بن مسروق نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے ، انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : ہم تہامہ کے مقام ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ۔ تو ہمیں ( غنیمت میں ) بکریاں اور اونٹ حاصل ہوئے تو لوگوں نے جلد بازی کی اور ( ان میں سے کچھ جانوروں کو ذبح کیا ، ان کا گوشت کاٹا اور ) ہانڈیاں چڑھادیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حکم دیا اور ان ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا ۔ پھر آپ نے ( سب کے حصے تقسیم کرنے کے لیے ) دس بکریوں کو ایک اونٹ کے مساوی قرار دیا ۔ اس کے بعد یحییٰ بن سعید کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔