جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم آپس میں ( بات کرتے ہوئے ) شہید کس کو شمار کرتے ہو؟ "" صحابہ نے عرض کی : اللہ کے رسول! جو شخص اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" پھر تو میری امت کے شہداء بہت کم ہوئے ۔ "" صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ! پھر وہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا : "" جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں ( طلبِ علم ، سفرِ حج ، جہاد کے دوران میں اپنی موت ) مر جائے وہ شہید ہے ، جو شخص طاعون میں مرے وہ شہید ہے ، جو شخص پیٹ کی بیماری میں ( مبتلا ہو کر ) مر جائے وہ شہید ہے ۔ "" ( ابوصالح سے بیان کرنے والے ایک اور راوی عبیداللہ ) بن مقسم نے ( سہیل بن ابی صالح سے ) کہا : میں تمہارے والد کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے ( حدیث بیان کرتے ہوئے یہ بھی ) کہا تھا : "" اور غرق ہونے والا شہید ہے ۔
خالد نے ہمیں سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ ان کی حدیث میں ہے : سہیل نے کہا : عبیداللہ بن مقسم نے ( سہیل سے ) کہا کہ میں تمہارے بھائی کے بارے میں ( بھی ) گواہی دیتا ہوں کہ اس حدیث ( کو اپنے والد سے بیان کرتے ہوئے اس ) میں یہ اضافہ کیا تھا : " اور جو غرق ہو جائے وہ شہید ہے ۔
وہیب نے کہا : ہمیں سہیل نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ان کی حدیث میں ہے ، کہا : مجھے عبیداللہ بن مقسم نے ابوصالح سے خبر دی ، اور اس میں اضافہ کیا : " غرق ہونے والا شہید ہے ۔
عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں عاصم نے حفصہ بنت سیرین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا : یحییٰ بن ابی عمرہ کس بیماری سے فوت ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا : میں نے کہا : طاعون سے ۔ انہوں نے کہا : تو انہوں ( انس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " طاعون ( سے موت ) ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے ۔
ثمامہ بن شُفی سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ منبر پر فرما رہے تھے : " ( عربی ) " تم ان کے مقابلے کے لیے جتنی کر سکو ، قوت تیار کرو ۔ " ( الانفال 60 : 8 ) سن رکھو! قوت تیر اندازی ( کا نام ) ہے ، سن رکھو! قوت تیر اندازی ( کا نام ) ہے ، سن رکھو! قوت تیر اندازی ( کا نام ) ہے ۔
ابن وہب نے کہا : مجھے عمرو بن حارث نے ابوعلی ( ثمامہ بن شفی ) سے خبر دی ، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جلد ہی تمہارے لیے بہت سی زمینوں ( پر قبضے ) کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور اللہ تمہارے لیے کافی ہو گا ، اس لیے تم میں سے کوئی اپنے تیروں کی مشق سے غافل نہ رہے ۔
حدیث 4948 — صحيح مسلم 33:243
وَحَدَّثَنَاهُ دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
حارث بن یعقوب نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت کی کہ فُقَیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ( تیر چھوڑنے اور جا لگنے کے ) ان دو نشانوں کے درمیان چکر لگاتے ہیں جبکہ آپ بوڑھے ہیں اور یہ آپ کے لیے باعث مشقت بھی ہے ۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ تکلیف نہ اٹھاتا ۔ حارث نے کہا : میں نے ابن شماسہ سے پوچھا : وہ بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " جس شخص نے تیر اندازی سیکھی ، پھر اس کو ترک کر دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ " یا ( فرمایا : ) " اس نے نافرمانی کی ۔
حارث بن یعقوب نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت کی کہ فُقَیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ( تیر چھوڑنے اور جا لگنے کے ) ان دو نشانوں کے درمیان چکر لگاتے ہیں جبکہ آپ بوڑھے ہیں اور یہ آپ کے لیے باعث مشقت بھی ہے ۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ تکلیف نہ اٹھاتا ۔ حارث نے کہا : میں نے ابن شماسہ سے پوچھا : وہ بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " جس شخص نے تیر اندازی سیکھی ، پھر اس کو ترک کر دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ " یا ( فرمایا : ) " اس نے نافرمانی کی ۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا کوئی ان کا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کا حکم آوے ( یعنی قیامت ) اور وہ اسی حال میں ہوں گے۔