معمر نے زہری سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : دو عورتیں باہم لڑ پڑیں ۔ ۔ ۔ اور پورے قصے سمیت حدیث بیان کی اور یہ ذکر نہیں کیا : آپ نے اس کے بیٹے اور اس کے ساتھ موجود دوسرے حقداروں کو اس کا وارث بنایا ۔ اور کہا : اس پر ایک کہنے والے نے کہا : ہم کیسے دیت دیں؟ اور انہوں نے حمل بن مالک کا نام نہیں لیا
جریر نے منصور سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے عبید بن نضیلہ خزاعی سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک عورت نے اپنی سوتن کو جبکہ وہ حاملہ تھی ، خیمہ کی لکڑی ( اور پتھر ، حدیث : 4389 ) سے مارا اور قتل کر دیا ۔ کہا : اور ان میں سے ایک قبیلہ بنو لحیان سے تھی ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل ہونے والی کی دیت قتل کرنے والی کے عصبہ ( جدی رشتہ دار مردوں ) پر ڈالی اور پیٹ کے بچے کا تاوان جو اس کے پیٹ میں تھا ، ایک غلام مقرر فرمایا ۔ اس پر قتل کرنے والی کے عصبہ ( جدی مرد رشتہ داروں ) میں سے ایک آدمی نے کہا : کیا ہم اس کا تاوان دیں گے جس نے کھایا نہ پیا اور نہ آواز نکالی ، ایسا ( خون ) تو رائیگاں ہوتا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا بدوؤں کی سجع ( قافیہ بندی ) جیسی سجع ہے؟ "" کہا : اور آپ نے دیت ان ( جدی مرد رشتہ داروں ) پر ڈالی ۔
مفضل نے منصور سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے عبید بن نضیلہ سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک عورت نے اپنی سوتن کو خیمے کی لکڑی سے قتل کر دیا ، اس ( معاملے ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس عورت کے عاقلہ پر دیت عائد ہونے کا فیصلہ فرمایا اور چونکہ وہ حاملہ ( بھی ) تھی تو آپ نے پیٹ کے بچے کے بدلے میں ایک غلام ( بطور تاوان دیے جانے ) کا فیصلہ کیا ، اس پر اس کے عصبہ ( جدی مرد رشتہ داروں ) میں سے کسی نے کہا : کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ کھایا ، نہ پیا ، نہ چیخا ، نہ چلایا ، اس طرح کا ( خون ) تو رائیگاں ہوتا ہے ، کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا بدوؤں کی سجع جیسی سجع ہے؟
شعبہ نے منصور سے انہی کی ( سابقہ ) سندوں کے ساتھ مکمل قصے سمیت حدیث روایت کی ، البتہ اس میں ہے : اس عورت کا حمل ساقط ہو گیا ، یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس میں ( پیٹ کے بچے کے بدلے ) ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا اور یہ دیت ان لوگوں پر ڈالی جو عورت کے ولی تھے ۔ انہوں نے حدیث میں عورت کی دیت کا ذکر نہیں کیا
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے عورت کے پیٹ کا بچہ ضائع کرنے ( کی دیت ) کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا ، آپ نے اس میں ایک غلام ، مرد یا عورت دینے کا فیصلہ فرمایا تھا ۔ کہا : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے پاس ایسا آدمی لاؤ جو تمہارے ساتھ ( اس بات کی ) گواہی دے ۔ کہا : تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے گواہی دی