زہیر ، ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، زہیر اور ابو معاویہ کی حدیث میں آپ کے فرمان : " تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت ہے " کے بعد یہ اضافہ ہے ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : بڑھاپے کی اس گھڑی کے باوجود بھی ( جاہلیت کی عادت باقی ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " ابو معاویہ کی روایت میں ہے : " ہاں ، تمہارے بڑھاپے کی اس گھڑی کے باوجود بھی " عیسیٰ کی حدیث میں ہے : " اگر وہ اس پر ایسی ذمہ داری ڈال دے جو اس کی طاقت سے باہر ہے تو ( بہتر ہے ) اسے بیچ دے ۔ " ( غلام پر ظلم کے گناہ سے بچ جائے ۔ ) زہیر کی حدیث میں ہے : " تو وہ اس ( کام ) میں اس کی اعانت کرے ۔ " ابو معاویہ کی حدیث میں وہ اسے بیچ دے اور وہ اس کی اعانت کرے کے الفاظ نہیں ہیں اور ان کی حدیث آپ کے فرمان : اس پر ایسی ذمہ داری نہ ڈالے جو اس کے بس سے باہر ہوپر ختم ہو گئی
حدیث 4315 — صحيح مسلم 27:62
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلاَمِهِ مِثْلُهَا فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ فَذَكَرَ أَنَّهُ سَابَّ رَجُلاً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَيَّرَهُ بِأُمِّهِ - قَالَ - فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ إِخْوَانُكُمْ وَخَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلاَ تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ عَلَيْهِ " .
واصل احدب نے معرور بن سوید سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں دیکھا کہ ان ( کے جسم ) پر ( آدھا ) حلہ تھا اور ان کے غلام پر بھی اسی طرح کا ( آدھا ) حلہ تھا ، میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا ، کہا : تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں انہوں نے ایک آدمی کو برا بھلا کہا اور اسے اس کی ماں ( کے عجمی ہونے ) کی ( بنا پر ) عار دلائی ، کہا : تو وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ بات بتائی ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت ( کی خو ) ہے ، وہ تمہارے بھائی اور خدمت گزار ہیں ، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے ، تو جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو وہ اسے اسی کھانے میں سے کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی لباس پہنائے جو خود پہنتا ہے اور ان کے ذمے ایسا کام نہ لگاؤ جو ان کے بس سے باہر ہو اور اگر تم ان کے ذمے لگاؤ تو اس پر ان کی اعانت کرو
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : طعام اور لباس غلام کا حق ہے اور اس پر کام کی اتنی ذمہ داری نہ ڈالی جائے جو اس کے بس میں نہ ہو ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے لیے کھانا تیار کرے ، پھر اس کے سامنے پیش کرے اور اسی نے ( آگ کی ) تپش اور دھواں برداشت کیا ہے تو وہ اسے اپنے ساتھ بٹھائے اور وہ ( غلام بھی اس کے ساتھ ) کھائے اور اگر کھانا بہت سے لوگوں نے کھانا لیا ہو ، ( یعنی ) کم ہو تو اس کے ہاتھ میں ایک یا دو لقمے ( ضرور ) دے
حدیث 4318 — صحيح مسلم 27:65
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " .
امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " غلام جب اپنے آقا کی خیرخواہی کرے اور اچھی طرح اللہ کی بندگی کرے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے
ابوطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اچھی طرح ذمہ داریاں نبھانے والے کسی کے مملوک ( غلام ) کے لیے دو اجر ہیں ۔ "" اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! اگر اللہ کی راہ میں جہاد ، حج اور اپنی والدہ کی خدمت ( جیسے کام ) نہ ہوتے تو میں پسند کرتا کہ میں مروں تو غلام ہوں ۔ ( سعید بن مسیب نے ) کہا : ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کی وفات تک ان کے ساتھ رہنے ( اور خدمت کرنے ) کی بنا پر حج نہیں کرتے تھے ۔ ابوطاہر نے اپنی حدیث میں "" اچھی طرح ذمہ داریاں نبھانے والا "" عَبد "" ( غلام ) کہا ، "" مملوک "" نہیں کہا
ابوصفوان اموی نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا : ) مجھے یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، انہوں نے " ہمیں یہ بات پہنچی " اور اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب غلام اللہ کا حق اور اپنے آقاؤں کا حق ادا کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں ۔ " کہا : میں نے یہ حدیث کعب کو سنائی تو کعب نے کہا : نہ اس ( غلام ) کا حساب ہو گا نہ ہی کم مال والے مومن کا حساب ہو گا