سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اسلام شروع ہوا غربت میں اور پھر غریب ہو جائے جیسے شروع ہوا تھا اور وہ سمٹ کر دونوں مسجدوں (مکے مدینے) کے بیچ میں آ جائے گا ، جیسے سانپ سمٹ کر اپنے سوراخ (بل) میں چلا جاتا ہے ۔ “
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بلاشبہ ایمان مدینہ کی جانب یوں سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل کی جانب سمٹ آتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 375 — صحيح مسلم 1:282
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لاَ يُقَالَ فِي الأَرْضِ اللَّهُ اللَّهُ " .
حماد نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ ( وہ وقت آ جائے گا جب ) زمین میں اللہ اللہ نہیں کہا جارہا ہو گا ۔ ‘ ‘
حدیث 376 — صحيح مسلم 1:283
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى أَحَدٍ يَقُولُ اللَّهُ اللَّهُ " .
معمر نے ثابت سے خبر دی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کسی ایسے شخص پر قیامت قائم نہ ہو گی جو اللہ اللہ کہتا ہو گا ۔ ‘ ‘
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، آپ نے فرمایا : ’’ میرے لیے شمار کرو کہ کتنے ( لوگ ) اسلام کے الفاظ بولتے ہیں ( اسلام کا کلمہ پڑھتے ہیں ؟ ) ‘ ‘ حذیفہ نے کہا : تب ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کو ہم پر ( کوئی مصیبت نازل ہو جانے کا ) خوف ہے جبکہ ہم چھ سات سال سو کے درمیان ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’ تم نہیں جانتے ، ہو سکتا ہے تم کسی آزمائش میں ڈال دیے جاؤ ۔ ‘ ‘ پھر ہم آزمائش میں ڈال دیے گئے یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی شخص پوشیدہ رہے بغیر نماز بھی نہیں پڑھ سکتا تھا ۔
حدیث 378 — صحيح مسلم 1:285
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَسْمًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ فُلاَنًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوْ مُسْلِمٌ " أَقُولُهَا ثَلاَثًا . وَيُرَدِّدُهَا عَلَىَّ ثَلاَثًا " أَوْ مُسْلِمٌ " ثُمَّ قَالَ " إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ " .
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عامر بن سعد ( بن ابی وقاص ) سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے تقسیم کا کچھ مال بانٹا تو میں نے عرض کی ، اللہ کے رسول ! فلاں کو بھی دیجیے کیونکہ وہ مومن ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا : ’’یامسلمان ہے ۔ ‘ ‘ میں تین بار یہ بات کہتا ہوں اور آپ ﷺ تین بار میرے سامنے یہی الفاظ دہراتے ہیں ’’یامسلمان ہے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے فرمایا : ’’ میں ایک آدمی کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے ، اس ڈر سے کہ کہیں اللہ اس کو اندھے منہ آگ میں ( نہ ) ڈال دے ۔ ‘ ‘
حدیث 379 — صحيح مسلم 1:286
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَى رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ سَعْدٌ فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَىَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوْ مُسْلِمًا " . قَالَ فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوْ مُسْلِمًا " . قَالَ فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا عَلِمْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوْ مُسْلِمًا . إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ " .
ابن شہاب ( زہری ) کے بھتیجے نے اپنے چچا سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نےاپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو کچھ عطا فرمایا ، سعد رضی اللہ عنہ بھی ان میں بیٹھے تھے ، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا ، اسے کچھ عطانہ فرمایا ، حالانکہ ان سب سے وہی مجھ زیادہ اچھا لگتا تھا ، چنانچہ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ نے فلاں سے اعراض کیوں فرمایا؟ اللہ کی قسم ! میں اسے مومن سمجھتا ہوں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ یا مسلمان ۔ ‘ ‘ سعد نے کہا : پھر میں تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گیا ، پھر مجھ پر اس بات کا غلبہ ہوا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا؟ اللہ کی قسم !میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ یامسلمان ۔ ‘ ‘ تو میں تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گیا ، پھر مجھ پر اس بات کاغلبہ ہوا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا ، چنانچہ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا؟ کیونکہ اللہ کی قسم ! میں نے اسے مومن سمجھتا ہوں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یا مسلمان ۔ بلا شبہ میں ایک آدمی کو ( عطیہ ) دیتا ہوں ۔ حالانکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے ، اس بات سے ڈرتےہوئے کہ اسے منہ کے بل آگ میں ڈال دیا جائے گا ۔ ‘ ‘
حدیث 380 — صحيح مسلم 1:287
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ . بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ . وَزَادَ فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ .
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد ( حضرت ) سعد رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو ( عطیہ ) دیا اورمیں ان میں بیٹھا تھا ..... آگے ابن شہاب کے بھتیجے کی اپنے چچا سے روایت کی طرح ہے اور اتنا اضافہ ہے : ’’میں اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ سے عرض کی : فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا
(عامر بن سعد کے بھائی ) محمد بن سعد یہ حدیث بیان کرتے ہیں ، انہوں نے اپنی حدیث میں کہا : رسول اللہ ﷺ نے میری ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی ) گردن اور کندھے کے درمیان اپناہاتھ مار ، پھر فرمایا : ’’ کیا لڑائی کر رہے ہو سعد؟ کہ میں ایک آدمی کو دیتا ہوں ..... ‘ ‘
حدیث 382 — صحيح مسلم 1:289
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ صلى الله عليه وسلم إِذْ قَالَ { رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} قَالَ " وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ " .
یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی ، انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور سعید بن مسیب سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ہم ابراہیم سے زیادہ شک کرنے کا حق رکھتے ہیں ، جب انہوں نے کہا تھا : ’’ اے میرے رب ! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تمہیں یقین نہیں ؟ کہا : کیوں نہیں ! لیکن ( میں اس لیے جاننا چاہتا ہوں ) تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے ۔ ‘ ‘ آپ نے فرمایا : ’’ اور اللہ لوط رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے ، ( وہ کسی سہارے کی تمنا کر رہے تھے ) حالانکہ انہوں نے ایک مضبوط سہارے کی پناہ لی ہوئی تھی ۔ اور اگر میں قید خانے میں یوسف علیہ السلام جتنا طویل عرصہ ٹھہرتا تو ( ہوسکتا ہے ) بلانے والے کی بات مان لیتا ۔ ‘ ‘ ( عملاً آپ نے دوسرے انبیاء سے بڑھ کر ہی صبر و تحمل سے کام لیا ۔)