قرآني·Qurani
اردو

الإيمان

441 احادیث · #93–533

حدیث 463 — صحيح مسلم 1:368
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ فَهُوَ يَمْشِي مَرَّةً وَيَكْبُو مَرَّةً وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً فَإِذَا مَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ لَقَدْ أَعْطَانِيَ اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ ‏.‏ فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ‏.‏ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا ‏.‏ فَيَقُولُ لاَ يَا رَبِّ ‏.‏ وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لاَ يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لأَنَّهُ يَرَى مَا لاَ صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَى فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا لاَ أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ‏.‏ فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لاَ تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا ‏.‏ فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لاَ يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لأَنَّهُ يَرَى مَا لاَ صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ‏.‏ ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَيَيْنِ ‏.‏ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا لاَ أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ‏.‏ فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لاَ تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا قَالَ بَلَى يَا رَبِّ هَذِهِ لاَ أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ‏.‏ وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لأَنَّهُ يَرَى مَا لاَ صَبْرَ لَهُ عَلَيْهَا فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا ‏.‏ فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْكَ أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا قَالَ يَا رَبِّ أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ‏"‏ ‏.‏ فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ أَلاَ تَسْأَلُونِّي مِمَّ أَضْحَكُ فَقَالُوا مِمَّ تَضْحَكُ قَالَ هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالُوا مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ مِنْ ضِحْكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حِينَ قَالَ أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ إِنِّي لاَ أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ ‏"‏ ‏.‏
انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحضرت ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جنت میں سب سے آخر میں وہ آدمی داخل ہو گا جو کبھی چلےگا ، کبھی چہرے کے بل گرے گا اور کبھی آگ سے جھلسا دے گی ۔ جب و ہ آگ سے نکل آ ئے گا توپلٹ کر اس کو دیکھے گا اور کہے گا : بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دے دی ۔ اللہ نے مجھے ایسی چیز عطا فرما دی جو اس نے اگلوں پچھلوں میں سے کسی کو عطا نہیں فرمائی ۔ اسے بلندی پر ایک درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کے سائے میں دھوپ سے نجات حاصل کروں اور اس کے پانی سے پیاس بجھاؤں ۔ اس پر اللہ عز وجل فرمائے گا : اے ابن آدم ! ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں یہ درخت دےدوں تو تم مجھ سے اس کے سوا کچھ اور مانگو ۔ وہ کہے گا : نہیں ، اے میرے رب ! اور اللہ کے ساتھ عہد کرے گا کہ وہ اس سے اور کچھ نہ مانگے گا ۔ اس کا پروردگار اس کے عذر قبول کر لے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گاجس پر وہ صبر کر ہی نہیں سکتا ۔ تو اللہ تعالیٰ اسے اس ( درخت ) کے قریب کر دے گا اور وہ اس کے سائے میں دھوپ سے محفوظ ہو جائے گا اور اس کاپانی پیے گا ، پھر اسے اوپر ایک اور درخت دکھایا جائے گاجو پہلے درخت سےزیادہ خوبصورت ہو گا تووہ کہے گا : اےمیرے رب ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے پانی سے سیراب ہوں اور اس کے سائے میں آرام کروں ، میں تجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائےگا : اے آدم کے بیٹے ! کیا تم نے مجھ سےوعدہ نہ کیا تھا کہ تم مجھ سے کچھ اورنہیں مانگو گے؟ اور فرمائے گا : مجھے لگتا ہے اگر میں تمہیں اس کے قریب کردوں تو تم مجھ سے کچھ اور بھی مانگو گے ۔ وہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرے گا کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگے گا ، اس کا رب تعالیٰ اس کا عذر قبول کر لے گا ، کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس کے سامنے اس سے صبر نہیں ہو سکتا ۔ اس پر اللہ اسے اس درخت کے قریب کر دے گا ۔ وہ اس کے سائے کے نیچے آ جائے گا اور اس کےپانی سے پیاس بجھائے گا ۔ اور پھر ایک درخت جنت کے دروازے کے پاس دکھایا جائے گا جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہو گا تو وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے سے فائدہ اٹھاؤں اور اس کے پانی سے پیاس بجھاؤں ، میں تم سے اور کچھ نہیں مانگوں گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم کے بیٹے! کیا تم نے میرے ساتھ وعدہ نہیں کیا تھا کہ او رکچھ نہیں مانگو گے؟ وہ کہے گا : کیوں نہیں میرے رب! ( وعدہ کیا تھا ) بس یہی ، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگوں گا ۔ اس کا رب اس کاعذر قبول کر لے گاکیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس پر وہ صبر کر ہی نہیں سکتا ۔ تو وہ اس شخص کے اس ( درخت ) کے قریب کر دے گاتو وہ اہل جنت کی آوازیں سنے گا ۔ وہ کہے گا : اے میرے رب!مجھے اس میں داخل کر دے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم کے بیٹے ! وہ کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے ہمارے درمیان سوالات کا سلسلہ ختم کر دے؟ کیا تم اس سے راضی ہو جاؤ گے کہ میں تمہیں ساری دنیا اور اس کے برابر اوردے دوں ؟وہ کہے گا : اے میرے رب! کیا تومیری ہنسی اڑاتا ہے جبکہ تو سارے جہانوں کا رب ہے ۔ ‘ ‘ اس پر ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ہنس پڑے اور کہا : کیا تم مجھ سے یہ نہیں پوچھوگے کہ میں کیوں ہنسا؟ سامعین نے پوچھا : آپ کیوں ہنسے؟ کہا : اسی طرح رسول اللہ ﷺ ہنسے تھے توصحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے پوچھا تھا : اے اللہ کے رسول ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’رب العالمین کے ہنس پڑے پر ، جب اس نے کہا کہ تو سارے جہانوں کارب ہے ، میری ہنسی اڑاتا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : میں تیری ہنسی نہیں اڑاتا بلکہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں ۔ ‘ ‘
حدیث 464 — صحيح مسلم 1:369
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ فَقَالَ أَىْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ يُذْكُرْ ‏"‏ فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْكَ ‏"‏ ‏.‏ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ ‏"‏ وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ سَلْ كَذَا وَكَذَا فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ - قَالَ - ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَتَقُولاَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ - قَالَ - فَيَقُولُ مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اہل جنت میں سب سے کم درجے پر وہ آدمی ہوگا جس کے چہرے کو اللہ تعالیٰ دوزخ کی طرف سے ہٹا کر جنت کی طرف کر دے گا اور اس کو ایک سایہ دار درخت کی صورت دکھائی جائے گی ، وہ کہے گا : اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں ہو جاؤں ..... ‘ ‘ آگے انہوں نے ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی طرح روایت بیان کی لیکن یہ الفاظ ذکر نہیں کیے : ’’اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم کے بیٹے! کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے ہمارے درمیان سوالات کا سلسلہ ختم کر دے..... ’’ البتہ انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا : ’’اور ا للہ تعالیٰ اسے یاد دلاتا جائے گا : فلاں چیز مانگ ، فلاں چیزطلب کر ۔ اور جب اس کی آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ سب کچھ تمہارا ہے اور اس سے دس گناہ اور بھی ۔ ‘ ‘ آپﷺ نے فرمایا : ’’پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گا اور خوبصورت آنکھوں والی حوروں میں اس کی دو بیویاں اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی : اللہ کی حمد جس نے تمہیں ہمارے لیے زندہ کیا اور ہمیں تمہارے لیے زندگی دی ۔ آپ نے فرمایا : تو وہ کہے گا : جو کچھ مجھے عنایت کیا گیا ہے ایسا کسی کو نہیں دیا گیا ۔ ‘ ‘
حدیث 465 — صحيح مسلم 1:370
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، وَابْنِ، أَبْجَرَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، رِوَايَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدٍ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يُخْبِرُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَرْفَعُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ہمیں سعید بن عمر و اشعثی نے حدیث بیان سنائی ، کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے مطرف اور ( عبد الملک ) ابن ابجر سے ، انہوں نے شعبی سے روایت کی ، کہا : میں نے مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انشاء ا للہ ( رسول اللہ ﷺ سے بیان کردہ ) روایت کے طور پر سنا ، نیز ابن ابی عمر نے سفیان سے ، انہوں نے مطرف اور عبدالملک بن سعید سے اور ان دونوں نے شعبی سے سن کر حدیث بیان کی ، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے حوالے سے خبر دی ، کہا : میں نے ان سے منبر پر سنا ، وہ اس بات کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر رہے تھے ، نیز بشر بن حکم نے مجھ سے بیان کیا ( روایت کے الفاظ انہیں کے ہیں ) سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں مطرف اور ابن ابجر نے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے شعبی سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے مغیرہ بن شعبہ سے سنا ، وہ منبر پر لوگوں کو ( یہ ) حدیث سنا رہے تھے ۔ سفیان نے کہا : ان دونوں ( استادوں ) میں سےایک ( میرا خیال ہے ابن ابجر ) نے اس روایت کو مرفوعاً ( جسے صحابی نے رسو ل اللہﷺ سے سنا ہو ) بیان کیا ، آپ نے فرمایا : ’’موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ نے رب تعالیٰ سے پوچھا : جنت میں سب سے کم درجے کا ( جنتی ) کون ہو گا؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ ( ایسا ) آدمی ہو گا جو تمام اہل جنت کو جنت میں بھیج دیے جانے کے بعد آئے گا تو اس سے کہا جائے گا : جنت میں داخل ہو جا ، وہ کہے گا : میرے رب ! کیسے ؟ لوگ اپنی اپنی منزلوں میں قیام پذیر ہو چکے ہیں اور جولینا تھا سب کچھ لے چکے ہین ۔ تو اس سے کہا جائے گا : کیا تم اس پر راضی ہو جاؤ گے کہ تمہیں دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے ملک کے برابر مل جائے؟ وہ کہے گا : میرے رب! میں راضی ہوں ، اللہ فرمائے گا : وہ ( ملک ) تمہاراہوا ، پھر اتنا اور ، پھر اتنا اور ، پھر اتنا اور ، پھر اتنا اور ، پھر اتنا اور ، پھر بار وہ آدمی ( بے اختیار ) کہے گا : میرے رب ! میں راضی ہوگیا ۔ اللہ عز وجل فرمائے گا : یہ ( سب بھی ) تیرا اور اس سے دس گنا مزید بھی تیرا ، اور وہ سب کچھ بھی تیرا جو تیرا دل چاہے اور جو تیری آنکھوں کو بھائے ۔ وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں راضی ہوں ، پھر ( موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ نے ) کہا : پروردگار !تو وہ سب سے اونچے درجے کا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہی لوگ ہیں جو میری مراد ہیں ، ان کی عزت و کرامت کو میں نے اپنے ہاتھوں سے کاشت کیا اور اس پر مہر لگا دی ( جس کے لیے چاہا محفوظ کر لیا ۔ ) ( عزت کا ) وہ ( مقام ) نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا ۔ فرمایا : اس کا مصداق اللہ عزوجل کی کتاب میں موجود ہے : ’’کوئی ذی روح نہین جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی کسی ٹھنڈک چھپاکے رکھی گئی ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 466 — صحيح مسلم 1:371
قَالَ وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، وَابْنُ، أَبْجَرَ سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ سُفْيَانُ رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا - أُرَاهُ ابْنَ أَبْجَرَ - قَالَ ‏"‏ سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ مَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً قَالَ هُوَ رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ فَيُقَالُ لَهُ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ‏.‏ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ كَيْفَ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ فَيُقَالُ لَهُ أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مُلْكِ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ رَضِيتُ رَبِّ ‏.‏ فَيَقُولُ لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ ‏.‏ فَقَالَ فِي الْخَامِسَةِ رَضِيتُ رَبِّ ‏.‏ فَيَقُولُ هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ وَلَكَ مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ ‏.‏ فَيَقُولُ رَضِيتُ رَبِّ ‏.‏ قَالَ رَبِّ فَأَعْلاَهُمْ مَنْزِلَةً قَالَ أُولَئِكَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَمِصْدَاقُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ‏}‏ الآيَةَ ‏.‏
ہا : میں نے شعبی سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ منبر پر کہہ رہے تھے : بے شک موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ نے اللہ عز وجل سے اہل جنت میں سے سب سے کم حصہ پانے والے کے بارے میں پوچھا........ اور سابقہ حدیث کی طرح روایت ( سفیان کے بجائے ) عبیداللہ اشجعی نے عبدالملک ابن ابجر سے روایت کی ، انہوں نے ک بیان کی ۔
حدیث 467 — صحيح مسلم 1:373
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنِّي لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً الْجَنَّةَ وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ وَارْفَعُوا عَنْهُ كِبَارَهَا ‏.‏ فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوبِهِ فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا وَعَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَيَقُولُ نَعَمْ ‏.‏ لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ ‏.‏ فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً ‏.‏ فَيَقُولُ رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لاَ أَرَاهَا هَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ‏.‏
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں اہل جنت میں سے سب کے بعد جنت میں جانے والے اور اہل دوزخ میں سب سے آخر میں اس سے نکلنے والے کو جانتا ہوں ، وہ ایک آدمی ہے جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا : اس کے سامنے اس کے چھوٹے گنا ہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ اٹھا رکھو ( ایک طرف ہٹادو ۔ ) تو اس کے چھوٹے گناہ اس کے سامنے لائے جائیں گے اور کہا جائے گا : فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے اور فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے ۔ وہ کہے گا : ہاں ، وہ انکار نہیں کر سکے گا اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش ہونے سے خوفزدہ ہوگا ، ( اس وقت ) اسے کہا جائے گا : تمہارے لیے ہر برائی کے عوض ایک نیکی ہے ۔ تو وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں نے بہت سے ایسے ( برے ) کام کیے جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا ۔ ‘ ‘ میں ( ابو ذر ) نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نمایاں ہو گئے ۔
حدیث 468 — صحيح مسلم 1:374
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
اعمش کے دوشاگردوں ابو معاویہ اور وکیع نے اپنی اپنی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔
حدیث 469 — صحيح مسلم 1:375
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، كِلاَهُمَا عَنْ رَوْحٍ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُسْأَلُ عَنِ الْوُرُودِ، فَقَالَ نَجِيءُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ كَذَا، وَكَذَا، انْظُرْ أَىْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ - قَالَ - فَتُدْعَى الأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ فَيَقُولُ مَنْ تَنْظُرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْظُرُ رَبَّنَا ‏.‏ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ ‏.‏ فَيَقُولُونَ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ ‏.‏ فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ - قَالَ - فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ وَيَتَّبِعُونَهُ وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ - مُنَافِقٍ أَوْ مُؤْمِنٍ - نُورًا ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ وَعَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلاَلِيبُ وَحَسَكٌ تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لاَ يُحَاسَبُونَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ كَذَلِكَ ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ وَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً فَيُجْعَلُونَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ حَتَّى يَنْبُتُوا نَبَاتَ الشَّىْءِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حُرَاقُهُ ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّى تُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا ‏.‏
ابو زبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، ان سے ( جنت اور جہنم میں ) وارد ہونے کے بارے میں سوال کیا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا : ہم قیامت کے دن فلاں فلاں ( سمت ) سے آئیں گے ( دیکھو ) ، یعنی اس سمت سے جو لوگوں کےاوپر ہے ۔ کہا : سب امتیں اپنے اپنے بتوں اور جن ( معبودوں ) کی بندگی کرتی تھیں ان کے ساتھ بلائی جائیں گی ، ایک کے بعد ایک ، پھر اس کے بعد ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا اور پوچھے گا : تم کس کا انتظار کر رہے ہو ؟ تو وہ کہیں گے : ہم اپنے رب کے منتظر ہیں ۔ وہ فرمائے گا : میں تمہارا رب ہوں ۔ توسب کہیں گے : ( اس وقت ) جب ہم تمہیں دیکھ لیں ۔ تو وہ ہنستا ہوا ان کےسامنے جلوہ افروز ہو گا ۔ انہوں نے کہا : وہ انہیں لے کر جائے گااور وہ اس کے پیچھے ہوں گے ، ان میں ہر انسان کو ، منافق ہویا مومن ، ایک نور دیا جائے گا ، وہ اس نور کے پیچھے چلیں گے ۔ اور جہنم کے پل پر کئی نوکوں والے کنڈے اور لوہے کے سخت کانٹے ہوں گے اور جس کو اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ اسے پکڑ لیں گے ، پھر منافقوں کا نور بجھا دیا جائے گا اور مومن نجات پائیں گے تو سب سے پہلا گروہ ( جو ) نجات پائے گا ، ان کے چہرے چودہویں کے چاند جیسے ہوں گے ( وہ ) ستر ہزار ہوں گے ، ان کا حساب نہیں کیا جائے گا ، پھر جو لوگ ان کے بعد ہوں گے ، ان کے چہرے آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے ، پھر اسی طرح ( درجہ بدرجہ ۔ ) اس کے بعد پھرشفاعت کا مرحلہ آئے گااور ( شفاعت کرنے والے ) شفاعت کریں گے حتی کہ ہر وہ شخص جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہو گا اور جس کےدل میں جو کے وزن کے برابر بھی نیکی ( ایمان ) ہو گی ۔ ان کی جنت کے آگے کے میدان میں ڈال دیا جائے گا اور اہل جنت ان پر پانی چھڑکنا شروع کر دیں گے حتی کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کوئی چیز سیلاب میں اگ آتی ہے اور اس ( کے جسم ) کا جلا ہوا حصہ ختم ہو جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا حتی کہ اس کو دنیا اور اس کے ساتھ اس سے دس گنا مزید عطا کر دیا جائے گا ۔
حدیث 470 — صحيح مسلم 1:376
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم بِأُذُنِهِ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ نَاسًا مِنَ النَّارِ فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے عمر ( بن دینار ) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : انہوں نے اپنے دونوں کانٔن سے یہ بات نبی ﷺسنی ، آپ فرما رہے تھے : ’’ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کرے گا ۔ ‘ ‘
حدیث 471 — صحيح مسلم 1:377
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ قَوْمًا مِنَ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
حماد بن زید نے کہا : میں نے عمر وبن دینارسے پوچھا : کیا آپ نے جابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو رسول اللہﷺ سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو شفاعت کے ذریعے سے آگ میں سے نکالے گا؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ۔
حدیث 472 — صحيح مسلم 1:378
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ قَوْمًا يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ يَحْتَرِقُونَ فِيهَا إِلاَّ دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
قیس بن سلیم عنبری سے کہا : یزید الفقیر نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت جابربن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث سنائی ، انہوں نےکہا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ کچھ لوگ آگ میں سے نکالے جائیں گے ، وہ اپنے چہروں کے علاوہ ( پورے کے پورے ) اس میں جل چکے ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔