قرآني·Qurani
اردو

الإيمان

441 احادیث · #93–533

حدیث 143 — صحيح مسلم 1:50
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلاَّ مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ فَقَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ‏.‏ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ‏.‏ ثُمَّ سَارَ سَاعَةَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حضرت معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے یہ حدیث روایت کی ، کہا : میں ( سواری کے ایک جانور پر ) رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا ، میرے اور آپ کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی ( جتنی جگہ ) کے سوا کچھ نہ تھا ، چنانچہ ( اس موقع پر ) آپﷺ نے فرمایا : ’’اے معاذ بن جبل! ‘ ‘ میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں اللہ کے رسول !ز ہے نصیب ۔ ( اس کے بعد ) آپ پھر گھڑی بھرچلتے رہے ، اس کے بعد فرمایا : ’’ اے معاذ بن جبل ! ‘ ‘ میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں ، اللہ کے رسول ! زہے نصیب ۔ آپ نے فرمایا : ’’ کیاجانتے ہو کہ بندوں پر ا للہ عز وجل کا کیا حق ہے ؟ ‘ ‘ کہا : میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں ۔ ارشاد فرمایا : ’’ بندوں پر اللہ عزوجل کا حق یہ ہے کہ اس کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرین ۔ ‘ ‘ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا : ’’ اے معاذ بن جبل ! ‘ ‘ میں عرض کی : میں حاضر ہوں اللہ کے رسول ! ز ہے نصیب ۔ آپ نے فرمایا : ’’کیا آپ جانتے ہو کہ جب بندے اللہ کاحق ادا کریں تو پھر ا للہ پر ان کا حق کیا ہے ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی ، اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے ۔ ‘ ‘
حدیث 144 — صحيح مسلم 1:51
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، سَلاَّمُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ قَالَ فَقَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذُ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لاَ يُعَذِّبَ مَنْ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ ‏"‏ لاَ تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا ‏"‏ ‏.‏
عمرو بن میمون نے حضرت معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک گدھے پر سوار تھا جسے عفیر کہا جاتا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’اے معاذ ! جانتے ہو ، بندوں پر اللہ کاکیا حق ہے اور اللہ پربندوں کا کیا حق ہے ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ بندوں پر اللہ کاحق یہ ہے کہ وہ اس کی بندگی کریں ، اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو بندہ اس کے ساتھ ( کسی چیزکو ) شریک نہ ٹھہرائے ، اللہ اس کو عذاب نہ دے ۔ ‘ ‘ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ سناؤں ؟ آپ نے فرمایا : ’’ ان کو خوش خبری نہ سناؤ وورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے ۔ ‘ ‘
حدیث 145 — صحيح مسلم 1:52
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، وَالأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الأَسْوَدَ بْنَ هِلاَلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا مُعَاذُ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْ يُعْبَدَ اللَّهُ وَلاَ يُشْرَكَ بِهِ شَىْءٌ - قَالَ - أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے ابوحصین اور اشعث بن سلیم سے حدیث سنائی ، ان دونوں نے اسود بن ہلال سے سنا ، وہ حضرت معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اے معاذ! کیا تم جانتے ہو بندوں پر اللہ کا کیاحق ہے ؟ ‘ ‘ معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ اللہ کی بندگی کی جائے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے ۔ ‘ ‘ آپ نے پوچھا : ’’ کیا جانتے ہو اگر وہ ( بندے ) ایسا کریں تو اللہ پر ان کیا حق ہے ؟ ‘ ‘ میں نے جواب دیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے ۔ ‘ ‘
حدیث 146 — صحيح مسلم 1:53
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذًا، يَقُولُ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ ‏ "‏ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
زائدہ ( بن قدامہ ) نے ابو حصین سے ، انہوں نے اسود بن ہلال سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے بلایا ، میں نے آپ کو جواب دیا تو آپ نے پوچھا : ’’کیا جانتے ہو لوگوں پر اللہ کا حق کیا ہے ؟ ..... ‘ ‘ پھر ان ( سابقہ راویوں ) کی حدیث کی طرح ( حدیث سنائی ۔)
حدیث 147 — صحيح مسلم 1:54
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي نَفَرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَتَيْتُ حَائِطًا لِلأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا فَلَمْ أَجِدْ فَإِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَةٍ - وَالرَّبِيعُ الْجَدْوَلُ - فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَبُو هُرَيْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا فَفَزِعْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ وَهَؤُلاَءِ النَّاسُ وَرَائِي فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ بِنَعْلَىَّ هَاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيتُ عُمَرُ فَقَالَ مَا هَاتَانِ النَّعْلاَنِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏.‏ فَقُلْتُ هَاتَانِ نَعْلاَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ‏.‏ فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَىَّ فَخَرَرْتُ لاِسْتِي فَقَالَ ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَجْهَشْتُ بُكَاءً وَرَكِبَنِي عُمَرُ فَإِذَا هُوَ عَلَى أَثَرِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَقِيتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَىَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لاِسْتِي قَالَ ارْجِعْ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عُمَرُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَخَلِّهِمْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے چاروں طرف ایک جماعت ( کی صورت ) میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہمارے ساتھ حضرت ابو بکر اور عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی موجود تھے ۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان سے اٹھے ( اور کسی طرف چلے گئے ) ، پھر آپ نے ہماری طرف ( واپسی میں ) بہت تاخیر کر دی تو ہم ڈر گئے کہ کہیں ہمارے بغیر آپ کو کوئی گزند نہ پہنچائی جائے ۔ اس پر ہم بہت گھبرائے اور ( آپ کی تلاش میں نکل ) کھڑے ہوئے ۔ سب سے پہلے میں ہی گھبرایا اور رسول اللہ ﷺ کو ڈھونڈ نے نکلا یہاں تک کہ میں انصار کے خاندان بنو نجاز کے چار دیواری ( فصیل ) سے گھرے ہوئے ایک باغ تک پہنچا اور میں نے اس کے ارد گرد چکر لگایا کہ کہیں پر دروازہ مل جائے لیکن مجھے نہ ملا ۔ اچانک پانی کی ایک گزر گاہ دکھائی دی جو باہر کے کنوئیں سے باغ کے اندر جاتی تھی ( ربیع آب پاشی کی چھوٹی سی نہر کو کہتے ہیں ) میں لومڑی کی طرح سمٹ کر داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گیا ۔ آپ نے پوچھا : ’’ ابو ہریرہ ہو ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’تمہیں کیا معاملہ درپیش ہے ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : آپ ہمارے درمیان تشریف فرماتھے ، پھر وہاں سے اٹھ گئے ، پھر آپ نے ہماری طرف ( واپس ) آنے میں دیر کر دی تو ہمیں خطرہ لاحق ہوا کہ آپ ہم سے کاٹ نہ دیے جائیں ۔ اس پر ہم گھبرا گئے ، سب سے پہلے میں گھبرا کر نکلا تو اس باغ تک پہنچا اور اس طرح سمٹ کر ( اندر گھس ) آیا ہوں جس طرح لومڑی سمٹ کر گھستی ہے اور یہ دوسرے لوگ میرے پیچھے ( آرہے ) ہیں ۔ تب آپﷺ نے فرمایا : ’’اے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ! ‘ ‘ او رمجھے اپنے نعلین ( جوتے ) عطا کیے اور ارشاد فرمایا : ’’میرے یہ جوتے لے جاؤ اور اس چار دیواری کی دوسری طرف تمہیں جو بھی ایسا آدمی ملے جو دل کے پورے یقین کے ساتھ لا اله الاالله کی شہادت دیتا ہو ، اسے جنت کی خوش خبری سنا دو ۔ ‘ ‘ سب سے پہلے میری ملاقات عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ہوئی ، انہوں نے نے کہا : ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ! ( تمہاری ہاتھ میں ) یہ جوتے کیسے ہیں ؟ میں نے کہا : یہ رسول اللہ ﷺ کے نعلین ( مبارک ) ہیں ۔ آپ نے مجھے یہ نعلین ( جوتے ) دے کر بھیجا ہے کہ جس کسی کو ملوں جو دل کے یقین کے ساتھ لا اله الاالله کی شہادت دیتا ہو ، اسے جنت کی بشارت دے دوں ۔ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےمیرے سینے پر اپنے ہاتھ سے ایک ضرب لگائی جس سے میں اپنی سرینوں کے بل گر پڑا اور انہوں نے کہا : اے ابو ہریرہ! پیچھے لوٹو ۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس عالم میں واپس آیا کہ مجھے رونا آرہا تھا اور عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ میرے پیچھے لگ کر چلتے آئے تو اچانک میرے عقب سے نمودار ہو گئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ( مجھ سے ) کہا : ’’ اے ابوہریرہ !تمہیں کیا ہوا ؟ میں نے عرض کی : میں نے عرض : میں عمر سے ملا اور آپ نے مجھے جو پیغام دے کر بھیجا تھا ، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے میرے سینے پر ایک ضرب لگائی ہے جس سے میں اپنی سرینوں کے بل گر پڑا ، اور مجھ سے کہا کہ پیچھے لوٹو ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ عمر! تم نے جو کیا اس کا سبب کیا ہے ؟ ‘ ‘ انہوں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ! کیا آپ نے ابوہریرہ کو اس لیے نعلین دے کر بھیجا تھا کہ دل کے یقین کے ساتھ لا اله الااللهکی شہادت دینے والے جس کسی کو ملے ، اسے جنت کی بشارت دے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘ ‘ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عرض کی : تو ایسا نہ کیجیے ، مجھے ڈر ہے کہ لوگ بس اسی ( شہادت ) پر بھروسا کر بیٹھیں گے ، انہیں چھوڑ دیں کہ وہ عمل کرتے رہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اچھا تو ان کو چھوڑ دو ۔ ‘ ‘
حدیث 148 — صحيح مسلم 1:55
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ قَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلاَّ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا قَالَ ‏"‏ إِذًا يَتَّكِلُوا ‏"‏ فَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا ‏.‏
قتادہ نے کہا : ہمیں حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، جب وہ پالان پر آپ کے پیچھے سوار تھے ، فرمایا : ’’اے معاذ ! ‘ ‘ انہوں نےعرض کی : ’’میں بار بار حاضر ہوں اللہ کے رسول ! میرے نصیب روشن ہو گئے ۔ ‘ ‘ نبی ﷺپھر فرمایا : ’’اے معاذ! ‘ ‘ انہوں نے عرض کی : ’’میں بار بار حاضر ہوں اللہ کے رسول ! زہے نصیب ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے فرمایا : ’’ اے معاذ! ‘ ‘ انہوں نے عرض کی ، ’’ میں ہر بار حاضر ہوں اللہ کے رسول ! میری خوش بختی ۔ ‘ ‘ ( اس پر ) آپ نے فرمایا : ’’کوئی بندہ ایسا نہیں جو ( سچے دل سے ) شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور رسول ہیں مگر اللہ ایسے شخص کو دوزخ پر حرام کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘ حضرت معاذ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ کر دوں تاکہ وہ سب خوش ہو جائیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’پھر وہ اسی پر بھروسا کر کے بیٹھ جائیں گے ۔ ‘ ‘ چنانچہ حضرت معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ( کتمان علم کے ) گناہ کے خوف سے اپنی موت کے وقت یہ بات بتائی ۔
حدیث 149 — صحيح مسلم 1:56
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عِتْبَانَ فَقُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ قَالَ أَصَابَنِي فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّىْءِ فَبَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِي فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى - قَالَ - فَأَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَنْزِلِي وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ أَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ وَكِبْرَهُ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخْشُمٍ قَالُوا وَدُّوا أَنَّهُ دَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ وَوَدُّوا أَنَّهُ أَصَابَهُ شَرٌّ ‏.‏ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ وَقَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا إِنَّهُ يَقُولُ ذَلِكَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ يَشْهَدُ أَحَدٌ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَيَدْخُلَ النَّارَ أَوْ تَطْعَمَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ فَقُلْتُ لاِبْنِي اكْتُبْهُ فَكَتَبَهُ ‏.‏
سلیمان بن مغیرہ نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے محمود بن ریبع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حضرت عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی ۔ ( محمود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا کہ میں مدینہ آیا تو عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو ملا اور میں نےکہا : ایک حدیث مجھے آپ کے حوالے سے پہنچی ہے ۔ حضرت عتبان نے کہا : میری آنکھوں کو کوئی بیماری لاحق ہو گئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ اے اللہ کے رسول ! میرا دل چاہتا ہے کہ آپ میرے پاس تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز ادا فرمائیں تاکہ میں اسی ( جگہ ) کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں ۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں میں سے جن کو اللہ نے چاہا ، تشریف لائے ، آپ ﷺ میرے گھر میں داخل ہوئے ، آپ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے ساتھی آپس میں باتیں کر رہے تھے ۔ انہوں نے زیادہ اور بڑی بڑی باتیں مالک بن دخشم کے ساتھ جوڑ دیں ، وہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اس کے حق میں بد دعا فرمائیں اور وہ ہلاک ہو جائے اور ان کی خواہش تھی کہ اس پر کوئی آفت آئے ۔ رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے اور پوچھا : ’’ کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ‘ ‘ صحابہ کرام نے جواب دیا : وہ ( زبان سے ) یہ کہتا ہے لیکن اس کے دل میں یہ نہیں ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی ایسا شخص نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو پھر وہ آگ میں داخل ہو یا آگ اسے اپنی خوراک بنا لے ۔ ‘ ‘ حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : یہ حدیث مجھے بہت اچھی لگی ( پسند آئی ) تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا : اسے لکھ لو ، اس نے یہ حدیث لکھ لی ۔
حدیث 150 — صحيح مسلم 1:57
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ عَمِيَ فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ تَعَالَ فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا ‏.‏ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَاءَ قَوْمُهُ وَنُعِتَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُمِ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ‏.‏
حماد نے کہا : ہمیں ثابت نےحضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے عتبان بن مالک نے بتایا کہ وہ نابینا ہو گئے تھے ، اس وجہ سے انہوں نےرسول اللہ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیں اور میرے لیے مسجد کی اکی جگہ متعین کر دیں ( تاکہ میں اس میں نماز پڑھ سکوں ) تو رسو ل اللہ ﷺ تشریف لائے اور ان ( عتبان ) کی قوم کےلوگ بھی آگئے ، ان میں سے ایک آدمی ، جسے مالک بن دخیشم کہا جاتا تھا ، غائب رہا.... اس کے بعد حماد نے بھی ( ثابت کے دوسرے شاگرد ) سلیمان بن مغیرہ کی طرح روایت بیان کی ۔
حدیث 151 — صحيح مسلم 1:58
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، وَبِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ - الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ ذَاقَ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً ‏"‏ ‏‏
حضرت عباس بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کے رب ، اسلام کو دین اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر ( دل سے ) راضی ہو گیا ۔ ‘ ‘
حدیث 152 — صحيح مسلم 1:59
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ ‏"‏ ‏.‏
سلیمان بن بلال نے عبد اللہ بن دینار سے ، انہوں ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔