عبد ہ بن سلیمان نے ہشام ( بن عروہ ) سے انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس عزوجل کے فرمان : " اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھالے " کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : " یہ آیت یتیم کے مال کے ایسے متولی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اس کی نگہداشت کرتا ہے اور اس کو سنوارتا ( بڑھاتا ) ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہے تو اس میں سے ( خودبھی ) کھاسکتا ہے ۔
ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس عزوجل کے فرمان : " اور جو شخص غنی ہو وہ اجتناب کرے اور جو شخص ضرورت مند ہو ۔ وہ عرف اور رواج کے مطابق کھالے " کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : یہ ( آیت ) یتیم کے سر پرست کے متعلق نازل ہوئی کہ جب وہ محتاج ہو تو اس کے امل میں سے معروف طریقے سے اتنا لے سکتا ہے جتنا اپنا مال ( استعمال کرتا تھا ۔)
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس ( اللہ ) عزوجل کے فرمان : " جب کافرتم پر چڑھ آئے تمھارے اوپر کی جانب سے اور تمھارے نیچے کی طرف سے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل منہ کو آنے لگے " کے متعلق روایت کی ، ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : " یہ خندق کے روزہوا تھا ۔
عبد ہ بن سلیمان نے کہا : ہمیں ہشام ( ابن عروہ ) نے اپنے والدسے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( آیت ) : " اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی طرف سےبے رغبتی یاروگردانی کا اندیشہ محسوس کرے " مکمل آیت کے بارے میں روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : یہ آیت اس عورت کے متعلق نازل ہوئی تھی ۔ جو کسی مردکے نکاح میں ہو ۔ اس کی صحبت میں لمبا عرصہ بیت کیا ہو وہ اسے طلاق دینا چاہے تو وہ ( عورت ) کہے مجھے طلاق نہ دواپنے پاس رکھو ۔ تم میری طرف سے ( میرے واجبات سے ) بری الذمہ ہو ، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی ۔
ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس ( اللہ ) عزوجل کے فرمان : " اگر کوئی عورت اپنے خاوندکی طرف سے بے رغبتی یاروگردانی کا اندیشہ محسوس کرنے کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : " یہ ( آیت ) اس عورت کے متعلق نازل ہو ئی جو ( مدت سے ) کسی مرد کے ہاں ہو ۔ ( اسے اندیشہ ہو ) کہ شاید اب وہ اس سے ( اپنے تعلق کو ) زیادہ نہ کرے گا ۔ اور اس عورت ) کو اس کا ساتھ میسرہو اور اولاد ہو اور یہ نہ چاہے کہ وہ ( مرد ) سے چھوڑدے تو اس سے کہہ دے کہ تم میرے معاملے میں ( حقوق زوجیت سے ) بری الذمہ ہو ۔
حدیث 7539 — صحيح مسلم 56:17
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي أُمِرُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا، لأَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَبُّوهُمْ .
ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا بھانجے !لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے استغفار کریں تو انھوں نےان کو برا کہنا شروع کر دیا ۔
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے مغیرہ بن نعمان سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : کہ اہل کوفہ کا اس آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا " جس شخص نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے؟چنانچہ میں سفر کر کے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور ان سےاس ( آیت ) کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا : یہ آیت آخر میں نازل ہوئی پھر کسی چیز ( قرآن کی کسی دوسر ی آیت یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ) نے اس کو منسوخ نہیں کیا ۔
محمد بن جعفر اور نضر بن شمیل دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے یہ آیت آخر میں اتر نے والی آیات میں اتری ۔ اور نضر کی روایت میں ہے یہ ( آیت ) یقیناً ان آیتوں میں سے ہے جو آخر میں اتریں ۔