قرآني·Qurani
اردو

التوبة

72 احادیث · #6952–7023

حدیث 6952 — صحيح مسلم 50:1
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي، صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي وَاللَّهِ لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ بِالْفَلاَةِ وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَىَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَىَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِذَا أَقْبَلَ إِلَىَّ يَمْشِي أَقْبَلْتُ إِلَيْهِ أُهَرْوِلُ ‏"‏ ‏.‏
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل نے فرمایا : میرے بارے میں میرے بندے کا جو گمان ہو میں اس کے ساتھ ( مطابق ہوتا ) ہوں اور وہ مجھے جہاں ( بھی ) یاد کرے میں اس کے پاس ہوتا ہوں ۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر تم میں سے ایسے آدمی کی نسبت بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے چٹیل بیابان میں اپنی گم شدہ سواری ( سامان سمیت واپس ) مل جاتی ہے ۔ ( میرا ) جو بندہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے ، میں ایک ہاتھ اس کے قریب آ جاتا ہوں اور جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے ، میں دونوں ہاتھوں کی پوری لمبائی کے برابر اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو چلتا ہوا میری طرف آتا ہے ، میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں ۔
حدیث 6953 — صحيح مسلم 50:2
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ أَحَدِكُمْ بِضَالَّتِهِ إِذَا وَجَدَهَا ‏"‏ ‏.‏
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ یقینا تم میں سے کسی کے توبہ کرنے پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا تم میں سے کوئی شخص اپنی گم شدہ سواری ( واپس ) پا کر خوش ہوتا ہے ۔
حدیث 6954 — صحيح مسلم 50:3
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ ‏.‏
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی روایت کی ۔
حدیث 6955 — صحيح مسلم 50:4
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ، سُوَيْدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ أَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثَيْنِ حَدِيثًا عَنْ نَفْسِهِ وَحَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ فِي أَرْضٍ دَوِيَّةٍ مَهْلَكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ فَطَلَبَهَا حَتَّى أَدْرَكَهُ الْعَطَشُ ثُمَّ قَالَ أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ فَأَنَامُ حَتَّى أَمُوتَ ‏.‏ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى سَاعِدِهِ لِيَمُوتَ فَاسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ رَاحِلَتُهُ وَعَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَاللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ وَزَادِهِ ‏"‏ ‏.‏
جریر نے اعمش سے ، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے اور انہوں نے حارث بن سُوید سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے ہاں حاضر ہوا ، اس وقت وہ بیمار تھے ، انہوں نے ہمیں وہ حدیثیں بیان کیں ، ایک حدیث اپنی طرف سے اور ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے : " اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا وہ آدمی ( خوش ہوتا ہے ) جو ہلاکت خیز سنسان اور بے آب و گیاہ میدان میں ہو ، اس کے ساتھ اس کی سواری ہو ، اس ( سواری ) پر اس کا کھانا اور پانی لدا ہوا ہو ، وہ ( تھکا ہارا کچھ دیر کے لئے ) سو جائے اور جب جاگے تو سواری جا چکی ہو ۔ وہ ڈھونڈتا رہے یہاں تک کہ اسے شدید پیاس لگ جائے ، پھر وہ کہے : میں جہاں پر تھا ، اسی جگہ واپس جاتا ہوں اور سو جاتا ہوں ، یہاں تک کہ ( اس نیند کے عالم میں ) مجھے موت آ جائے ۔ وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کے لیے لیٹ جائے اور ( اچانک ) اس کی آنکھ کھلے تو اس کی وہ سواری جس پر اس کا زادراہ کھانا اور پانی تھا اس کے پاس کھڑی ہو ۔ تو اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا یہ آدمی اپنی سواری اور زادراہ سے خوش ہوتا ہے ۔
حدیث 6956 — صحيح مسلم 50:5
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ مِنْ رَجُلٍ بِدَاوِيَّةٍ مِنَ الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏
قطبہ بن عبدالعزیز نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : " اس آدمی کی نسبت ( زیادہ خوش ہوتا ہے ) جو زمین کے سنسان بے آب و گیاہ صحرا میں ہو ۔ " دوية کے بجائے داوية کا لفظ بولا ، معنی ایک ہی ہے ۔
حدیث 6957 — صحيح مسلم 50:6
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، حَدِيثَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ ‏.‏
ابواسامہ نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں عمارہ بن عمیر نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے حارث بن سوید سے سنا ، کہا : مجھے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے وہ حدیثیں بیان کیں ، ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( نقل کرتے ہوئے ) اور دوسری اپنی طرف سے ، چنانچہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ سے ( اس آدمی کی نسبت ) زیادہ خوش ہوتا ہے " ( آگے ) جریر کی حدیث کے مانند ۔
حدیث 6958 — صحيح مسلم 50:7
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ خَطَبَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ فَقَالَ ‏ "‏ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ حَمَلَ زَادَهُ وَمَزَادَهُ عَلَى بَعِيرٍ ثُمَّ سَارَ حَتَّى كَانَ بِفَلاَةٍ مِنَ الأَرْضِ فَأَدْرَكَتْهُ الْقَائِلَةُ فَنَزَلَ فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ وَانْسَلَّ بَعِيرُهُ فَاسْتَيْقَظَ فَسَعَى شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ سَعَى شَرَفًا ثَانِيًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ سَعَى شَرَفًا ثَالِثًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَأَقْبَلَ حَتَّى أَتَى مَكَانَهُ الَّذِي قَالَ فِيهِ فَبَيْنَمَا هُوَ قَاعِدٌ إِذْ جَاءَهُ بَعِيرُهُ يَمْشِي حَتَّى وَضَعَ خِطَامَهُ فِي يَدِهِ فَلَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ مِنْ هَذَا حِينَ وَجَدَ بَعِيرَهُ عَلَى حَالِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سِمَاكٌ فَزَعَمَ الشَّعْبِيُّ أَنَّ النُّعْمَانَ رَفَعَ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَمَّا أَنَا فَلَمْ أَسْمَعْهُ ‏.‏
ابو یونس نے سماک سے روایت کی ، کہا : حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ) بیان کیا : "" اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص کی نسبت زیادہ خوشی ہوتی ہے جس نے اپنا زادراہ اور اپنی پانی کی بڑی مشک کو اونٹ پر لادا ، پھر ( سفر پر ) چل پڑا ، یہاں تک کہ جب وہ ایک چٹیل زمین پر تھا تو اسے دوپہر کی نیند نے بے بس کر دیا ، وہ اترا اور ایک درخت کے نیچے دوپہر کے آرام کے لیے لیٹ گیا ، اس کی آنکھ لگ گئی اور اس کا اونٹ کسی طرف کو نکل گیا ، پھر وہ جاگا تو کوشش کر کے ایک ٹیلے پر چڑھا ( ہر طرف دیکھا ) لیکن اسے کچھ نظر نہ آیا ، پھر وہ مشقت اٹھا کر دوسرے ٹیلے پر چڑھا ، اسے کچھ نظر نہ آیا ، پھر ( مزید ) مشقت سے تیسرے ٹیلے پر چڑھا تو اسے کچھ نظر نہ آیا ، پھر وہ آیا ، اسی جگہ پہنچا جہاں دوپہر کا آرام کیا تھا ، وہ ( اس جگہ ) بیٹھا ہوا تھا کہ اس کا اونٹ چلتا ہوا ( واپس ) آ گیا اور اپنی مہار ( نکیل سے بندھی ہوئی رسی ) اس آدمی کے ہاتھ پر گرا دی ۔ ( اسے اٹھ کر مہار پکڑنے کی زحمت بھی نہ کرنی پڑی ) تو اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص کی نسبت زیادہ خوش ہوتا ہے جب یہ آدمی اپنی سواری کو اس کی اصل حالت میں ( زادراہ اور پانی سمیت صحیح سالم ) پا لیتا ہے ۔ "" سماک نے کہا : تو شعبی نے سمجھا کہ حضرت نعمان ( بن بشیر رضی اللہ عنہ ) نے یہ بات مرفوع ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) بیان کی ہے ، لیکن میں نے ان کو ( مرفوع بیان کرتے ) نہیں سنا ۔
حدیث 6959 — صحيح مسلم 50:8
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَجَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا وَقَالَ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ إِيَادٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَيْفَ تَقُولُونَ بِفَرَحِ رَجُلٍ انْفَلَتَتْ مِنْهُ رَاحِلَتُهُ تَجُرُّ زِمَامَهَا بِأَرْضٍ قَفْرٍ لَيْسَ بِهَا طَعَامٌ وَلاَ شَرَابٌ وَعَلَيْهَا لَهُ طَعَامٌ وَشَرَابٌ فَطَلَبَهَا حَتَّى شَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ مَرَّتْ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ فَتَعَلَّقَ زِمَامُهَا فَوَجَدَهَا مُتَعَلِّقَةً بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا شَدِيدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا وَاللَّهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ اور جعفر بن حمید نے ہمیں عبیداللہ بن ایاد بن لقیط سے ، انہوں نے ایاد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم اس شخص کی خوشی کے متعلق کیا کہتے ہو جس کی اونٹنی ایسی بے آب و گیاہ زمین میں ، جہاں کھانے کی کوئی چیز ہو نہ پینے کی ، اپنی نکیل کی رسی کھینچتی ہوئی ( کسی طرف ) نکل گئی ۔ اس کا کھانا اور پانی بھی اسی پر تھا ۔ اس شخص نے اسے ( بہت ) ڈھونڈا حتی کہ تھک کر ہار گیا ، پھر وہ ( اونٹنی چلتے چلتے ) ایک درخت کے ٹنڈ منڈ تنے کے پاس سے گزری تو اس کی نکیل کی رسی اس کے ساتھ اٹک گئی اور اس شخص نے اس ( اونٹنی ) کو اس ( تنے ) کے ساتھ لگی کھڑی پا لیا؟ "" ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول! ( اس شخص کی خوشی ) بے پناہ ہو گی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا یہ شخص اپنی سواری کو پا کر ہوتا ہے ۔ "" جعفر نے کہا : ہمیں عبیداللہ بن یاد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ۔
حدیث 6960 — صحيح مسلم 50:9
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، - وَهُوَ عَمُّهُ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلاَةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ ‏.‏ أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ ‏"‏ ‏.‏
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور وہ ( حضرت انس رضی اللہ عنہ ) ان کے چچا ہیں ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر ، جب وہ ( بندہ ) اس کی طرف توبہ کرتا ہے ، تم میں سے کسی ایسے شخص کی نسبت کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں اپنی سواری پر ( سفر کر رہا ) تھا تو وہ اس کے ہاتھ سے نکل ( کر گم ہو ) گئی ، اس کا کھانا اور پانی اسی ( سواری ) پر ہے ۔ وہ اس ( کے ملنے ) سے مایوس ہو گیا تو ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سائے میں لیٹ گیا ۔ وہ اپنی سواری ( ملنے ) سے ناامید ہو چکا تھا ۔ وہ اسی عالم میں ہے کہ اچانک وہ ( آدمی ) اس کے پاس ہے ، وہ ( اونٹنی ) اس کے پاس کھڑی ہے ، اس نے اس کو نکیل کی رسی سے پکڑ لیا ، پھر بے پناہ خوشی کی شدت میں کہہ بیٹھا ، اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں ۔ خوشی کی شدت کی وجہ سے غلطی کر گیا ۔
حدیث 6961 — صحيح مسلم #6961
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ إِذَا اسْتَيْقَظَ عَلَى بَعِيرِهِ قَدْ أَضَلَّهُ بِأَرْضِ فَلاَةٍ ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ، مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
ہداب بن خالد نے کہا : ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ سے ، تم میں سے کسی ایسے شخص کی نسبت ہمیں زیادہ خوشی ہوتی ہے جب کٹیل صحرا میں اس کے ( اس ) اونٹ ( کے آں ے ) پر اس کی آنکھ کھلتی ہے جسے وہ صحرا میں گم کر چکا ہوتا ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔