نافع نے حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نےکہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا : " جب تم میں سے کوئی شخص جمعے کےلئے آنے کاارادہ کرے تو وہ غسل کرے ۔
لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمیر سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہوئے فرمایا : " تم میں سے جو جمعے کے لئے آئے غسل کرے ۔
حدیث 1953 — صحيح مسلم 7:3
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ .
ابن جریج نے کہا : ابن شہاب نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دونوں بیٹوں سالم اورعبداللہ سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ( سابقہ حدیث ) کے مانندروایت کی ۔
حدیث 1954 — صحيح مسلم 7:4
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمِثْلِهِ .
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ سے اورانھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ہے ۔
حدیث 1955 — صحيح مسلم 7:5
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، . أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَادَاهُ عُمَرُ أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ فَقَالَ إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ . قَالَ عُمَرُ وَالْوُضُوءَ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ .
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعے کے دن لوگوں کوخطاب فرمارہےتھے ( کہ اسی اثناء میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے ایک شخص داخل ہوا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں آوازدی : ( آنےکی ) یہ کون سی گھڑی ہے؟انھوں نے کہا : میں آج مصروف ہوگیا ، گھر لوٹتے ہیں میں نے اذان سنی اور صرف وضو کیا ( اورحاضر ہوگیاہوں ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اور وہ بھی ( صرف ) وضو؟حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرنے کاحکم دیتے تھے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( ایک بار ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعے کے دن لوگوں کو خطبہ ارشادفرمارہے تھے کہ اسی دوران میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان پر تعریف کی ( اعتراض کیا ) اور کہا : لوگوں کو کیا ہوا کہ اذان کےبعد دیر لگاتے ہیں؟حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں نے اذان سننے پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ وضو کیا ہے اورحاضر ہوگیاہوں ، اس پر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اور وہ بھی ( صرف ) وضو؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا : " جب تم میں سے کوئی جمعے کے لئے آئے تو وہ غسل کرے؟
حدیث 1957 — صحيح مسلم 7:7
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ، بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ " .
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جمعے کے دن ہر بالغ شخص پر غسل کرنا واجب ہے ۔
حدیث 1958 — صحيح مسلم 7:8
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَنَازِلِهِمْ مِنَ الْعَوَالِي فَيَأْتُونَ فِي الْعَبَاءِ وَيُصِيبُهُمُ الْغُبَارُ فَتَخْرُجُ مِنْهُمُ الرِّيحُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا " .
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جمعے کے لیے لو گ اپنے گھروں سے اور عوالی سے باری باری آتے تھے وہ اونی عبائیں پہنے ہو تے تھے اور ( راستے میں ) ان پر گردو غبار بھی پڑتا تھا جس کی وجہ سے ان سے بو پھوٹتی تھی ان میں سے ایک انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف فر ما تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کیا ہی اچھا ہو کہ تم لو گ اس دن کے لیے صاف ستھرے ہو جا یا کرو ۔
عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : لو گ کا م کا ج والے تھے ان کے نوکر چاکر نہ ہو تے تھے وہ ایسے تھے کہ ان سے بو آتی تھی تو ان سے کہا گیا : کیا ہی اچھا ہو کہ تم جمعے کے دن نہا لیا کرو ۔
سعید بن ابی بلال اور بکیر بن اشج نے ابو بکر بن منکد ر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو بن سلیم سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" جمعے کے دن غسل کرنا ہر بالگ شخص پر واجب ہے اور مسواک کرنا بھی اور ( ہر شخص ) اپنی استطاعت کے مطا بق خوشبو استعمال کرے ۔ "" البتہ بکیر نے ( سند میں ) عبد الرحمان کا ذکر نہیں کیا اورخوشبوکے بارے میں کہا : "" چاہے وہ عورت کی خوشبو کیوں نہ ہو ۔