قرآني·Qurani
اردو

الجمعة

93 احادیث · #1951–2043

حدیث 2021 — صحيح مسلم 7:71
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ ‏ "‏ أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ. فَقَالَ: «ارْكَعْ»
ابن جریج نے کہا : ہمیں عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ایک آدمی آیا جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے ، جمعے کے دن خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو آپ نے اس سے پوچھا : " کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " پڑھ لو ۔
حدیث 2022 — صحيح مسلم 7:72
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَدْ خَرَجَ الإِمَامُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے عمرو ( بن دینار ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے میں فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص جمعے کے دن آئے جبکہ امام ( گھر سے ) نکل ( کر ) آچکا ہے تو وہ دو رکعت پڑھ لے ۔
حدیث 2023 — صحيح مسلم 7:73
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَعَدَ سُلَيْكٌ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُمْ فَارْكَعْهُمَا ‏"‏ ‏.‏
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ سلیک غطفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعے کے دن آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ہوئے تھے تو سلیک نماز پڑھنے سے پہلے ہی بیٹھ گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : " کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ " انھوں نے کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اٹھو اور دو ر کعتیں پڑھو ۔
حدیث 2024 — صحيح مسلم 7:74
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، - قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَجَلَسَ فَقَالَ لَهُ ‏ "‏ يَا سُلَيْكُ قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا - ثُمَّ قَالَ - إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا ‏"‏ ‏.‏
ابو سفیان ( طلحہ بن نافع واسطی ) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : سلیک غطفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعے کے دن ( اس وقت ) آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو وہ بیٹھ گئے ۔ آپ نے ان سے کہا : " اے سلیک!ا ٹھ کر دو رکعتیں پڑھو اور ان میں سے اختصار برتو ۔ " اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! " جب تم میں سے کوئی جمعے کےدن آئے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے اور ان میں اختصار کرے ۔
حدیث 2025 — صحيح مسلم 7:75
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لاَ يَدْرِي مَا دِينُهُ - قَالَ - فَأَقْبَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَىَّ فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ حَسِبْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا - قَالَ - فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّ آخِرَهَا ‏.‏
حضرت ابو رفاعہ ( تمیم بن اُسید عدوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( اس وقت ) پہنچا جبکہ آپ خطبہ دے رہے تھے ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ایک پردیسی آدمی ہے اپنے دین کے بارے میں پوچھنے آیا ہے اسے معلوم نہیں کہ ا س کادین کیا ہے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور اپنا خطبہ چھوڑا ، یہاں تک کہ میرے پاس پہنچ گئے ۔ ایک کرسی لائی گئی میرے خیال میں اس کے پائے لوہے کے تھے ، کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کو سکھایا تھا اس میں سے مجھے سکھانے لگے پھر اپنے خطبے کے لئے بڑھے اور اس کا آخری حصہ مکمل فرمایا ۔
حدیث 2026 — صحيح مسلم 7:76
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْجُمُعَةَ فَقَرَأَ بَعْدَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ ‏{‏ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ‏}‏ - قَالَ - فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏.‏
سلیمان جو ہلال ( تمیمی ) کے بیٹے ہیں ، انھوں نے جعفر ( صادق ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے ابو رافع ( مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے عبیداللہ ) سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : مروان نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا اور خود مکہ چلا گیا ۔ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں جمعے کی نماز پڑھائی اور ( پہلی رکعت میں ) سورہ جمعہ پڑھنے کے بعد دوسری رکعت میں إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ پڑھی اور کہا : جب ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعے کی نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان کے پاس جاپہنچا اور ان سے کہا : آپ نے وہ دو سورتیں پڑھی ہیں جو علی ابن طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے ۔ ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعے کے دن یہ سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے ۔
حدیث 2027 — صحيح مسلم 7:77
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - كِلاَهُمَا عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ ‏.‏ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي، رِوَايَةِ حَاتِمٍ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي السَّجْدَةِ الأُولَى وَفِي الآخِرَةِ ‏{‏ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ‏}‏ وَرِوَايَةُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِثْلُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ ‏.‏
حاتم بن اسماعیل اور عبدالعزیز دراوردی دونوں نے ( اپنی اپنی سندکے ساتھ ) جعفر سے روایت کی ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مروان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قائم مقام گورنر بنایا ۔ ۔ ۔ آگے اسی کے مانندہے ، سوائے اس کے کہ حاتم کی روایت ( ان الفاظ ) میں ہے : انھوں نے پہلی رکعت میں سورہ جمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ ۔ عبدالعزیز کی روایت سلیمان بن بلال کی ( سابقہ ) ر وایت کی طرح ہے ۔
حدیث 2028 — صحيح مسلم 7:78
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، - عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ، سَالِمٍ مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِـ ‏{‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى‏}‏ وَ ‏{‏ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ‏}‏ قَالَ وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ يَقْرَأُ بِهِمَا أَيْضًا فِي الصَّلاَتَيْنِ
(جریر نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت نعمان بن بشیر کے آزاد کردہ غلام حبیب بن سالم سے اور انھوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعے میں سَبِّحِ اسْمَ رَ‌بِّكَ الْأَعْلَى اور ) هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ پڑھتے ۔ کہا : اور اگر عید اور جمعہ ایک ہی دن اکھٹے ہوجاتے تو آپ یہی دو سورتیں دونوں نمازوں میں پڑھتے تھے ۔
حدیث 2029 — صحيح مسلم 7:79
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
ابو عوانہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے اسی سند کے ساتھ ( اسی کے مانند ) ر وایت کی ۔
حدیث 2030 — صحيح مسلم 7:80
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَسْأَلُهُ أَىَّ شَىْءٍ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ سِوَى سُورَةِ الْجُمُعَةِ فَقَالَ كَانَ يَقْرَأُ ‏{‏ هَلْ أَتَاكَ‏}‏
عبیداللہ بن عبداللہ نے کہا : ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخط لکھ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کے دن سورہ جمعہ کے علاوہ ( اور ) کون سی سورت پڑھی؟انھوں نے جواب دیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ پڑھا کرتے تھے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔