قرآني·Qurani
اردو

الجنائز

140 احادیث · #2123–2262

حدیث 2233 — صحيح مسلم 11:109
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، سَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلاً خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيِّتَ ‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا ‏.‏
ابن وہب نے کہا : مجھے معاویہ بن صالح نے حبیب بن عبید سے خبر دی ، انھوں نے اس حدیث کو جبیر بن نفیر سے سنا ، وہ کہتے تھے : میں نے حضر ت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پڑھایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں اسے یاد کرلیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : "" اے اللہ!اسے بخش دے اس پر رحم فرما اور اسے عافیت دے ، اسے معاف فرما اور اس کی باعزت ضیافت فرما اور اس کے داخل ہونے کی جگہ ( قبر ) کو وسیع فرما اور اس ( کےگناہوں ) کو پانی ، برف اور اولوں سے دھو دے ، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا اور اسے اس گھر کے بدلے میں بہتر گھر ، اس کے گھر والوں کے بدلے میں بہتر گھر والے اور اس کی بیوی کے بدلے میں بہتر بیوی عطا فرما اور اس کو جنت میں داخل فرما اور قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے اپنی پناہ عطا فرما ۔ "" کہا : یہاں تک ہوا کہ میرے دل میں آرزو پیدا ہوئی کہ یہ میت میں ہوتا! ( معاویہ نے ) کہا : مجھے عبدالرحمان بن جبیر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حبیب بن عبیدکی ) اسی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حدیث 2234 — صحيح مسلم 11:110
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ، صَالِحٍ بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ ‏.‏
عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پڑھایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : "" "" اے اللہ!اسے بخش دے اس پر رحم فرما اور اسے عافیت دے ، اسے معاف فرما اور اس کی باعزت ضیافت فرما اور اس کے داخل ہونے کی جگہ ( قبر ) کو وسیع فرما اور اس ( کےگناہوں ) کو پانی ، برف اور اولوں سے دھو دے ، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا اور اسے اس گھر کے بدلے میں بہتر گھر ، اس کے گھر والوں کے بدلے میں بہتر گھر والے اور اس کی بیوی کے بدلے میں بہتر بیوی عطا فرما اور اس کو جنت میں داخل فرما اور قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے اپنی پناہ عطا فرما ۔ "" حضرت عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس میت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی وجہ سے میں نے تمنا کی کہ کاش وہ میت میں ہوتا
حدیث 2235 — صحيح مسلم 11:112
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ، ذَكْوَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَصَلَّى عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ وَهِيَ نُفَسَاءُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلصَّلاَةِ عَلَيْهَا وَسَطَهَا ‏.‏
عبدالوارث بن سعیدنے حسین بن ذکوان سے خبردی ، انھوں نے کہا : مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی جو حالت نفاس میں وفات پاگئیں تھیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے اس کے ( سامنے ) درمیان میں کھڑے ہوئے ۔
حدیث 2236 — صحيح مسلم 11:113
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، كُلُّهُمْ عَنْ حُسَيْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرُوا أُمَّ كَعْبٍ ‏.‏
ابن مبارک ، یزید بن ہارون اور فضل بن موسیٰ سب نے حسین سے اسی ( سابقہ ) سند کے ساتھ روایت بیان کی اور انھوں نے ام کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( کا نام ) ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 2237 — صحيح مسلم 11:114
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ لَقَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُلاَمًا فَكُنْتُ أَحْفَظُ عَنْهُ فَمَا يَمْنَعُنِي مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ أَنَّ هَا هُنَا رِجَالاً هُمْ أَسَنُّ مِنِّي وَقَدْ صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ وَسَطَهَا ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلاَةِ وَسَطَهَا ‏.‏
محمد بن مثنیٰ اور عقبہ بن مکرم عمی نے کہا : ہمیں ابن ابی عدی نے حسین ( بن ذکوان ) سے حدیث بیان کی اور انھوں نے عبداللہ بن بریدہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نوعمر لڑکا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( احادیث سن کر ) یاد کیا کر تا تھا اور مجھے بات کرنے سے اس کے سوا کوئی چیز نہ روکتی کہ یہاں بہت لوگ ہیں جو عمر میں مجھ سےبڑے ہیں ، میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک عورت کی نماز جنازہ ادا کی جوحالت نفاس میں وفات پاگئیں تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اس کے ( سامنے ) درمیان میں کھڑے ہوئے تھے ۔ ابن مثنیٰ کی روایت میں ہے ( حسین نے ) کہا : مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حدیث سنائی اور کہا : آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کےلئے اس کے ( سامنے ) درمیان میں کھڑے ہوئے تھے ۔
حدیث 2238 — صحيح مسلم 11:115
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ، سَمُرَةَ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِفَرَسٍ مُعْرَوْرًى فَرَكِبَهُ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ جَنَازَةِ ابْنِ الدَّحْدَاحِ وَنَحْنُ نَمْشِي حَوْلَهُ ‏.‏
مالک بن مغول سے نے سماک بن حرب سے اور انھوں نے جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بغیرزین کے ) ننگی پشت والا ایک گھوڑا لایاگیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن دحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازے سے لوٹے تو اس پر سوار ہوگئے جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد ( پیدل ) چل رہے تھے ۔
حدیث 2239 — صحيح مسلم 11:116
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ عُرْىٍ فَعَقَلَهُ رَجُلٌ فَرَكِبَهُ فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ - قَالَ - فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ - أَوْ مُدَلًّى - فِي الْجَنَّةِ لاِبْنِ الدَّحْدَاحِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ شُعْبَةُ ‏"‏ لأَبِي الدَّحْدَاحِ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے سماک بن حرب سے اور انھوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح کی نماز جنازہ پڑھائی ، پھر ننگی پشت والا ( بغیرزین کے ) ایک گھوڑا لایا گیا ، ایک آدمی نے اسے ( پکڑ کر ) روکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوگئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کردلکی چال چلنے لگا ، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےپیچھے تیز قدموں کے ساتھ چل رہے تھے ، کہا : لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابن دحداح کے لئے جنت میں کتنے لٹکے ہوئے ۔ ۔ ۔ یا جھکے ہوئے ۔ ۔ ۔ خوشے ہیں! " یا شعبہ نے ( ابن دحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بجائے ) " ابو دحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے کہا :
حدیث 2240 — صحيح مسلم 11:117
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمِسْوَرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ، مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي هَلَكَ فِيهِ الْحَدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَىَّ اللَّبِنَ نَصْبًا كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی اس بیماری کے دوران میں جس میں وہ فوت ہوگئے تھے ، ( اپنے لواحقین سے ) کہا : میرے لئے لحد تیار کرنا اور میرے اوپر اچھے طریقے سے کچی اینٹیں لگانا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) قبر مبارک ) کے ساتھ کیا گیا ہے ۔
حدیث 2241 — صحيح مسلم 11:118
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، وَوَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ ‏.‏ قَالَ مُسْلِمٌ أَبُو جَمْرَةَ اسْمُهُ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ وَأَبُو التَّيَّاحِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ مَاتَا بِسَرَخْسَ ‏.‏
ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں سرخ موٹی چادر رکھی ( بچھائی ) گئی تھی ۔ امام مسلم ؒ نے کہا : ابو جمرہ کا نام نصر بن عمران اور ابو تیاح کا نام یزید بن حمید ہے ۔ ( ان کا نام سند میں نہیں ) یہ ایک زائد فائدہ ہے جس کا اضافہ امام مسلم ؒ نے غالباً کسی شاگرد کے سوال پر کیا ) ان دونوں نے سرخس میں وفات پائی ۔
حدیث 2242 — صحيح مسلم 11:119
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، - فِي رِوَايَةِ أَبِي الطَّاهِرِ - أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيَّ، حَدَّثَهُ - وَفِي، رِوَايَةِ هَارُونَ - أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ، شُفَىٍّ حَدَّثَهُ قَالَ كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ بِرُودِسَ فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا فَأَمَرَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا ‏.‏
اثامہ بن شفی نے بیان کیا ، کہا : ہم سرزمین روم کے جزیرہ رودس ( Rhodes ) میں فضالہ بن عبید ( اوسی انصاری ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہمارا ایک دوست وفات پاگیا ۔ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی قبر کے بارے میں حکم دیا تو اس کو برابرکردیا گیا ، پھر انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( قبروں ) کو ( زمین کے ) برابر کرنے کا حکم دیتے تھے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔