ثابت نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت میں سے جس حصے کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ باقی بچ جائے وہ باقی بچ جائے گا ، پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ، جہاں سے چاہے گا ، مخلوق پیدا کردے گا ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن موت کو اس طرح لایاجائے گا جیسے وہ سیاہ وسفید مینڈھا ہو ۔ ابو کریب نے مزید یہ کہا ۔ چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کردیا جائے گا ۔ باقی ماندہ حدیث ( کے الفاظ ) میں دونوں متفق ہیں ۔ تو ( اعلان کرنے والا پکار کر ) کہے گا : اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے : ہاں ۔ یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر کہا جائے گا : اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے ، ہاں ، یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے ذبح کردیا جائے گا ۔ فرمایا : پھر کہاجائے گا : اے جنت والو! ( اب ) دوام ہی دوام ہے موت نہیں ہےاور اے جہنم والو! ( اب ) دوام ہی دوام ہے ، موت نہیں ہے ۔ " کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) پڑھی : " ان کو حسرت کے دن سے ڈرائیے جب معاملہ نپٹا دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے ۔ " اور آپ نے اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا ۔
حدیث 7182 — صحيح مسلم 53:51
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي، سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ قِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ " . وَلَمْ يَقُلْ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَلَمْ يَذْكُرْ أَيْضًا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الدُّنْيَا .
ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو صالح سے ، اور انھوں نے ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں داخل کردیے جائیں گے ۔ تو کہا جائے گا اے اہل جنت! " اس کے بعد ابو معاویہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا ، مگر انھوں نے کہا : " یہی ( اسی کے مطابق ) ہے اس ( اللہ ) عزوجل کا فرمان ۔ " اورانھوں نے نہیں کہا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) پڑھی اور ( اسی طرح ) انھوں نے یہ بھی ذکر نہیں کیا کہ آپ کے اپنے ہاتھ سے د نیا کی طرف اشارہ فرمایا ۔
نافع نے ہمیں حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کرے گا اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کرے گا ۔ پھر ان کےدرمیان ایک اعلان کرنے والا کھڑا ہوکر اعلان کرے گا : اے اہل جنت!اب موت نہیں ہے ، اور اے اہل دوزخ !اب موت نہیں ہے ہر شخص جہاں ہے وہیں ہمیشہ رہنے والا ہے ۔
ابن وہب نے کہا : مجھے عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نےحدیث بیان کی کہ انھیں ان کے والد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو ذبح کیا جائے گا اور اس کو جنت اوردوزخ کے درمیان کھڑا کیاجائے گا پھر اسے ذبح کردیا جائے گا ، پھر اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : اے جنت والو! ( اب ) موت نہیں ہے ( اور ) اے جہنم والو! ( اب ) موت نہیں ہے ۔ اہل جنت کو اپنی خوشی پر مزید خوشی حاصل ہوجائے گی اور جہنم و الوں کو اپنے غم پر مزید غم لاحق ہوگا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کافر کی داڑھ یا ( فرمایا : ) کافر کا کچلی دانت اُحد پہاڑ جتنا ہوجائے گا اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن چلنے کی مسافت کے برابر ہوگی ۔
ابو کریب اور احمد بن عمر وکیعی نےہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابن فضیل نے اپنے والد سے ، انھوں نے ابوحازم سے اور انھوں نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے اسے مرفوع بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جہنم میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان تیز رفتار سوار کی تین دن کی مسافت کےبرابر فاصلہ ہوگا ۔ "" وکیعی نے "" جہنم میں "" کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
حدیث 7187 — صحيح مسلم 53:56
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ " . قَالُوا بَلَى . قَالَ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ " . ثُمَّ قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ " . قَالُوا بَلَى . قَالَ " كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ " .
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے معبد بن خالد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمھیں اہل جنت کے بارے میں خبر نہ دوں؟انھوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جاتاہے ۔ ( مگر ایسا کہ ) اگر ( کسی معاملے میں ) اللہ پر قسم کھا لے تو وہ اس کی قسم پوری کردے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! " کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟ " لوگوں نے کہا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہراجذ ، مال اکھٹا کرنے والا اسے خرچ نہ کرنے والا اور تکبر اختیار کرنے والا ۔
سفیان نے ہمیں معبد بن خالد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمھیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ہر کمزور جسے کمزور اور لاچار سمجھا جاتا ہے ۔ ( لیکن ایساکہ ) اگر اللہ پر ( اعتماد کرتے ہوئے ) قسم کھالے تو وہ اسے پوری کردے ۔ کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟ہر مال سمیٹنے والا اور اسے خرچ نہ کرنے والا ، بد اصل ، متکبر ۔