قرآني·Qurani
اردو

الجهاد والسير

182 احادیث · #4519–4700

حدیث 4619 — صحيح مسلم 32:101
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُنَيْنًا فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُو ثَنِيَّةً فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ فَتَوَارَى عَنِّي فَمَا دَرَيْتُ مَا صَنَعَ وَنَظَرْتُ إِلَى الْقَوْمِ فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَى فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَلَّى صَحَابَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا وَعَلَىَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا مُرْتَدِيًا بِالأُخْرَى فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِي فَجَمَعْتُهُمَا جَمِيعًا وَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْهَزِمًا وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ رَأَى ابْنُ الأَكْوَعِ فَزَعًا ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَقَالَ ‏"‏ شَاهَتِ الْوُجُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلاَّ مَلأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حنین کی جنگ لڑی ، جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو میں آگے بڑھا پھر میں ایک گھاٹی پر چڑھ جاتا ہوں ، میرے سامنے دشمن کا آدمی آیا تو میں اس پر تیر پھینکتا ہوں ، وہ مجھ سے چھپ گیا ، اس کے بعد مجھے معلوم نہیں اس نے کیا کیا ۔ میں نے ( اُن ) لوگوں کا جائزہ لیا تو دیکھا وہ ایک دوسری گھاٹی کی طرف ظاہر ہوئے ، ان کا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا ٹکراؤ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی پیچھے ہٹ گئے اور میں بھی شکست خودرہ لوٹتا ہوں ۔ مجھ ( میرے جسم ) پر دو چادریں تھیں ، ان میں سے ایک کا میں نے تہبند باندھا ہوا تھا اور دوسری کو اوڑھ رکھا تھا تو میرا تہبند کھل گیا ، میں نے ان دونوں کو اکٹھا کیا اور شکست خوردگی کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، آپ اپنے سفید خچر پر تھے ۔ ( مجھے دیکھ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اکوع کا بیٹا گھبرا کو لوٹ آیا ہے ۔ " جب وہ ہر طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہوئے تو آپ خچر سے نیچے اترے ، زمین سے مٹی کی ایک مٹھی لی ، پھر اسے سامنے کی طرف سے ان کے شہروں پر پھینکا اور فرمایا : " چہرے بگڑ گئے ۔ " اللہ نے ان میں سے کسی انسان کو پیدا نہیں کیا تھا مگر اس ایک مٹھی سے اس کی آنکھیں بھر دیں ، سو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے ، اللہ نے اسی ( ایک مٹھی خاک ) سے انہیں شکست دی اور ( بعد ازاں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اموالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کیے
حدیث 4620 — صحيح مسلم 32:102
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الأَعْمَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَقَالَ ‏"‏ إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَصْحَابُهُ نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَتِحْهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ ‏"‏ ‏.‏ فَغَدَوْا عَلَيْهِ فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا اور ان میں سے کسی کی جان نہ لے سکے تو آپ نےفرمایا : " ان شاءاللہ ہم کل لوٹ جائیں گے ۔ " آپ کے صحابہ نے کہا : ہم لوٹ جائیں جبکہ ہم نے اسے فتح نہیں کیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " صبح جنگ کے لیے نکلو ۔ " وہ صبح نکلے تو انہیں زخم لگے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " ہم کل واپس لوٹ جائیں گے ۔ " کہا : تو انہیں یہ بات اچھی لگی ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے
حدیث 4621 — صحيح مسلم 32:103
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَاوَرَ حِينَ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ إِيَّانَا تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ لأَخَضْنَاهَا وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا - قَالَ - فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ فَانْطَلَقُوا حَتَّى نَزَلُوا بَدْرًا وَوَرَدَتْ عَلَيْهِمْ رَوَايَا قُرَيْشٍ وَفِيهِمْ غُلاَمٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ فَأَخَذُوهُ فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ ‏.‏ فَيَقُولُ مَا لِي عِلْمٌ بِأَبِي سُفْيَانَ وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ ‏.‏ فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ فَقَالَ نَعَمْ أَنَا أُخْبِرُكُمْ هَذَا أَبُو سُفْيَانَ ‏.‏ فَإِذَا تَرَكُوهُ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ عِلْمٌ وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ فِي النَّاسِ ‏.‏ فَإِذَا قَالَ هَذَا أَيْضًا ضَرَبُوهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ انْصَرَفَ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَضْرِبُوهُ إِذَا صَدَقَكُمْ وَتَتْرُكُوهُ إِذَا كَذَبَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى الأَرْضِ هَا هُنَا وَهَا هُنَا قَالَ فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی آمد کی خبر ملی تو آپ نے مشورہ کیا ، کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی تو آپ نے ان سے اعراض فرمایا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی تو آپ نے ان سے اعراض فرمایا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی تو آپ نے ان سے بھی اعراض فرمایا ۔ اس پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! کیا آپ ہم سے ( مشورہ کرنا ) چاہتے ہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آپ ہمیں ( اپنے گھوڑے ) سمندر میں ڈال دینے کا حکم دیں تو ہم انہیں ڈال دیں گے اور اگر آپ ہم کو انہیں ( معمورہ اراضی کے آخری کونے ) برک غماد تک دوڑانے کا حکم دیں تو ہم یہی کریں گے ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا ، اور وہ چل پڑے حتی کہ بدر میں پڑاؤ ڈالا ۔ ان کے پاس قریش کے پانی لانے والے اونٹ آئے ، ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا تو انہوں نے اسے پکڑ لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے لگے تو وہ کہنے لگا : مجھے ابوسفیان کا تو پتہ نہیں ہے ، البتہ ابوجہل ، عتبہ ، شیبہ ، اور امیہ بن خلف یہاں ( قریب موجود ) ہیں ۔ جب اس نے یہ کہا ، وہ اسے مارنے لگے ۔ تو اس نے کہا : ہاں ، تمہیں بتاتا ہوں ، ابوسفیان ادھر ہے ۔ جب انہوں نے اسے چھوڑا اور ( دوبارہ ) پوچھا ، تو اس نے کہا : ابوسفیان کا تو مجھے علم نہیں ہے ، البتہ ابوجہل ، عتبہ ، شیبہ ، اور امیہ بن خلف یہاں لوگوں میں موجود ہیں ۔ جب اس نے یہ ( پہلے والی ) بات کی تو وہ اسے مارنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، آپ نے جب یہ صورت حال دیکھی تو آپ ( سلام پھیر کر ) پلٹے اور فرمایا : "" اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب وہ سچ کہتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب وہ تم سے جھوٹ بولتا ہے تو اسے چھوڑ دیتے ہو ۔ "" کہا : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ فلاں کے مرنے کی جگہ ہے ۔ "" آپ زمین پر اپنا ہاتھ رکھتے تھے ( اور فرماتے تھے ) یہاں اور یہاں ۔ کہا : ان میں سے کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی جگہ سے ( ذرہ برابر بھی ) اِدھر اُدھر نہیں ہوا
حدیث 4622 — صحيح مسلم 32:104
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ فَكَانَ يَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ الطَّعَامَ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَى رَحْلِهِ فَقُلْتُ أَلاَ أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوَهُمْ إِلَى رَحْلِي فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعَشِيِّ فَقُلْتُ الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ فَقَالَ سَبَقْتَنِي ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَدَعَوْتُهُمْ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَلاَ أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ثُمَّ ذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ فَقَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الأُخْرَى وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي كَتِيبَةٍ - قَالَ - فَنَظَرَ فَرَآنِي فَقَالَ ‏"‏ أَبُو هُرَيْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ يَأْتِينِي إِلاَّ أَنْصَارِيٌّ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ غَيْرُ شَيْبَانَ فَقَالَ ‏"‏ اهْتِفْ لِي بِالأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَطَافُوا بِهِ وَوَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا وَأَتْبَاعًا ‏.‏ فَقَالُوا نُقَدِّمُ هَؤُلاَءِ فَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَىْءٌ كُنَّا مَعَهُمْ ‏.‏ وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ثُمَّ قَالَ ‏"‏ حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَمَا شَاءَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدًا إِلاَّ قَتَلَهُ وَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا - قَالَ - فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لاَ قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَجَاءَ الْوَحْىُ وَكَانَ إِذَا جَاءَ الْوَحْىُ لاَ يَخْفَى عَلَيْنَا فَإِذَا جَاءَ فَلَيْسَ أَحَدٌ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَنْقَضِيَ الْوَحْىُ فَلَمَّا انْقَضَى الْوَحْىُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا قَدْ كَانَ ذَاكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَلاَّ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ وَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ وَيَقُولُونَ وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلاَّ الضِّنَّ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى دَارِ أَبِي سُفْيَانَ وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ - قَالَ - وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ - قَالَ - فَأَتَى عَلَى صَنَمٍ إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ كَانُوا يَعْبُدُونَهُ - قَالَ - وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْسٌ وَهُوَ آخِذٌ بِسِيَةِ الْقَوْسِ فَلَمَّا أَتَى عَلَى الصَّنَمِ جَعَلَ يَطْعُنُهُ فِي عَيْنِهِ وَيَقُولُ ‏"‏ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَى الصَّفَا فَعَلاَ عَلَيْهِ حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ ‏.‏
شیبان بن فروخ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ثابت بنانے نے عبداللہ بن رباح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : کئی وفود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، یہ رمضان کا مہینہ تھا ۔ ( عبداللہ بن رباح نے کہا : ) ہم ایک دوسرے کے لیے کھانا تیار کرتے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو ہمیں اکثر اپنی قیام گاہ پر بلاتے تھے ۔ ایک ( دن ) میں نے کہا : میں بھی کیوں نہ کھانا تیار کروں اور سب کو اپنی قیام گاہ پر بلاؤں ۔ میں نے کھانا بنانے کا کہہ دیا ، پھر شام کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا : آج کی رات میرے یہاں دعوت ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تو نے مجھ سے پہلے کہہ دیا ۔ ( یعنی آج میں دعوت کرنے والا تھا ) میں نے کہا : ہاں ، پھر میں نے ان سب کو بلایا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے انصار کی جماعت! کیا میں تمہیں تمہارے متعلق احادیث میں سے ایک حدیث نہ بتاؤں؟ پھر انہوں نے مکہ کے فتح ہونے کا ذکر کیا ۔ اس کے بعد کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ مکہ میں داخل ہو گئے ، پھر دو میں سے ایک بازو پر زبیر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور دوسرے بازو پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ، ابوعبیدہ ( بن جراح ) رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کا سردار کیا جن کے پاس زرہیں نہ تھیں ۔ انہوں نے گھاٹی کے درمیان والا راستہ اختیار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دستے میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا : "" ابوہریرہ! "" میں نے کہا : حاضر ہوں ، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میرے ساتھ انصاری کے سوا کوئی نہ آئے ۔ "" شیبان کے علاوہ دوسرے راویوں نے اضافہ کیا : آپ نے فرمایا : "" میرے لیے انصار کو آواز دو ۔ "" انصار آپ کے اردگرد آ گئے ۔ اور قریش نے بھی اپنے اوباش لوگوں اور تابعداروں کو اکٹھا کیا اور کہا : ہم ان کو آگے کرتے ہیں ، اگر کوئی چیز ( کامیابی ) ملی تو ہم بھی ان کے ساتھ ہیں اور اگر ان پر آفت آئی تو ہم سے جو مانگا جائے گا دے دیں گے ۔ ( دیت ، جرمانہ وغیرہ ۔ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم قریش کے اوباشوں اور تابعداروں ( ہر کام میں پیروی کرنے والوں ) کو دیکھ رہے ہو؟ "" پھر آپ نے دونوں ہاتھوں سے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر ( مارتے ہوئے ) اشارہ فرمایا : "" ( ان کا صفایا کر دو ، ان کا فتنہ دبا دو ) ، پھر فرمایا : "" یہاں تک کہ تم مجھ سے صفا پر آ ملو ۔ "" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر ہم چلے ، ہم میں سے جو کوئی ( کافروں میں سے ) جس کسی کو مارنا چاہتا ، مار ڈالتا اور کوئی ہماری طرف کسی چیز ( ہتھیار ) کو آگے تک نہ کرتا ، یہاں تک کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول! قریش کی جماعت ( کے خون ) مباح کر دیے گئے اور آج کے بعد قریش نہ رہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنا سابقہ بیان دہراتے ہوئے ) فرمایا : "" جو شخص ابوسفیان کے گھر کے اندر چلا جائے اس کو امن ہے ۔ "" انصار ایک دوسرے سے کہنے لگے : ان کو ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ) اپنے وطن کی الفت اور اپنے کنبے والوں پر شفقت آ گئی ہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اور وحی آنے لگی اور جب وحی آنے لگتی تھی تو ہم سے مخفی نہ رہتی ۔ جب وحی آتی تو وحی ( کا نزول ) ختم ہونے تک کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنی آنکھ نہ اٹھاتا تھا ، غرض جب وحی ختم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اے انصار کے لوگو! انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! ہم حاضر ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم نے یہ کہا : اس شخص ( کے دل میں ) اپنے گاؤں کی الفت آ گئی ہے ۔ "" انہوں نے کہا : یقینا ایسا تو ہوا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بفرمایا : "" ہرگز نہیں ، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت کی اور تمہاری طرف ( آیا ) اب میری زندگی بھی تمہاری زندگی ( کے ساتھ ) ہے اور موت بھی تمہارے ساتھ ہے ۔ "" یہ سن کر انصار روتے ہوئے آگے بڑھے ، وہ کہہ رہے تھے : اللہ تعالیٰ کی قسم! ہم نے کہا جو کہا محض اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شدید چاہت ( اور ان کی معیت سے محرومی کے خوف ) کی وجہ سے کہا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں ۔ "" پھر لوگ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف آ گئے اور لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجراسود کے پاس تشریف لے آئے اور اس کو چوما ، پھر بیت اللہ کا طواف کیا ، پھر آپ بیت اللہ کے پہلو میں ایک بت کے پاس آئے ، لوگ اس کی پوجا کیا کرتے تھے ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کمان تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک طرف سے پکڑا ہوا تھا ، جب آپ بت کے پاس آئے تو اس کی آنکھ میں چبھونے لگے اور فرمانے لگے : "" حق آ گیا اور باطل مٹ گیا ۔ "" جب اپنے طواف سے فارغ ہوئے تو کوہِ صفا پر آئے ، اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کی طرف نظر اٹھائی اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے لگے اور اللہ سے جو مانگنا چاہا وہ مانگنے لگے
حدیث 4623 — صحيح مسلم 32:105
وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ‏"‏ احْصُدُوهُمْ حَصْدًا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالُوا قُلْنَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ فَمَا اسْمِي إِذًا كَلاَّ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏
بہز نے کہا : سلیمان بن مغیرہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، انہوں نے حدیث میں ( یہ ) اضافہ کیا : آپ نے دونوں ہاتھوں سے ، ایک کو دوسرے کے ساتھ پھیرتے ہوئے اشارہ کیا : ان کو اسی طرح کاٹ ڈالو جس طرح فصل کاٹی جاتی ہے انہوں نے حدیث میں ( یہ بھی ) کہا : ان لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول! ہم نے یہ کہ تھا ۔ آپ نے فرمایا : " تو پھر میرا نام کیا ہو گا؟ ہرگز نہیں ، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں
حدیث 4624 — صحيح مسلم 32:106
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ، بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَفِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَكَانَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَصْنَعُ طَعَامًا يَوْمًا لأَصْحَابِهِ فَكَانَتْ نَوْبَتِي فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ الْيَوْمُ نَوْبَتِي ‏.‏ فَجَاءُوا إِلَى الْمَنْزِلِ وَلَمْ يُدْرِكْ طَعَامُنَا فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَوْ حَدَّثْتَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يُدْرِكَ طَعَامُنَا فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُمْنَى وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْبَيَاذِقَةِ وَبَطْنِ الْوَادِي فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ادْعُ لِي الأَنْصَارَ ‏"‏ ‏.‏ فَدَعَوْتُهُمْ فَجَاءُوا يُهَرْوِلُونَ فَقَالَ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ هَلْ تَرَوْنَ أَوْبَاشَ قُرَيْشٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْظُرُوا إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا أَنْ تَحْصِدُوهُمْ حَصْدًا ‏"‏ ‏.‏ وَأَخْفَى بِيَدِهِ وَوَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ وَقَالَ ‏"‏ مَوْعِدُكُمُ الصَّفَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا أَشْرَفَ يَوْمَئِذٍ لَهُمْ أَحَدٌ إِلاَّ أَنَامُوهُ - قَالَ - وَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّفَا وَجَاءَتِ الأَنْصَارُ فَأَطَافُوا بِالصَّفَا فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيدَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لاَ قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَى السِّلاَحَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ‏.‏ وَنَزَلَ الْوَحْىُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ‏.‏ أَلاَ فَمَا اسْمِي إِذًا - ثَلاَثَ مَرَّاتٍ - أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلاَّ ضِنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ثابت نے عبداللہ بن رباح سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ہم بطور وفد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، اور ہم لوگوں میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ہم میں سے ہر آدمی ایک دن اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا بناتا ، ایک دن میری باری تھی ، میں نے کہا : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! آج میری باری ہے ، وہ سب میرے ٹھکانے پر آئے اور ابھی کھانا نہیں آیا تھا ۔ میں نے کہا : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! کاش آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنائیں یہاں تک کہ کھانا آ جائے ۔ انہوں نے کہا : ہم فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دائیں بازو ( میمنہ ) پر ( امیر ) مقرر کیا اور زبیر رضی اللہ عنہ کو بائیں بازو ( میسرہ ) پر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو پیادوں پر اور وادی کے اندر ( کے راستے ) پر تعینات کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوہریرہ! انصار کو بلاؤ ۔ " میں نے ان کو بلایا ، وہ دوڑتے ہوئے آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انصار کے لوگو! کیا تم قریش کے اوباشوں کو دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دیکھو! کل جب تمہارا ان سے سامنا ہو تو ان کو اس طرح کاٹ دینا جس طرح فصل کاٹی جاتی ہے " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوشیدہ رکھتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا اور داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا ۔ اور فرمایا : " اب تم سے ملاقات کا وعدہ کوہِ صفا پر ہے ۔ " حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تو اس روز جس کسی نے سر اٹھایا ، انہوں نے اس کو سلا دیا ، ( یعنی مار ڈالا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھے ، انسار آئے ، انہوں نے صفا کو گھیر لیا ، اتنے میں ابوسفیان رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! قریش کی جمعیت مٹا دی گئی ، آج سے قریش نہ رہے ۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو کوئی ابوسفیان کے گھر میں چلا گیا اس کو امن ہے اور جو ہتھیار ڈال دے اس کو بھی امن ہے اور جو اپنا دروازہ بند کے لے اس کو بھی امن ہے ۔ " انصار نے کہا : آپ پر اپنے عزیزوں کی محبت اور اپنے شہر کی الفت غالب آ گئی ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں نے کہا : مجھ پر کنبے والوں کی محبت اور اپنے شہر کی الفت غالب آ گئی ہے ، دیکھو! پھر ( اس صورت میں ) میرا نام کیا ہو گا؟ " آپ نے تین بار فرمایا : ۔ ۔ " میں محمد اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ میں نے اللہ کے لیے تمہاری طرف ہجرت کی ، تو اب زندگی تمہاری زندگی ( کے ساتھ ) ہے اور موت تمہاری موت ( کے ساتھ ) ہے ۔ " انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! ہم نے یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید چاہت ( اور آپ کی معیت سے محرومی کے خوف ) کے علاوہ کسی وجہ سے نہیں کہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو اللہ اور اس کا رسول دونوں تم کو سچا جانتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں
حدیث 4625 — صحيح مسلم 32:107
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلاَثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ كَانَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ ‏"‏ ‏{‏ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا‏}‏ ‏{‏ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ‏}‏ زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ يَوْمَ الْفَتْحِ ‏.‏
ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے ۔ ۔ الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن ابی نجیح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مجاہد سے ، انہوں نے ابومعمر سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کو اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی لکڑی سے کچوکا دے کر گرانے لگے اور یہ فرمانے لگے : " حق آ گیا اور باطل مٹ گیا ، بلاشبہ باطل مٹنے والا ہے ۔ حق آ گیا اور باطل نہ آغاز کرتا ہے اور نہ لوٹاتا ہے " ( بلکہ دونوں اللہ عزوجل جلالہ کے کام ہیں ۔ ) ابن ابی عمر نے اضافہ کیا : فتح مکہ کے دن
حدیث 4626 — صحيح مسلم 32:108
وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ زَهُوقًا ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الآيَةَ الأُخْرَى وَقَالَ بَدَلَ نُصُبًا صَنَمًا ‏.‏
ثوری نے ابن ابی نجیح سے اسی سند کے ساتھ زهوقا ( پہلی آیت کے آخر ) تک روایت کی ، دوسری آیت بیان نہیں کی اور ۔ ۔ نصبا کے بجائے ‘ صنما کہا : ( دونوں کے معنی بت کے ہیں)
حدیث 4627 — صحيح مسلم 32:109
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَوَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ‏ "‏ لاَ يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
علی بن مسہر اور وکیع نے زکریا سے ، انہوں نے شعبی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے عبداللہ بن مطیع نے اپنے باپ ( مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : جس دن مکہ فتح ہوا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا : " آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر قتل نہ کیا جائے
حدیث 4628 — صحيح مسلم 32:110
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَزَادَ قَالَ وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ أَحَدٌ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ كَانَ اسْمُهُ الْعَاصِي فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُطِيعًا ‏.‏
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں زکریا نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث سنائی اور یہ اضافہ کیا ، کہا : اس دن قریش کے عاص ( نافرمان ) نام کے لوگوں میں سے ، مطیع کے سوا ، کوئی مسلمان نہیں ہوا ۔ اس کا نام ( تخفیف کے ساتھ عاص اور تخفیف کے بغیر ) عاصی تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ( بدل کر ) مطیع رکھ دیا
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔