حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ، رَجُلاً مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سَلَمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ}
انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے اسی آدمی مکہ والے رسول اﷲؐ کے اوپر اترے تنعیم کے پہاڑ سے ، وہ چاہتے تھے آپ کو دھوکا دیں او رغفلت میں حملہ کریں ۔ پھرآپ نے ان کو پکڑ لیا اور قید کیا ۔ بعد اس کے آپ نے چھوڑ دیا تب اﷲ تعایٰ نے اس آیت کو اتارا : وھو الذی کف ایدیھم عنکم یعنی خدا وہ ہے جس نے روکا ان کے ہاتھوں کو تم سے ( اور ان کا فریب کچھ نہ چلا ) اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے ( تم نے ان کو قتل نہ کیا ) مکہ کی سرحد میں تمہارے فتح ہوجانے کے بعد ان پر ۔ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا ۔
حدیث 4680 — صحيح مسلم #4680
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، اتَّخَذَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ خِنْجَرًا فَكَانَ مَعَهَا فَرَآهَا أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خَنْجَرٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا هَذَا الْخَنْجَرُ " . قَالَتِ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بَقَرْتُ بِهِ بَطْنَهُ . فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضْحَكُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ " . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِي قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ حَدِيثِ ثَابِتٍ .
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حنین کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک خنجر ( اپنے پاس رکھ ) لیا ، وہ ان کے ساتھ تھا ، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ لیا تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! یہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ہیں ، ان کے پاس ایک خنجر ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : یہ خنجر کیسا ہے؟ " انہوں نے کہا : میں نے یہ اس لیے لیا ہے کہ اگر مشرکوں میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ چاک کر دوں گی ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے ۔ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہمارے بعد دائرہ اسلام میں شامل ہونے والے ، جنہیں ( فتح مکہ کے دن ) معافی دی گئی تھی ( حنین کے دن ) آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے ، انہیں قتل کروا دیجئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ام سلیم! بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافی ہو گیا ( ان کا بھاگنا جنگ ہارنے کا باعث نہ بنا ) اور اس نے احسان فرمایا ( کہ ہمیں فتح عطا کر دی)
حدیث 4681 — صحيح مسلم #4681
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، اتَّخَذَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ خِنْجَرًا فَكَانَ مَعَهَا فَرَآهَا أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خَنْجَرٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا هَذَا الْخَنْجَرُ " . قَالَتِ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بَقَرْتُ بِهِ بَطْنَهُ . فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضْحَكُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ " . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِي قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ حَدِيثِ ثَابِتٍ .
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حنین کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک خنجر ( اپنے پاس رکھ ) لیا ، وہ ان کے ساتھ تھا ، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ لیا تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! یہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ہیں ، ان کے پاس ایک خنجر ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : یہ خنجر کیسا ہے؟ " انہوں نے کہا : میں نے یہ اس لیے لیا ہے کہ اگر مشرکوں میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ چاک کر دوں گی ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے ۔ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہمارے بعد دائرہ اسلام میں شامل ہونے والے ، جنہیں ( فتح مکہ کے دن ) معافی دی گئی تھی ( حنین کے دن ) آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے ، انہیں قتل کروا دیجئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ام سلیم! بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافی ہو گیا ( ان کا بھاگنا جنگ ہارنے کا باعث نہ بنا ) اور اس نے احسان فرمایا ( کہ ہمیں فتح عطا کر دی)
حدیث 4682 — صحيح مسلم 32:164
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ مَعَهُ إِذَا غَزَا فَيَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ کرتے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا اور انصار کی کچھ دوسری عورتوں کو ساتھ لے جا کر جنگ کرتے ، وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں
عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب اُحد کا دن تھا ، لوگوں میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پسپا ہو گئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ڈھال کے ساتھ آڑ کیے ہوئے تھے ۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ انتہائی قوت سے تیر چلانے والے تیر انداز تھے ، انہوں نے اس دن دو یا تین کمانیں توڑیں ۔ کہا : کوئی شخص اپنے ساتھ تیروں کا ترکش لیے ہوئے گزرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : " اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے آگے پھیلا دو ۔ " کہا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کا جائزہ لینے کے لیے جھانک کر دیکھتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے : اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان! جھانک کر نہ دیکھیں ، کہیں دشمن کے تیروں میں سے کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے ۔ میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے ڈھال بنا ہوا ہے ۔ کہا : میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا ، ان دونوں نے اپنے کپڑے سمیٹے ہوئے تھے ، میں ان کی پنڈلیوں کے پازیب دیکھ رہا تھا ، وہ اپنی کمر پر مشکیزے لے کر آتی تھیں ، ( زخمیوں کو پانی پلاتے پلاتے ) ان کے منہ میں ان ( مشکوں ) کو خالی کرتیں تھیں ، پھر واپس ہو کر انہیں بھرتی تھیں ، پھر آتیں اور انہیں لوگوں کے منہ میں فارغ کرتی تھیں ۔ اس دن اونگھ ( جانے ) کی بنا پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں سے دو یا تین مرتبہ تلوار گری ۔ ( شدید تکان اور بے خوابی کے عالم میں بھی وہ ڈھال بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے رہے)
سلیمان بن بلال نے ہمیں جعفر بن محمد سے ، انہوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یزید بن ہرمز سے روایت کی کہ ( معروف خارجی سردار ) نجدہ ( بن عامر حنفی ) نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پانچ باتیں دریافت کرنے کے لیے خط لکھا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں علم چھپا رہا ہوں تو میں اسے جواب نہ لکھتا ۔ نجدہ نے انہیں لکھا تھا : امابعد! مجھے بتائیے : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے مدد لیتے ہوئے جنگ کرتے تھے؟ کیا آپ غنیمت میں ان کا حصہ رکھتے تھے؟ کیا آپ بچوں کو قتل کرتے تھے؟ اور یہ کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ اس نے خمس کے بارے میں ( بھی پوچھا کہ ) وہ کس کا حق ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف ( جواب ) لکھا : تم نے مجھ سے دریافت کرنے کے لیے لکھا تھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے مدد لیتے ہوئے جنگ کرتے تھے؟ بلاشبہ آپ ان سے جنگ میں مدد لیتے تھے اور وہ زخمیوں کو مرہم لگایا کرتی تھیں اور انہیں غنیمت ( کے مال ) سے معمولی سا عطیہ دیا جاتا تھا ، رہا ( غنیمت کا باقاعدہ ) حصہ تو وہ آپ نے ان کے لیے نہیں نکالا ، اور یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے ، لہذا تم بھی بچوں کو قتل نہ کیا کرو ۔ اور تم نے مجھ سے دریافت کرنے کے لیے لکھا تھا : یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ مجھے اپنی عمر ( کے مالک ) کی قسم! کسی آدمی کی داڑھی نکل آتی ہے جبکہ ابھی وہ اپنے لیے حق لینے میں اور اپنی طرف سے حق دینے میں کمزور ہوتا ہے ، جب وہ اپنے لیے ٹھیک طرح سے حقوق لے سکے جس طرح لوگ لیتے ہیں تو اس کی یتیمی ختم ہو جائے گی ۔ اور تم نے مجھ سے خمس کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے لکھا تھا کہ وہ کس کا حق ہے؟ تو ہم کہتے تھے : وہ ہمارا حق ہے ، لیکن ہماری قوم نے ہماری یہ بات ماننے سے انکار کر دیا
ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم دونوں نے ہمیں حاتم بن اسماعیل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے جعفر بن محمد سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے یزید بن ہرمز سے روایت کی کہ نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ان سے کچھ باتیں پوچھنے کے لیے خط لکھا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند ہے ، مگر حاتم کی حدیث میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقینا بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے ، لہذا تم بھی بچوں کو قتل نہ کرو ، الا یہ کہ تمہیں بھی اسی طرح علم حاصل ہو جائے جس طرح خضر کو اس بچے کے بارے میں علم ہوا تھا جسے انہوں نے قتل کیا تھا ۔ اسحاق نے حاتم سے روایت کردہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : ( الا یہ کہ ) تم ( بچوں میں سے ) مومن کا امتیاز کر لو تو کافر کو قتل کر دینا اور مومن کو چھوڑ دینا ( یہ دونوں باتیں کسی انسان کے بس میں نہیں جب تک اللہ تعالیٰ نہ بتائے)
ہمیں ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے اسماعیل بن امیہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید مقبری سے اور انہوں نے یزید بن ہرمز سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نجدہ بن عامر حروری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا ، وہ ان سے اس غلام اور عورت کے بارے میں پوچھ رہا تھا جو جنگ میں شریک ہوتے ہیں ، کیا وہ غنیمت کی تقسیم میں ( بھی ) شریک ہوں گے؟ اور بچوں کے قتل کرنے کے بارے میں ( پوچھا ) اور یتیم کے بارے میں کہ اس سے یتیمی کب ختم ہوتی ہے اور ذوی القربیٰ کے بارے میں کہ وہ کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے یزید سے کہا : اس کی طرف لکھو اور اگر ڈر نہ ہوتا کہ وہ کسی حماقت میں پڑ جائے گا تو میں اس کی طرف جواب نہ لکھتا ، ( اسے ) لکھو : تم نے مجھے اس عورت اور غلام کے بارے دریافت کرنے کے لیے خط لکھا تھا جو جنگ میں شریک ہوتے ہیں : کیا وہ غنیمت کی تقسیم میں شریک ہوں گے؟ " حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کے لیے کچھ نہیں ہے ، الا یہ کہ انہیں کچھ عطیہ دے دیا جائے اور تم نے مجھ سے بچوں کو قتل کرنے کے بارے میں پوچھنے کے لیے لکھا تھا ، بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل نہیں کیا اور تم بھی انہیں قتل مت کرو ، الا یہ کہ تمہیں ان بچوں کے بارے میں وہ بات معلوم ہو جائے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی ( خضر ) کو اس بچے کے بارے میں معلوم ہو گئی جسے انہوں نے قتل کیا تھا ۔ اور تم نے مجھ سے یتیم کے بارے میں پوچھنے کے لیے لکھا تھا کہ اس سے یتیم کا لقب کب ختم ہو گا؟ تو حقیقت یہ ہے کہ اس سے یتیم کا لقب ختم نہیں ہوتا حتی کہ وہ بالغ ہو جائے اور اس کی بلوغت ( سمجھداری کی عمر کو پہنچنے ) کے بارے پتہ چلنے لگے ۔ اور تم نے مجھ سے ذوی القربیٰ کے بارے میں پوچھنے کے لیے لکھا تھا کہ وہ کون ہیں؟ ہمارا خیال تھا کہ وہ ہم لوگ ہی ہیں ۔ تو ہماری قوم نے ہماری یہ بات ماننے سے انکار کر دیا
عبدالرحمان بن بشر عبدی نے ہمیں یہی حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اسماعیل بن امیہ نے سعید بن ابی سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یزید بن ہرمز سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ۔ ابواسحاق نے کہا : مجھے عبدالرحمان بن بشر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے پوری یہی حدیث بیان کی
قیس بن سعد نے مجھے یزید بن ہرمز سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا تو میں اس وقت ، جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کا خط پڑھا اور اس کا جواب لکھا ، ان کے پاس حاضر تھا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! اگر یہ ( خیال ) نہ ہوتا کہ ( غالبا ) میں اسے کسی قبیح عمل میں پڑ جانے سے روک لوں گا تو اسے جواب نہ لکھتا ، یہ اس کی آنکھوں کی خوشی کے لیے نہیں ۔ کہا : تو انہوں نے اس کی طرف لکھا : تم نے ذوی القربیٰ کے حصے کے بارے میں پوچھا تھا ، جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کون ہین؟ تو ہمارا خیال یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار ہمی لوگ ہیں ( لیکن ) ہماری قوم نے ہماری بات ماننے سے انکار کر دیا ۔ اور تم نے یتیم کے بارے میں پوچھا تھا ، اس کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ تو جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے ، اس کے سمجھدار ہو جانے کا پتہ چلنے لگے اور اس کا مال اس کے حوالے کیا جا سکے تو اس سے یتیمی ختم ہو جائے گی ۔ اور تم نے پوچھا تھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے بچوں میں سے کسی کو قتل کرتے تھے؟ تو بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی ایک کو بھی قتل نہیں کرتے تھے اور تم بھی ان میں سے کسی کو قتل مت کرنا ، الا یہ کہ ان کے بارے میں تم کو بھی اسی بات کا علم ہو جائے جس کا اس بچے کے بارے میں خضر علیہ السلام کو علم ہوا جب انہوں نے اسے قتل کیا تھا ۔ اور تم نے عورت اور غلام کے بارے میں پوچھا کہ جب وہ جنگ میں شریک ہوں تو کیا ان کو بھی مقررہ حصہ ملے گا؟ واقعہ یہ ہے کہ ان کا کوئی مقررہ حصہ نہیں ، ہاں یہ کہ لوگوں کی غنیمتوں میں سے انہیں کچھ عطیہ دے دیا جائے