حدیث 4699 — صحيح مسلم 32:181
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي عَامِرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ - قَالَ - فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا فَنَقِبَتْ قَدَمَاىَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نُعَصِّبُ عَلَى أَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقِ . قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ ثُمَّ كَرِهَ ذَلِكَ . قَالَ كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ . قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَزَادَنِي غَيْرُ بُرَيْدٍ وَاللَّهُ يَجْزِي بِهِ .
ابواسامہ نے ہمیں بریدہ بن ابی بردہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے ، ہم چھ افراد تھے ، ہم سب کے لیے اونٹ ایک ( ہی ) تھا ، ہم اس پر باری باری سوار ہوتے تھے ۔ کہا : ہمارے پیروں میں سوراخ ہو گئے ، میرے دونوں پاؤں بھی زخمی ہو گئے اور میرے ناخن گر گئے ، ہم اپنے پاؤں پر پرانے کپڑوں کے ٹکڑے باندھا کرتے تھے ، اسی وجہ سے تو اس غزوے کا نام ذات الرقاع ( دھجیوں والا غزوہ ) پڑ گیا کیونکہ ہم اپنے پیروں پر پھٹے پرانے کپڑوں کی دھجیاں باندھا کرتے تھے ۔ ابوبردہ نے کہا : حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ، پھر اسے ( بیان کرنے ) کو ناپسند کیا جیسے وہ یہ بات ناپسند کرتے ہوں کہ ان کے عمل کا کوئی ایسا پہلو ہو جس کی انہوں نے تشہیر کی ہو ۔ ابواسامہ نے کہا : بریدہ کے علاوہ کسی اور نے مجھے مزید یہ بات بتائی : اور اللہ اس کی جزا دے
حدیث 4700 — صحيح مسلم 32:182
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي، عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ بَدْرٍ فَلَمَّا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ أَدْرَكَهُ رَجُلٌ قَدْ كَانَ يُذْكَرُ مِنْهُ جُرْأَةٌ وَنَجْدَةٌ فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ رَأَوْهُ فَلَمَّا أَدْرَكَهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جِئْتُ لأَتَّبِعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ " . قَالَ لاَ قَالَ " فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ " . قَالَتْ ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالشَّجَرَةِ أَدْرَكَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ قَالَ " فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ " . قَالَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَدْرَكَهُ بِالْبَيْدَاءِ فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ " . قَالَ نَعَمْ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَانْطَلِقْ " .
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی جانب نکلے ، جب آپ وبرہ کے حرے پر پہنچے تو ایک آدمی آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ۔ اس کی جراءت و بہادری کا بڑا چرچا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اسے دیکھا تو خوش ہوئے ، جب وہ آپ کو ملا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ کا ساتھ دوں اور آپ کے ساتھ ( غنیمت میں سے ) حصہ وصول کروں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : "" کیا تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہو؟ "" اس نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تو لوٹ جاؤ ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا ۔ "" ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ ) کہا : پھر وہ چلا گیا ، حتی کہ جب ہم درخت کے پاس پہنچے تو وہ آدمی ( دوسری بار ) آپ کو ملا اور آپ سے وہی بات کہی جو پہلی مرتبہ کہی تھی ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے وہی کچھ کہا جو پہلی مرتبہ کہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" واپس ہو جاؤ ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا ۔ "" کہا : وہ واپس چلا گیا اور بیداء کے مقام پر آپ کو ملا تو آپ نے اس سے وہی بات پوچھی جو پہلی بار پوچھی تھی : "" تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ "" اس نے کہا : جی ہاں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : "" تو پھر ( ہمارے ساتھ ) چلو