قرآني·Qurani
اردو

الحج

607 احادیث · #2791–3397

حدیث 2911 — صحيح مسلم 15:120
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلاَ يَحِلُّ حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيَهُ وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ - رضى الله عنها - فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلاَّ بِعُمْرَةٍ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِحَجٍّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ - قَالَتْ - فَفَعَلْتُ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا قَضَيْتُ حَجَّتِي بَعَثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَدْرَكَنِي الْحَجُّ وَلَمْ أَحْلِلْ مِنْهَا ‏.‏
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ بن زبیر سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم حجۃالوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم میں سے بعض نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا اور بعض نے ( صرف ) حج کے لیے حتیٰ کہ ہم مکہ پہنچ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" جس نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا وہ قربانی نہیں لا یا ۔ وہ احرا م کھو ل دے ۔ اور جس نے عمرے کا احرا م باندھا تھا اور ساتھ قربانی بھی لا یا ہے وہ جب تک قربانی ذبح نہ کر لے احرا م ختم نہ کرے ۔ اور جس نے صرف حج کے لیے تلبیہ کہا تھا وہ اپنا حج مکمل کرے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا مجھے ( راستے میں ) ایام شروع ہو گئے ۔ میں عرفہ کے دن تک ایام ہی میں رہی اور میں نے صرف عمرے کے لیے تلبیہ پکا را تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سر کے بال کھولوں لنگھی کروں اور حج کے لیے تلبیہ پکاروں اور عمرے ( کے اعمال ) چھوڑدوں تو میں نے یہی کیا ۔ جب میں نے اپنا حج ادا کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ میں اس عمرے کی جگہ عمرہ کرلوں جسے حج کا دن آجا نے کی بنا پر مکمل کر کے میں اس کاا حرا م نہ کھول پا ئی تھی ۔
حدیث 2912 — صحيح مسلم 15:121
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْىَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ ثُمَّ لاَ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَحِضْتُ فَلَمَّا دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي قَالَ ‏"‏ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَمْسِكِي عَنِ الْعُمْرَةِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجَّتِي أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَمْسَكْتُ عَنْهَا ‏.‏
معمر نے زہری سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا حجۃ الوداع کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے سفر کے لیے ) نکلے ۔ میں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا لیکن ( اپنے ) ساتھ قر بانی نہیں لا ئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس کے ساتھ قربانی کے جا نور ہوں وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا تلبیہ پکا رے اور اس وقت تک احرا م نہ کھو لے جب تک ان دونوں سے فارغ نہ ہو جا ئے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : مجھے ایا م شروع ہو گئے جب عرفہ کی رات آگئی میں نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے تو عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا ۔ اب میں اپنے حج کا کیا کروں ؟آپ نے فر ما یا : " اپنے سر کے بال کھو لو کنگھی کرو اور عمرے سے رک جا ؤ حج کے لیے تلبیہ پکا رو ۔ انھوں نے کہا : جب میں نے اپنا حج مکمل کر لیا ( تو آپ نے میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھا یا اور مقام تنعیم سے اس عمرے کی جگہ جس سے میں رک گئی تھی ( دوسرا ) عمرہ کروا دیا ۔
حدیث 2913 — صحيح مسلم 15:122
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها فَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحَجٍّ وَأَهَلَّ بِهِ نَاسٌ مَعَهُ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِعُمْرَةٍ وَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ‏.‏
سفیان نے زہری سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج کے لیے ) نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے جو اکٹھے عمرے اور حج کے لیے تلبیہ پکارنا چا ہے پکا رے ۔ جو ( صرف ) حج کے لیے تلبیہ پکارنا چا ہے پکارے اور جو ( صرف ) عمرے کے لیے پکا رنا چاہے وہ ایسا کر لے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے لیے تلبیہ پکارا اور آپ کے ساتھ کئی لوگوں نے ( اکیلے حج کے لیے ) تلبیہ کہا کئی لوگوں نے عمرے اور حج ( دونوں ) کے لیے تلبیہ کہا اور کئی لوگوں نے صرف عمرے کے لیے کہا اور میں ان لوگوں میں شامل تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا ۔
حدیث 2914 — صحيح مسلم 15:123
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مُوَافِينَ لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ فَلَوْلاَ أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ - قَالَتْ - فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ - وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا - أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ بِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْىٌ وَلاَ صَدَقَةٌ وَلاَ صَوْمٌ ‏.‏
عبدہ بن سلمیان نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عرو ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ہم حجۃ الوداع کے موقع پر ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے جو صرف عمرے کے لیے تلبیہ کہنا چا ہے کہے ۔ اگر یہ بات نہ ہو تی کہ میں قر بانی ساتھ لا یا ہوں تو میں بھی عمرے کا تلبیہ کہتا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا اور کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف حج کا تلبیہ کہا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا ۔ ہم نکل پڑے حتی کہ مکہ آگئے میرے لیے عرفہ کا دن اس طرح آیا کہ میں ایا م میں تھی اور میں نے ( ابھی ) عمرے ( کی تکمیل کر کے اس ) کا احرا م کھو لا نہیں تھا میں نے اس ( بات ) کا شکوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اپنا عمرہ چھوڑدو اپنے سرکی مینڈھیاں کھول دو کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ کہنا شروع کر دو ۔ انھوں نے کہا : میں نے یہی کیا جب حصبہ کی رات آگئی اور اللہ تعا لیٰ نے ہمارا حج مکمل فر ما دیا تھا تو ( آپ نے ) میرے ساتھ ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا انھوں نے نجھے ساتھ بٹھا یا اور مجھے لے کر تنعیم کی طرف نکل پڑے وہاں سے میں نے عمرے کا تلبیہ کہا ۔ اس طرح اللہ نے ہمارا حج پورا کرادیا اور عمرہ بھی ۔ ( ہشام نے کہا : اس ( الگ عمرے ) کے لیے نہ قر بانی کا کو ئی جا نور ( ساتھ لا یا گیا ) تھا نہ صدقہ تھا اور نہ روزہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ان میں سے کو ئی کا م کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔)
حدیث 2915 — صحيح مسلم 15:124
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مُوَافِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ لاَ نَرَى إِلاَّ الْحَجَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدَةَ ‏.‏
ابن نمیر نے ہشام سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب ( حج کے لیے ) نکلے اور ہمارے پیش نظر صرف حج ہی تھا ۔ ( لیکن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے جو عمرے کا تلبیہ پکارنا چاہے وہ ( اکیلے ) عمرے کا تلبیہ پکا رے ۔ پھر عبد ہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔
حدیث 2916 — صحيح مسلم 15:125
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَافِينَ لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ مِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ فَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا وَقَالَ فِيهِ قَالَ عُرْوَةُ فِي ذَلِكَ إِنَّهُ قَضَى اللَّهُ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا ‏.‏ قَالَ هِشَامٌ وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْىٌ وَلاَ صِيَامٌ وَلاَ صَدَقَةٌ ‏.‏
وکیع نے ہشام سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم ذوالحجہ کا چا ند نکلنے کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے مدینہ سے ) نکلے ہم میں سے بعض نے عمرے کا تلبیہ پکارا بعض نے حج کا ۔ اور میں ان لوگوں میں شامل تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ پکارا تھا ۔ اور ( وکیع نے ) آگے ان دونوں ( عبدہ اور ابن نمیر ) کی طرح حدیث بیان کی ۔ اور اس میں یہ کہا عروہ نے اس کے بارے میں کہا : بلا شبہ اللہ نے ان ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ) اس طرح عمرہ کرنے میں نہ کو ئی قر بانی تھی نہ روزہ اور نہ صدقہ ۔
حدیث 2917 — صحيح مسلم 15:126
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ‏.‏
محمد بن عبد الرحمٰن بن نوفل نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم حجۃ الودع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ ہممیں سے کچھ ایسے تھے جنھوں نے ( صرف ) عمرےکا تلبیہ کہا بعض نے حج اور عمرے دونوں کا اور بعض نے صرف حج کا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا ۔ جس نے عمرے کا تلبیہ کہا تھا وہ تو ( عمرے کی تکمیل کے بعد ) حلال ہو گیا اور جنھوں نے صرف حج کا یا حج اور عمرے فونوں کا تلبیہ کہا تھا اور قربانی کے جا نور ساتھ لا ئے تھے وہ لوگ قربانی کا دن آنے تک احرا م کی پابندیوں سے آزاد نہیں ہو ئے ۔
حدیث 2918 — صحيح مسلم 15:127
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ، عُيَيْنَةَ - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نُرَى إِلاَّ الْحَجَّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ أَنَفِسْتِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْحَيْضَةَ ‏.‏ - قَالَتْ - قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا شَىْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَغْتَسِلِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ ‏.‏
قاسم نے اپنے والد ( محمد بن ابی بکر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر حج کے سوا اور کچھ نہ تھا ۔ جب ہم مقام سرف یاس کے قریب پہنچے تو مجھے ایام شروع ہو گئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اور مجھے روتا ہوا پا یا ۔ آپ نے فر ما یا : "" کیا تمھا رے ایام شروع ہو گئے ہیں ؟ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" بلا شبہ یہ چیز اللہ تعا لیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ ( کر مقدر کر ) دی ہے تم ( سارے ) کا م ویسے ہی سر انجا م دو جیسے حاجی کرتے ہیں سوائے یہ کہ جب تک غسل نہ کر لو بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا ( اس حج میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گا ئے کی قربانی کی ۔
حدیث 2919 — صحيح مسلم 15:128
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ، بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ نَذْكُرُ إِلاَّ الْحَجَّ حَتَّى جِئْنَا سَرِفَ فَطَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا يُبْكِيكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ خَرَجْتُ الْعَامَ قَالَ ‏"‏ مَا لَكِ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَذَا شَىْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا قَدِمْتُ مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ ‏"‏ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً ‏"‏ ‏.‏ فَأَحَلَّ النَّاسُ إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ - قَالَتْ - فَكَانَ الْهَدْىُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا - قَالَتْ - فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهَرْتُ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَفَضْتُ - قَالَتْ - فَأُتِينَا بِلَحْمِ بَقَرٍ ‏.‏ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالُوا أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ ‏.‏ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ قَالَتْ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي عَلَى جَمَلِهِ - قَالَتْ - فَإِنِّي لأَذْكُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعُسُ فَتُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ حَتَّى جِئْنَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ جَزَاءً بِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا ‏.‏
عبد الرحمٰن ابن سلمہ ماجثون نے عبد الرحمٰن بن قاسم سے انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ۔ ( انھوں نے ) کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور حج ہی کا ذکر کر رہے تھے ۔ جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے ایام شروع ہو گئے ۔ ( اس اثنا میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ( حجرے میں ) داخل ہو ئے تو میں رو رہی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : تمھیں کیا رلا رہا ہے ؟میں نے جواب دیا اللہ کی قسم ! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلتی ۔ آپ نے پو چھا : تمھا رے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کہیں تمھیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے ؟ میں نے کہا : جی ہاں آپ نے فر ما یا : "" یہ چیز تو اللہ نے آدم ؑ کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے ۔ تم تمام کا م ویسے کرتی جاؤ جیسے ( تمام ) حا جی کریں مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۔ انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب میں مکہ پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے فر ما یا : "" تم اسے ( حج کی نیت کو بدل کر ) عمرہ کر لو ۔ جن کے پاس قربانیا ں تھیں ان کے علاوہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( اسی کے مطا بق عمرے کا ) تلبیہ پکارنا شروع کر دیا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا اور قربانیاں ( صرف ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر و عمر اور ( بعض ) اصحاب ثروت رضوان اللہ عنھم اجمعین ( ہی ) کے پاس تھیں ۔ جب وہ چلے تو انھوں نے ( حج ) کا تلبیہ پکارا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جب قر بانی کا دن آیا تو میں پاک ہو گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے طواف ( افاضہ ) کر لیا ۔ ( انھوں نے ) کہا : ہمارے پاس گا ئے کا گو شت لا یا گیا میں نے پو چھا : یہ کیا ہے ؟ انھوں ( لا نے والوں ) نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گا ئے کی قر بانی دی ہے ۔ جب ( مدینہ کے راستے منیٰ کے فوراً بعد کی منزل ) محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لو گ حج اور عمرہ ( دونوں ) کر کے لو ٹیں اور میں ( اکیلا ) حج کر کے لوٹوں ؟ کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھا یا ۔ انھوں نے ) کہا : مجھے یا د پڑ تا ہے کہ میں ( اس وقت نو عمر لرکی تھی ( راستے میں ) میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ ( بار بار ) کجا وے کی پچھلی لکڑی سے ٹکراتا تھا حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے ۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا ( اور میں اس سے محروم رہ گئی تھی ) عمرے کا ( احرا م باند ھ کر ) تلبیہ پکا را
حدیث 2920 — صحيح مسلم 15:129
وَحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْمَاجِشُونِ ‏.‏ غَيْرَ أَنَّ حَمَّادًا لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ فَكَانَ الْهَدْىُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا وَلاَ قَوْلُهَا وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعُسُ فَتُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ ‏.‏
حماد ( بن سلمہ ) نے عبد الرحمٰن سے حدیث بیان کی انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم نے حج کا تلبیہ پکا را جب ہم سرف مقام پر تھے میرے ایام شروع ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( میرے حجرے میں ) داخل ہو ئے تو میں رورہی تھی ( حماد نے ) اس سے آگے ماجثون کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر حماد کی حدیث میں یہ ( الفا ظ ) نہیں : قربانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر و عمر اور اصحاب ثروت رضوان اللہ عنھم اجمعین ہی کے پاس تھی ۔ پھر جب وہ چلے تو انھوں نے تلبیہ پکارا ۔ اور نہ یہ قول ( ان کی حدیث میں ہے ) کہ میں نو عمر لڑکی تھی مجھے اونگھ آتی تو میرا سر ( بار بار ) پالان کی پچھلی لکڑی کو لگتا تھا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔