سفیان اورشعبہ دونوں نے سلیمان تیمی سے اسی سندکے ساتھ ان دونوں ( مروان اور یحییٰ ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ہے ۔ ( البتہ ) سفیان کی حدیث میں ہے : حج میں تمتع ( کے بارے میں دریافت کیا ۔)
ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) ہمیں جریری نے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو العلاء سے ، انھوں نے مطرف سے روایت کی ، ( مطرف نے ) کہا : عمران بن حصین نے مجھ سے کہا : میں تمھیں آج ایک ایسی حدیث بیان کرنے لگاہوں جس سے اللہ تعالیٰ آج کے بعد تمھیں نفع دے گا ۔ جان لو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں سے کچھ کو ذوالحجہ میں عمرہ کروایا ، پھر نہ تو کوئی ایسی آیت نازل ہوئی جس نے اسے ( حج کے مہینوںمیں عمرے کو ) منسوخ قرار دیا ہو ، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل کی طرف تشریف لے گئے ۔ بعد میں ہر شخص نے جورائے قائم کرنا چاہی کرلی ۔
اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن حاتم دونوں نے وکیع سے یہ حدیث بیا ن کی ( کہا : ) ہمیں سفیان نے جریری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیا ن کی ، ( البتہ ) ابن حاتم نے اپنی ر وایت میں کہا : بعد میں ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا نظریہ بنالیا ، ان کی مراد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تھی ۔
ہمیں معاذ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے حمید بن ہلال سے ، انھوں نے مطرف سے رویت کی ، انھوں نے کہا : عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : میں تمھیں ایک حدیث بیان کرتاہوں ۔ وہ دن دور نہیں جب اللہ تعالیٰ تمھیں اس سے فائدہ دےگا ۔ بلاشبہ!اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اورعمرہ کو ( حج کے مہینوں میں ) اکھٹاکیا ، پھر آپ نے وفات تک اس سے منع نہیں فرمایا ، اورنہ اس کے بارے میں قرآن ہی میں کچھ نازل ہوا جو اسے حرام قرار دے اور یہ بھی ( بتایا ) کہ مجھے ( فرشتوں کی طرف سے ) سلام کیا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ ( بواسیر کی بناء پر ) میں نے اپنے آپ کو دغوایا تو مجھے ( سلام کہنا ) چھوڑ دیا گیا ، پھر میں نے دغواناچھوڑ دیا تو ( فرشتوں کا سلام ) دوبارہ شروع ہوگیا ۔
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انھوں نے حمید بن ہلال سے روایت کی ، کہا میں نے مطرف سے سنا ، انھوں نے کہا عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا ۔ آگے معاذ کی حدیث کے مانند ہے ۔
قتادہ نے مطرف سے روایت کی ، کہا : جس مرض میں عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفا ت ہو ئی ، اس دورا ن میں انھوں نے مجھے بلا بھیجا اور کہا میں تمھیں چند احادیث بیان کرا نا چا ہتا ہوں ۔ امید ہے کہ اللہ تعا لیٰ میرے بعد تمھیں ان سے فائدہ پہنچائے گا ، اگر میں ( شفا یا ب ہو کر ) زندہ رہا تو ان باتوں کو میری طرف سے پو شیدہ رکھنا اگر فو ت ہو گیا تو چاہو تو بیان کر دینا مجھ پر ( فرشتوں کی جا نب سے ) سلام کہا جا تا تھا ( تفصیل سابقہ حدیث میں ہے ) اور یا د رکھو !اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو اکٹھا کر دیا ، اس کے بعد نہ تو اس بارے میں اللہ کی کتاب نازل ہو ئی اور نہ ( آخر تک ) اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ۔ ایک شخص نے اس بارے میں اپنی را ئے سے جو چا ہا کہا ۔
حدیث 2977 — صحيح مسلم 15:186
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، - رضى الله عنه - قَالَ اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فِيهَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ.
ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے انھوں نے عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : جا ن لو!اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو اکٹھا کیا تھا ۔ اس کے بعد نہ تو اس معاملے میں اللہ کی کتاب ( میں کو ئی بات ) نازل ہو ئی ۔ اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان دونوں سے منع فرمایا : پھر ایک شخص نے اس کے بارے میں اپنی را ئے سے جو چا ہا کہا ۔
حدیث 2978 — صحيح مسلم #2978
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنه - قَالَ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ الْقُرْآنُ . قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ . وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنه - بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ تَمَتَّعَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ .
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے مطرف کے واسطے سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان فر مائی : کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج میں ) تمتع کیا تھا اور اس کے بعد اس کے متعلق قرآن نازل نہ ہوا ( کہ یہ درست نہیں ہے اس کے متعلق ) ایک شخص نے اپنی را ئے سے جو چا ہا کہہ دیا ۔
حدیث 2979 — صحيح مسلم #2979
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنه - قَالَ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ الْقُرْآنُ . قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ . وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنه - بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ تَمَتَّعَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ .
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے مطرف کے واسطے سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان فر مائی : کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج میں ) تمتع کیا تھا اور اس کے بعد اس کے متعلق قرآن نازل نہ ہوا ( کہ یہ درست نہیں ہے اس کے متعلق ) ایک شخص نے اپنی را ئے سے جو چا ہا کہہ دیا ۔
حدیث 2980 — صحيح مسلم 15:188
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ، بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ - يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ - وَأَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى مَاتَ . قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ بَعْدُ مَا شَاءَ .
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہاJ ہمیں عمرا ن بن مسلم نے ابو رجاء سے روایت کی ، کہ عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : متعہ یعنی حج میں تمتع کی آیت قرآن مجید میں نازل ہو ئی ۔ اور اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں اس کا حکم دیا ، بعد ازیں نہ تو کو ئی آیت نازل ہو ئی جس نے حج میں تمتع کی آیت کو منسوخ کیا ہو اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فر ما یا حتی کہ آپ فوت ہو گئے بعد میں ایک شخص نے اپنی را ئے سے جو چا ہا کہا ۔)