وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ " . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا .
لیث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ، ( اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جا ن ہے
یو نس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی انھوں نے حنظلہ بن علی اسلمی سے روایت کی کہ انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہا تھ میں میری جان ہے! " ( آگے سفیان اور لیث بن سعد ) دونوں کی حدیث کے مانند ہے ۔
حدیث 3033 — صحيح مسلم 15:240
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا كَمْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هَدَّابٍ .
ہذاب بن خالد نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا ) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا ) ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی کہ حجرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کل ) چار عمرے کیے ، اور اپنے حج والے عمرے کے سوا تمام عمرے ذوالقعدہ ہی میں کیے ۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے یا حدیبیہ کے زمانے کا ذوالقعد ہ میں ( جو عملاً نہ ہو سکا لیکن حکماً ہو گیا ) اور دوسرا عمرہ ( اس کی ادائیگی کے لیے ) اگلے سال ذوالقعدہ میں ادا فرمایا ( تیسرا ) عمرہ جعرانہ مقام سے ( آکر ) کیا جہا ں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے اموال غنیمت تقسیم فرما ئے ۔ ( یہ بھی ) ذوالقعدہ میں کیا اور ( چوتھا ) عمرہ آپ نے اپنے حج کے ساتھ ذوالحجہ میں ) ادا کیا ۔
حدیث 3034 — صحيح مسلم 15:241
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ . قَالَ وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً حَجَّةَ الْوَدَاعِ . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَبِمَكَّةَ أُخْرَى .
محمد بن مثنیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عبد الصمد نے حدیث سنا ئی ( کہا ) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کیے ؟ انھوں نے کہا : حج ایک ہی کیا ( البتہ ) عمرے چار کیے ، پھر آگے ہذاب کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
ابو اسحاق سے روایت ہے کہا : میں نے زید بن را قم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کتنی جنگیں لریں؟کہا : سترہ ۔ ( ابو اسحا ق نے ) کہا : مجھے زید بن را قم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کل ) انیس غزوے کیے ۔ آپ نے ہجرت کے بعد ایک ہی حج حجۃ الوداع ادا کیا ۔ ابو اسحاق نے کہا : آپ نے مکہ میں ( رہتے ہو ئے ) اور حج ( بھی ) کیے ۔
عطاء نے خبردی کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبردی کہا : میں اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگا ئے بیٹھے تھے اور ان کی ( دانتوں پر ) مسواک رگڑنے کی آواز سن رہے تھے ۔ عروہ نے کہا : میں نے پو چھا : ابو عبد الرحمٰن ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ! ) کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےر جب میں بھی عمرہ کیا تھا ؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ میں نے ( وہیں بیٹھے بیٹھے ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پکا را ۔ میری ماں !کیا آپ ابو عبد الرحمٰن کی بات نہیں سن رہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ انھوں نے کہا ( بتا ؤ ) وہ کیا کہتے ہیں ؟ میں نے عرض کی وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں ( بھی ) عمرہ کیا تھا ۔ انھوں نے جواب دیا : اللہ تعا لیٰ ابو عبد الرحمٰن کو معاف فر ما ئے مجھے اپنی زندگی کی قسم !آپ نے رجب میں کو ئی عمرہ نہیں کیا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ نہیں کیامگر یہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بھی آپ کے ساتھ ہو تے تھے ۔ ( عروہنے ) کہا : ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی گفتگو ) سن رہے تھے ) انھوں نے ہاں یا ناں کچھ نہیں کہا ، خاموش رہے ۔
مجا ہد سے روایت ہے کہا : میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہو ئے دیکھا تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے ( کی دیوار ) سے ٹیک لگا ئے بیٹھے تھے اور لو گ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھنے میں مصروف تھے ۔ ہم نے ان سے لوگوں کی ( اس ) نماز کے بارے میں سوال کیا ، انھوں نے فرمایا کہ بدعت ہے ۔ عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پو چھا : ابو عبد الرحمٰن !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کل ) کتنے عمرے کیے ؟انھوں نے جواب دیا : چار عمرے اور ان میں سے ایک رجب کے مہینے میں کیا ۔ ( ان کی یہ بات سن کر ) ہم نے انھیں جھٹلا نا اور ن کا رد کرنا منا سب نہ سمجھا ، ( اسی دورا ن میں ) ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی ۔ عروہ نے کہا : المومنین !ابو عبد الرحمٰن کو کہہ رہے ہیں آپ نہیں سن رہیں؟ انھوں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں؟ ( عروہنے ) کہا : وہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا ہے انھوں نے فرمایا : اللہ تعا لیٰ ابو عبد الرحمٰن پر رحم فر ما ئے !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی عمرے کیے یہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان کے ساتھ تھے ( یہ بھول گئے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا ۔
حدیث 3038 — صحيح مسلم #3038
ابن جریج نے کہا : مجھے عطا ء نے خبر دی کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ ہمیں ھدیث بیان کر رہے تھے ۔ کہا اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصار یہ عورت سے فرمایا ۔ ۔ ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا نام بتا یا تھا لیکن میں بھول گیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ تمھیں ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس بات نے روک دیا ؟اس نے جواب دیا : ہمارے پاس پانی ڈھونے والے دو ہی اونٹ تھے ۔ ایک پر اس کے بیٹے کا والد ( شوہر ) اور بیٹا حج پر چلے گئے ہیں اور ایک اونٹ ہمارے لیے چھوڑ گئے ہم اس پر پانی ڈھوتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " جب رمضان آئے تو تم عمرہ کرلینا کیونکہ اس ( رمضان ) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے ۔
حدیث 3039 — صحيح مسلم #3039
حبیب معلم نے ہمیں حدیث سنا ئی ، انھوں نے عطا ء سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے جسے ام سنان کہا جا تا تھا کہا : " تمھیں کس بات نے روکا کہ تم ہمارے ساتھ حج کرتیں ؟ " اس نے کہا : ابو فلاں ۔ ۔ ۔ اس کے خاوند ۔ ۔ ۔ کے پاس پانی ڈھونے والے دو اونٹ تھے ایک پر اس نے اور اس کے بیٹے نے حج کیا اور دوسرے پر ہمارا غلام پانی ڈھوتا تھا ۔ آپ نے فر ما یا : " رمضان المبارک میں عمرہ حج یا میرے ساتھ حج ( کی کمی ) کو پورا کر دیتا ہے
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنا ئی ( کہا : ) ہمیں عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ سے ) شجرہ کے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے سے داخل ہو تے تھے ۔ اور جب مکہ میں داخل ہو تے تو ثنیہ علیا سے داخل ہو تے اور ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلتے تھے ۔