قرآني·Qurani
اردو

الحج

607 احادیث · #2791–3397

حدیث 3251 — صحيح مسلم 15:455
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ، يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ ‏.‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏.‏
امام مالکؒ نے ابن شہاب سے انھوں نے سلیمان بن یسار سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ خشعم کی ایک خاتون آئی وہ آپ سے فتویٰ پو چھنے لگی فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی طرف اور وہ ان کی طرف دیکھنے لگی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چہرہ دوسری جا نب پھیرنے لگے ۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !بلا شبہ اللہ کا اپنے بندوں پر فرض کیا ہوا حج میرے کمزور اور بو ڑھے والد پر بھی آگیا ہے وہ سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟آپ نے فر ما یا : " ہاں ۔ اور یہ حجۃ الوداع میں ہوا
حدیث 3252 — صحيح مسلم 15:456
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ خَثْعَمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ عَلَيْهِ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فَحُجِّي عَنْهُ ‏"‏ ‏.‏
ابن جریج نے سابقہ سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ قبیلہ خشعم کی ایک عورت نے عرض کی ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد عمررسیدہ ہیں اور اللہ کا فریضہ حج ان کے ذمے ہے اور اونٹ کی پشت پر ٹھیک طرح بیٹھ نہیں سکتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم ان کی طرف سے حج کر لو ۔
حدیث 3253 — صحيح مسلم 15:457
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ، عُيَيْنَةَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ فَقَالَ ‏"‏ مَنِ الْقَوْمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا الْمُسْلِمُونَ ‏.‏ فَقَالُوا مَنْ أَنْتَ قَالَ ‏"‏ رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ ‏"‏ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابرا ہیم بن عقبہ سے حدیث بیان کی انھوں نے ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مو لیٰ کریب سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ روھا ء کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملا قات ایک قافلے سے ہو ئی آپ نے پو چھا : کو ن لو گ ہیں ؟ انھوں نے کہا : مسلمان ہیں پھر انھوں نے پو چھا : آپ کو ن ہیں ؟ آپ نے فر ما یا : " میں اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اسی دورا ن میں ایک عورت نے آپ کے سامنے ایک اجر ہو گا ۔ بچے کو بلند کیا اور کہا کیا اس کا حج ہو گا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہا ں اور تمھا رے لیے اجر ہے
حدیث 3254 — صحيح مسلم 15:458
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ، عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ ‏"‏ ‏.‏
ابو اسامہ نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : ایک عورت نے آپ کے سامنے ایک بچے کو بلند کیا اور کہا کیا اس کا حج ہو گا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہاں اور تمھارے لیے اجر ہے
حدیث 3255 — صحيح مسلم 15:459
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ امْرَأَةً، رَفَعَتْ صَبِيًّا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ ‏"‏ ‏.‏
عبد الرحمٰن نے سفیان سے انھوں نے ابرا ہیم بن عقبہ سے اور انھوں نے کریب سے روایت کی کہ : ایک عورت نے ایک بچے کو بلند کیا اور کہااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حج ہو گا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہاں اور تمھا رے لیے اجر ہے ۔
حدیث 3256 — صحيح مسلم 15:460
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمِثْلِهِ ‏.‏
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے روایت کی کہا ہمیں عبد الرحمٰن نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے مانند روایت بیان کی ۔
حدیث 3257 — صحيح مسلم 15:461
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلاَثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ - ثُمَّ قَالَ - ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَىْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَىْءٍ فَدَعُوهُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فر ما یا : " لوگو!تم پر حج فرض کیا گیا ہے لہٰذا حج کرو ۔ ایک آدمی نے کہا : کیا ہر سال ؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خاموش رہے حتیٰ کہ اس نے یہ کملہ تین بار دہرا یا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر میں کہہ دیتا : ہاں تو واجب ہو جا تا اور تم ( اس کی ) استطاعت نہ رکھتے ۔ پھر آپ نے فر ما یا : " تم مجھے اسی ( بات ) پر رہنے دیا کرو جس پر میں تمھیں چھوڑدوں تم سے پہلے لو گ کثرت سوال اور اپنے انبیاءؑ سے زیادہ اختلا ف کی بنا پر ہلا ک ہو ئے ۔ جب میں تمھیں کسی چیز کا حکم دوں تو بقدر استطاعت اسے کرو اور جب کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑ دو ۔
حدیث 3258 — صحيح مسلم 15:462
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلاَثًا إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ قطان نے ہمیں عبید اللہ سے حدیث بیان کی ( کہا ) مجھے نا فع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی عورت تین ( دن رات ) کا سفر نہ کرے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ محرم ہو ۔
حدیث 3259 — صحيح مسلم 15:463
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِيهِ، ‏ "‏ ثَلاَثَةً إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ ‏"‏ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہم سے عبد اللہ ابن نمیر اور ابو اسامہ نے حدیث بیان کی نیز ابن نمیر نے ہمیں ھدیث بیان کی کہا ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ان سب نے عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ ابو بکر کی روایت میں ہے کہ تین دن سے زیادہ اور ابن نمیر نے اپنے والد سے بیان کر دہ روایت میں کہا : تین دن مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ محرم ہو ۔
حدیث 3260 — صحيح مسلم 15:464
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلاَثِ لَيَالٍ إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ ‏"‏ ‏.‏
ابن ‌عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌كہ ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌حلال ‌نہیں ‌كسی ‌عورت ‌كو ‌جو ‌ایمان ‌ركھتی ‌ہو ‌اللہ ‌پر ‌اور ‌پچھلے ‌دن ‌پر ‌كہ ‌سفر ‌كرے ‌تین ‌رات ‌كا ‌مگر ‌اس ‌كے ‌ساتھ ‌كو‎ئی ‌محرم ‌ہو ‌
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔