حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : غزوہ تبوک کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ ۔ ۔ اور ( آگے ) حدیث بیان کی اس میں ہے پھر ہم ( سفر سے واپس ) آئے حتیٰ کہ ہم وادی میں پہنچے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " میں اپنی رفتا ر تیز کرنے والاہوں تم میں سے جو چا ہے وہ میرے ساتھ تیزی سے آجا ئے اور جو چا ہے وہ ٹھہر کر آجا ئے ۔ پھر ہم نکلے حتی کہ جب بلندی سے ہماری نگا ہ مدینہ پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " یہ طابہ ( پاک کرنے والا شہر ) ہے اوریہ احد ہے اور یہ پہاڑ ( ایسا ) ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔
حدیث 3372 — صحيح مسلم 15:576
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ، بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " .
عبید اللہ بن معاذ نے ہم سے حدیث بیان کی ( کہا : ) میرے والد نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا : ) ہمیں قرہ بن خالد نے قتادہ سے حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بے شک احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔
حدیث 3373 — صحيح مسلم 15:577
وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ " إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " .
حرم بن عمارہ نے مجھے سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھا اور فرمایا : " بے شک احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تے تھے آپ نے فر ما یا : " میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں میں ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے ۔
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میریاس مسجد میں ایک نماز کسی بھی اور مسجد کی ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد حرا م ( کی نماز ) کے ۔
حدیث 3376 — صحيح مسلم 15:580
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، حَرْبٍ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، مَوْلَى الْجُهَنِيِّينَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ - أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آخِرُ الأَنْبِيَاءِ وَإِنَّ مَسْجِدَهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ لَمْ نَشُكَّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَنَعَنَا ذَلِكَ أَنْ نَسْتَثْبِتَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ وَتَلاَوَمْنَا أَنْ لاَ نَكُونَ كَلَّمْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي ذَلِكَ حَتَّى يُسْنِدَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنْ كَانَ سَمِعَهُ مِنْهُ فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ جَالَسَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ الْحَدِيثَ وَالَّذِي فَرَّطْنَا فِيهِ مِنْ نَصِّ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْهُ فَقَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنِّي آخِرُ الأَنْبِيَاءِ وَإِنَّ مَسْجِدِي آخِرُ الْمَسَاجِدِ " .
ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور جہینہ والوں کے آزاد کردہ غلام ابو عبداللہ اغر سے روایت ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں ( شاگردوں ) میں سے تھے ۔ ۔ ۔ ان دونوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجدمیں ایک نماز مسجد حرا م کوچھوڑ کر دوسری مساجد میں ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے ۔ بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاءؑمیں سے آخری ہیں ، اور آپ کی مسجد ( بھی کسی نبی کی تعمیر کردہ ) آخری مسجد ہے ۔ ابو سلمہ اور ابو عبد اللہ نے کہا : ہمیں اس بارے میں شک نہ تھا کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے بیان کر رہے ہیں چنانچہ اسی بات نے ہمیں رو کے رکھا کہ ہم ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس حدیث کے بارے میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کا ) اثبات کرائیں حتی کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گئے تو ہم نے آپس میں اس بات کا تذکرہ کیا اور ایک دوسرے کو ملا مت کی کہ ہم نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس بارے میں گفتگو کیوں نہیں کی ، تا کہ اگر انھوں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی تو اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کردیتے ۔ ہم اسی کیفیت میں تھے کہ عبد اللہ بن ابراہیم بن قارظ ہمارے ساتھ مجلس میں آبیٹھے تو ہم نے اس حدیث کا اور جس بات کے بارے میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صراحت کرانے میں ہم نے کو تا ہی کی تھی کا تذکرہ کیا تو عبد اللہ بن ابرا ہیم بن قارظ نے ہمیں کہا : میں گو اہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بلا شبہ میں تمام انبیاءؑمیں سے آخری نبی ہوں ۔ اور میری مسجد آخری مسجد ہے ( جسے کسی نبی نے تعمیر کیا)
عبد الوہاب نے ہمیں حدیث بیان کی کہا ، میں نے یحییٰ بن سعید کو کہتے ہو ئے سنا کہ میں نے ابو صا لح سے پوچھا : کیا آپ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیان کرتے ہو ئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا : نہیں البتہ مجھے عبد اللہ بن ابرا ہیم بن قارظ نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : میری اس مسجد میں ایک نماز اس کے سوا ( دوسری ) مسجدوں کی ایک ہزار نمازوں سے بہتر ۔ ۔ ۔ یا فر ما یا : ایک ہزار نمازوں کی طرح ہے ۔ ۔ ۔ الایہ کہ وہ مسجد حرا م ہو
یحییٰ قطان نے ہمیں عبید اللہ ( بن عمر ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میریاس مسجد میں ایک نماز اس کے سوا ( دوسری مسجدوں میں ) ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے افضل ہے سوائےمسجد حرام کے ۔