قرآني·Qurani
اردو

الحج

607 احادیث · #2791–3397

حدیث 2871 — صحيح مسلم 15:81
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ مَا يَقْتُلُ الرَّجُلُ مِنَ الدَّوَابِّ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ حَدَّثَتْنِي إِحْدَى نِسْوَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الْعَقُورِ وَالْفَارَةِ وَالْعَقْرَبِ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابِ وَالْحَيَّةِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الصَّلاَةِ أَيْضًا ‏.‏
ابو عوانہ نے زید بن جبیر سے حدیث سنا ئی کہا ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : ایک آدمی احرا م کی حا لت میں کو ن سے جا نور کو قتل کر سکتا ہے ؟انھوں نے کہا : مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ نے بتا یا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( احرا م کی ھا لت میں ) باولے کتے ، چوہے ، بچھو ، چیل ، کوے اور سانپ کو مارنے کا حکم دیتے تھے ۔ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) فر ما یا : اور نماز میں بھی ۔
حدیث 2872 — صحيح مسلم 15:82
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ‏"‏ ‏.‏
مالک نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " پانچ ( موذی جا نور ایسے ) ہیں کہ احرا م باندھنے والے پر انھیں قتل کر دینے میں کو ئی گنا ہ نہیں ہے کہ کوا ، چیل ، چوہا اور کاٹنے والا کتا ۔
حدیث 2873 — صحيح مسلم 15:83
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ مَاذَا سَمِعْتَ ابْنَ عُمَرَ، يُحِلُّ لِلْحَرَامِ قَتْلَهُ مِنَ الدَّوَابِّ فَقَالَ لِي نَافِعٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ‏"‏ ‏.‏
ابن جریج نے کہا : میں نے نافع سے پو چھا : آپ نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا سنا وہ احرا م والے شخص کے لیے کن جا نوروں کو مارنا حلال قرار دیتے تھے؟نافع نے مجھ سے کہا : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے سنا : " پانچ ( موذی ) جا نور ہیں انھیں مارنے میں ان کے مارنے والے پر کو ئی گنا ہ نہیں ۔ کوا ، چیل بچھو ، چوہا اور کا ٹنے والا کتا
حدیث 2874 — صحيح مسلم 15:84
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ، بْنُ مُسْهِرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ إِلاَّ ابْنُ جُرَيْجٍ وَحْدَهُ وَقَدْ تَابَعَ ابْنَ جُرَيْجٍ عَلَى ذَلِكَ ابْنُ إِسْحَاقَ ‏.‏
لیث بن سعد اور جریر یعنی ابن حا زم نے نا فع سے اسی طرح عبید اللہ ایوب اور یحییٰ بن سعید ان تینوں نے بھی نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مالک اور ابن جریج کی طرح ہی حدیث بیان کی ان میں سے کسی ایک نے بھی نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کے الفا ظ نہیں کہے ۔ سوائے اکیلےابن جریج کے ( البتہ ) ابن اسھاق نے ان الفا ظ میں ابن جریج کی متا بعت کی ہے ۔
حدیث 2875 — صحيح مسلم 15:85
وَحَدَّثَنِيهِ فَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ خَمْسٌ لاَ جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَا قُتِلَ مِنْهُنَّ فِي الْحَرَمِ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ‏
محمد بن اسحا ق نے نافع اور عبید اللہ بن عبد اللہ سے خبر دی انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : میں ان میں سے جو بھی حرم میں قتل کر دیا جا ئے اس کے قتل پر کو ئی گنا ہ نہیں ۔ پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی ۔
حدیث 2876 — صحيح مسلم 15:86
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَمْسٌ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ حَرَامٌ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيهِنَّ الْعَقْرَبُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا ‏"‏ ‏.‏ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ ، یحییٰ بن ایو ب قتیبہ اور ابن حجر نے اسما عیل بن جعفر سے حدیث بیان کی کہا : عبد اللہ بن دینا ر سے روایت ہے کہ انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" پانچ ( موذی جا نور ) ہیں جو انھیں احرا م کی حالت میں مار دے اس پر کو ئی گناہ نہیں ۔ چو ہا ، بچھو ، کوا چیل اور کا ٹنے والا کتا ۔ الفاظ یحییٰ بن یحییٰ کے ہیں
حدیث 2877 — صحيح مسلم 15:87
وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ أَتَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ - قَالَ الْقْوَارِيرِيُّ قِدْرٍ لِي ‏.‏ وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ بُرْمَةٍ لِي - وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ ‏"‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ فَلاَ أَدْرِي بِأَىِّ ذَلِكَ بَدَأَ ‏.‏
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری اور ابو ربیع نے حدیث بیان کی ( دونوں نے کہا ) ہمیں حما د بن زید نے حدیث سنائی ( حماد بن زید نے کہا ) ہمیں ایو ب نے حدیث بیا ن کی ، کہا : میں نے مجا ہد سے سنا ، وہ عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حدیبیہ کے د نوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشر یف لا ئے میں ۔ ۔ ۔ قواریری کے بقول اپنی ہنڈیا کے نیچے اور ابو ربیع کے بقول ۔ ۔ ۔ اپنی پتھر کی دیگ کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور ( میرے سر کی ) جو ئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فر ما یا : " کیا تمھا رے سر کی مخلوق ( جوئیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمھا رے لیے با عث اذیت ہیں؟کہا : میں نے جواب دیا جی ہاں ، آپ نے فر ما یا : " تو اپنا سر منڈوادو ( اور فدیے کے طور پر ) تین دن کے روزےرکھو ۔ یا چھ مسکینوں کو کھا نا کھلا ؤ یا ( ایک ) قربا نی دے دو ۔ ایو ب نے کہا : مجھے علم نہیں ان ( فدیے کی صورتوں میں ) سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کا پہلے ذکر کیا ۔
حدیث 2878 — صحيح مسلم 15:88
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
ابن علیہ نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حدیث 2879 — صحيح مسلم 15:89
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ‏}‏ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ ادْنُهْ ‏"‏ ‏.‏ فَدَنَوْتُ فَقَالَ ‏"‏ ادْنُهْ ‏"‏ ‏.‏ فَدَنَوْتُ ‏.‏ فَقَالَ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَظُنُّهُ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَأَمَرَنِي بِفِدْيَةٍ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ ‏.‏
ابن عون نے مجا ہد سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : یہ آیت میرے بارے میں نا زل ہوئی : پھر اگر تم میں سے کو ئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ( اور وہ سر منڈوالے ) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے ۔ کہا میں آپ کی خدمت میں حا ضر ہوا آپ نے فر ما یا : "" ذرا قریب آؤ ۔ میں آپ کے ( کچھ ) قیریب ہو گیا آپ نے فر ما یا : "" اور قریب آؤ ۔ تو میں آپ کے اور قریب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : کیا تمھا ری جو ئیں تمھیں ایذا دیتی ہیں ؟ ابن عون نے کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا جی ہاں ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو آپ نے مجھے حکم دیا کے روزے صدقے یا قر بانی میں سے جو آسان ہو بطور فدیہ دوں ۔
حدیث 2880 — صحيح مسلم 15:90
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَيْفٌ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ، الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَفَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلاً فَقَالَ ‏"‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاحْلِقْ رَأْسَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ‏}‏ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ مَا تَيَسَّرَ ‏"‏ ‏.‏
سیف ( بن سلیمان ) نے کہا : میں نے مجا ہد سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حدیث سنا ئی کہا مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر ( کی طرف ) کھڑے ہو ئے اور ان کےسر سے جو ئیں گر رہی تھیں آپ نے فر ما یا " کیا تمھا ری جو ئیں تمھیں اذیت دیتی ہیں ؟ میں نے کہا جی ہاں ، آپ نے فر ما یا : " تو اپنا سر منڈوا لو ۔ ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو میرے بارے میں یہ آیت نازل ہو ئی پھر اگر کو ئی شخص بیما رہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ( اور وہ سر منڈوا لے ) تو فدیے میں رو زے رکھے یا صدقہ دے یا قر بانی کرے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فر ما یا : " تین دن کے روزے رکھویا ( کسی بھی جنس کا ) ایک فرق ( تین صاع ) چھ مسکینوں میں صدقہ کر و یا قر بانی میسر ہو کرو ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔