سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( سونے کے ) دینار کے چوتھے حصے یا اس سے زیادہ ( کی مالیت ) میں چور کا ہاتھ کاٹتے تھے
ابن شہاب نے عروہ اور عمرہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " ( سونے کے ) دینار کے چوتھے حصے یا اس سے زیادہ ( کی چوری ) کے سوا چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
سلیمان بن یسار نے عمرہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ بیان کر رہی تھیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کے سوا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
عبدالعزیز بن محمد نے یزید بن عبداللہ بن ہاد سے ، انہوں نے ابوبکر بن محمد سے ، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کے سوا چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا : حمید بن عبدالرحمان رؤاسی نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چور کا ہاتھ ڈھال سے کم مالیت میں نہیں کاٹا گیا ، وہ چمڑے کی ڈھال ہو یا لوہے کی ، یہ دونوں اچھی خاصی قیمت والی تھیں ۔ ( معمولی چیز میں نہیں کاٹا)
عبدہ بن سلیمان ، حمید بن عبدالرحمٰن ، عبدالرحیم بن سلیمان اور ابواسامہ سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ابن نمیر کی حمید سے بیان کردہ روایت کی طرح حدیث بیان کی ۔ اور عبدالرحیم اور ابواسامہ کی حدیث میں ہے : ان دنوں وہ ( ڈھال ) قیمتی چیز تھی
حدیث 4406 — صحيح مسلم 29:9
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطَعَ سَارِقًا فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ .
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چور کا ہاتھ ایک ڈھال ( کی چوری ) میں کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی
لیث بن سعد ، عبیداللہ ( بن عمر بن حفص العمری ) ، ایوب سختیانی ، ایوب بن موسیٰ ، اسماعیل بن امیہ ، موسیٰ بن عقبہ ، حنظلہ بن ابی سفیان جمحی ، عبیداللہ بن عمر ( عمری ) مالک بن انس اور اسامہ بن زید لیثی تک ان کے شاگردوں کی مختلف سندیں ہیں ۔ ان کے بعد ان سب نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، امام مالک سے یحییٰ کی حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ ان میں سے بعض نے اس کی قیمت کہا اور بعض نے تین درہم کا ثمن ( معنی وہی ہے)