وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ، مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُمْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجَمَ فِي الزِّنَى يَهُودِيَّيْنِ رَجُلاً وَامْرَأَةً زَنَيَا فَأَتَتِ الْيَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِهِمَا . وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ .
ابن علیہ نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، نیز عبداللہ بن وہب نے کہا : مجھے اہل علم میں سے بہت سے آدمیوں نے جن میں امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں ، خبر دی کہ انہیں نافع نے بتایا ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا ( کی حد ) میں دو یہودیوں ، ایک مرد اور ایک عورت کو ، جنہوں نے زنا کیا تھا ، رجم کرایا ۔ یہود انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔ ۔ آگے اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح حدیث بیان کی
حدیث 4439 — صحيح مسلم 29:42
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ أَنَّ الْيَهُودَ، جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ مِنْهُمْ وَامْرَأَةٍ قَدْ زَنَيَا . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ .
موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یہود اپنے ایک مرد اور ایک عورت کو ، جنہوں نے زنا کیا تھا ، لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ ۔ آگے نافع سے عبیداللہ کی روایت کردہ حدیث کی طرح بیان کیا
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک یہودی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزارا گیا جس کا منہ کالا کیا ہوا تھا اسے کوڑے لگائے گئے تھے ، آپ نے انہیں ( ان کے عالموں کو ) بلایا اور پوچھا : " کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد اسی طرح پاتے ہو؟ " انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ ( بعد ازاں آپ کے حکم سے تورات منگوائی گئی ۔ انہوں نے آیت رجم چھپا لی ، وہ ظاہر ہو گئی ۔ اس کے بعد ) آپ نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلایا اور فرمایا : " میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی! کیا تم لوگ اپنی کتاب میں زانی کی حد اسی طرح پاتے ہو؟ " اس نے جواب دیا : نہیں ، اور اگر آپ مجھے یہ قسم نہ دیتے تو میں آپ کو نہ بتاتا ۔ ( ہم کتاب مین ) رجم ( کی سزا لکھی ہوئی ) پاتے ہیں ۔ لیکن ہمارے اشراف میں زنا بہت بڑھ گیا ۔ ( اس وجہ سے ) ہم جب کسی معزز کو پکڑتے تھے تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد نافذ کر دیتے تھے ۔ ہم نے ( آپس میں ) کہا : آؤ! کسی ایسی چیز ( سزا ) پر جمع ہو جائیں جسے ہم معزز اور معمولی آدمی ( دونوں ) پر لاگو کر سکیں ، تو ہم نے رجم کے بجائے منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے ( کی سزا ) بنا لی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جبکہ انہوں نے اسے مردہ کر دیا تھا ۔ " پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ۔ اس پر اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " اے رسول! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کڑھیے جو تیزی سے کفر میں داخل ہوتے ہیں ۔ ۔ " اس فرمان تک : " اگر تمہیں یہی حکم دیا جائے تو قبول کر لینا ۔ " ( النائدہ : 41 : 5 ) ( ان کو مشورہ دینے والا ) کہتا تھا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ، اگر وہ تمہیں ( یہی ) منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے کا حکم دیں تو قبول کر لینا اور اگر رجم کا فتویٰ دیں تو احتراز کرنا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " اور جو لوگ اس ( حکم ) کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں ۔ " ( المائدہ : 44 : 5 ) " اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔ " ( المائدۃ؛ 45 : 5 ) " اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی لوگ فاسق ہیں ۔ " ( المائدہ : 47 : 5 ) یہ ساری آیات کفار کے بارے میں ہیں
حدیث 4441 — صحيح مسلم 29:44
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَ . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ نُزُولِ الآيَةِ .
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ اس قول تک ، اسی طرح حدیث بیان کی : " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ۔ " انہوں نے اس کے بعد کا ، آیات کے نازل ہونے والا حصہ بیان نہیں کیا
حدیث 4442 — صحيح مسلم 29:45
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ رَجَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلاً مِنَ الْيَهُودِ وَامْرَأَتَهُ .
حجاج بن محمد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہون نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک مرد اور یہود کے ایک مرد اور اس کی ( آشنا ) عورت کو رجم کروایا
ابواسحاق شیبانی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ کہا : میں نے پوچھا : سورہ نور نازل کیے جانے کے بعد یا اس سے پہلے؟ انہوں نے کہا : میں نہیں جانتا
لیث نے سعید بن ابی سعید سے ، انہوں نے اپنے والد سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا ( کسی دلیل سے ) واضح ( ثابت ) ہو جائے تو وہ ( مالک ) اس پر حد لگائے اور اسے ملامت نہ کرتا رہے ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اس کو حد لگائے اور اسے ملامت نہ کرتا رہے ، پھر اگر وہ تیسری بار زنا کرے اور اس کا زنا واضھ ہو جائے تو اسے فروخت کر دے ، چاہے بالوں کی ایک رسی ہی کے عوض کیوں نہ بِکے
ایوب بن موسیٰ ، عبیداللہ بن عمر ، اسامہ بن زید اور محمد بن اسحاق سب نے سعید مقبری سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، البتہ ابن اسحاق نے اپنی حدیث میں کہا : سعید نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کو ، جب وہ تین بار زنا کرے ، کوڑے لگانے کی بات روایت کی ، ( آگے فرمایا ) " پھر چوتھی بار اسے فروخت کر دے
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے کہا : ہمیں مالک نے حدیث سنائی ، اور یحییٰ بن یحییٰ نے ۔ ۔ حدیث کے الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا ، جب وہ زنا کرے اور شادی شدہ نہ ہو ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ ، پھر اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ ، پھر اسے فروخت کر دو ، چاہے ایک گندھی ہوئی رسی کے عوض کیوں نہ ہو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : میں نہیں جانتا یہ ( بیچتے کا حکم ) تیسری بار کے بعد ہے یا چوتھی بار کے بعد ۔ قعنبی نے اپنی روایت میں کہا : ابن شہاب نے کہا : اور ضفیر سے مراد رسی ہے