قرآني·Qurani
اردو

الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار

132 احادیث · #6805–6936

حدیث 6905 — صحيح مسلم 48:98
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي، إِسْحَاقَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّى، قَالَ فِي رِوَايَتِهِ ‏ "‏ وَالْعِفَّةَ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، البتہ ابن مثنیٰ نے اپنی روایت میں ( عفاف کی بجائے ) " عفت " کا لفظ کہا ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے ۔)
حدیث 6906 — صحيح مسلم 48:99
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآَخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ لاَ أَقُولُ لَكُمْ إِلاَّ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلاَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لاَ يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لاَ يُسْتَجَابُ لَهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن حارث اور ابو عثمان نہدی نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں تمہیں اسی طرح بتاتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ، آپ فرماتے تھے : " اے اللہ! میں تجھ سے تیری پناہ میں آتا ہوں ، عاجز ہو جانے ، سستی ، بزدلی ، بخل ، سخت بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے ۔ اے اللہ! میرے دل کو تقویٰ دے ، اس کو پاکیزہ کر دے ، تو ہی اس ( دل ) کو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے ، تو ہی اس کا رکھوالا اور اس کا مددگار ہے ۔ اے اللہ! میں تجھ سے ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو کوئی فائدہ نہ دے اور ایسے دل سے جو ( تیرے آگے ) جھک کر مطمئن نہ ہوتا ہو اور ایسے من سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جسے شرف قبولیت نصیب نہ ہو ۔
حدیث 6907 — صحيح مسلم 48:100
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمْسَى قَالَ ‏"‏ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْحَسَنُ فَحَدَّثَنِي الزُّبَيْدُ أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي هَذَا ‏"‏ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏
عبدالواحد بن زیاد نے حسن بن عبداللہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابراہیم بن سعد نخعی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن یزید نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب شام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے : "" ہم نے شام کی اور سارا ملک ( شام کے وقت بھی ) اللہ کا ہوا ، سب شکر اور تعریف اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ( مالک ، معبود ) ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ "" حسن ( بن عبیداللہ ) نے کہا : مجھے زید نے حدیث بیان کی ، انہوں نے اس ( دعا ) میں ( یہ حصہ ) ابراہیم ( نخعی ) سے ( سن کر ) حفظ کہا : "" اسی کی بادشاہی اور اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے ۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی بھلائی مانگتا ہوں اور تجھ سے اس رات کی اور اس کے بعد ( کے ہر لمحے ) کی برائی سے پناہ طلب کرتا ہوں ، اے اللہ! میں کسل مندی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم میں کسی بھی قسم کے عذاب سے اور قبر میں کسی بھی قسم کے عذاب سے ۔
حدیث 6908 — صحيح مسلم 48:101
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمْسَى قَالَ ‏"‏ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أُرَاهُ قَالَ فِيهِنَّ ‏"‏ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏ وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا ‏"‏ أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ ‏"‏ ‏.‏
جریر نے حسن بن عبیداللہ سے ، انہوں نے ابراہیم بن سوید سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب شام کرتے تو ( دعا کرتے ہوئے ) فرماتے : " ہم اور سارا ملک شام کے وقت بھی اللہ کا ہوا ، سب حمد اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ " ( حسن بن عبیداللہ نے ) کہا : میں دیکھتا ہوں کہ انہوں ( ابراہیم نخعی ) نے ان کلمات میں یہ بھی کہا : " ساری بادشاہت اسی کی ہے ، ( ہر نعمت پر ) ساری تعریف بھی اسی کو سزاوار ہے ، وہی ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے ۔ اے میرے پروردگار! جو کچھ اس رات میں ہے اور جو اس کے بعد ہے ، میں تجھ سے اس کی بھلائی کا طلبگار ہوں اور جو کچھ اس رات میں ہے اور جو اس کے بعد ہے اس کی برائی سے میں تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ اے میرے پروردگار! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کسل مندی سے اور بڑھاپے کی خرابی سے ۔ اے میرے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جہنم میں کسی بھی قسم کے عذاب سے اور قبر میں کسی بھی قسم کے عذاب سے ۔ " اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کرتے تو ( بالکل اسی طرح ) فرماتے : ہم اور ساری بادشاہت اور اختیار صبح کو ( بھی ) اللہ کے ہوئے ۔
حدیث 6909 — صحيح مسلم 48:102
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ، عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمْسَى قَالَ ‏"‏ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَزَادَنِي فِيهِ زُبَيْدٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ ‏"‏ ‏.‏
زائدہ نے حسن بن عبیداللہ سے ، انہوں نے ابراہیم بن سُوید سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت ( دعا کرتے ہوئے یہ ) فرمایا کرتے تھے : "" ہم نے اور سارے ملک نے اللہ کے ( حکم و فرمان کی پابندی کے ) لیے شام کی ۔ سب تعریف اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی اور اس میں موجود ہر بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے اس رات کے اور اس میں موجود ہر شر سے پناہ کا طلبگار ہوں ۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، سستی طاری ہو جانے سے اور عمر ( کے حد سے ) بڑھ جانے سے اور بڑھاپے کی خرابی سے اور دنیا کے ہر فتنے اور قبر کے عذاب سے ۔ "" حسن بن عبیداللہ نے کہا : زبید نے مجھے ابراہیم بن سوید ( نخعی ) سے ، انہوں نے عبدالرحمان بن یزید سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہوئے مزید یہ بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( جب شام کرتے تو ) یہ فرماتے : "" اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، ساری بادشاہت اسی کی ہے ، سب تعریف اسی کو سزاوار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔
حدیث 6910 — صحيح مسلم 48:103
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ فَلاَ شَىْءَ بَعْدَهُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دعا کرتے ہوئے یہ ) فرمایا کرتے تھے : " اکیلے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، اس نے اپنے لشکر کو عزت دی ، اپنے بندے کی نصرت کی ، اکیلا وہ تمام جماعتوں پر غالب آیا ، ( وہی آخر ہے ) اس کے بعد کچھ نہیں ۔
حدیث 6911 — صحيح مسلم 48:104
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قُلِ اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَالسَّدَادِ سَدَادَ السَّهْمِ ‏"‏ ‏.‏
ابوکریب محمد بن علاء نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ( عبداللہ ) بن ادریس نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں عاصم بن کلیب سے سنا ، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " ( دعا کرتے ہوئے یہ ) کہو : اے اللہ! مجھے ہدایت دے اور مجھے سیدھے راستے پر چلا ، اور ( اے علی! ) ہدایت ( کا نام لیتے ہوئے اس ) سے صحیح راستے پر چلنے کو ذہن میں رکھو اور سیدھا رہنے سے تیری جیسی سدھائی مراد کو ( مانگتے ہوئے ہدایت اور صواب کا کمال طلب کرو ۔)
حدیث 6912 — صحيح مسلم 48:105
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ - أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
ابن نمیر نے کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں عاصم بن کلیب نے اسی سند کے ساتھ خبر دی ( کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " ( اے علی! یہ ) کہو : اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور راستی کا سوال کرتا ہوں ۔ " پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔
حدیث 6913 — صحيح مسلم 48:106
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِيَ جَالِسَةٌ فَقَالَ ‏"‏ مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ ‏"‏ ‏.‏
کُریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھنے کے بعد صبح سویرے ان کے ہاں سے باہر تشریف لے گئے ، اس وقت وہ اپنی نماز پڑھنے والی جگہ میں تھیں ، پھر دن چڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس واپس تشریف لائے تو وہ ( اسی طرح ) بیٹھی ہوئی تھیں ۔ آپ نے فرمایا : " تم اب تک اسی حالت میں بیٹھی ہوئی ہو جس پر میں تمہیں چھوڑ کر گیا تھا؟ " انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے ( ہاں سے جانے کے ) بعد میں نے چار کلمے تین بار کہے ہیں ، اگر ان کو ان کے ساتھ تولا جائے جو تم نے آج کے دن اب تک کہا ہے تو یہ ان سے وزن میں بڑھ جائیں : " سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته " پاکیزگی ہے اللہ کی اور اس کی تعریف کے ساتھ ، جتنی اس کی مخلوق کی گنتی ہے اور جتنی اس کو پسند ہے اور جتنا اس کے عرش کا وزن اور جتنی اس کے کلمات کی سیاہی ہے ۔
حدیث 6914 — صحيح مسلم 48:107
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي رِشْدِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، قَالَتْ مَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ صَلَّى صَلاَةَ الْغَدَاةِ أَوْ بَعْدَ مَا صَلَّى الْغَدَاةَ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابورشدین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : صبح کی نماز کے وقت یا صبح کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرتے ہوئے ان کے ہاں تشریف لائے ۔ ۔ پھر اس ( پچھلی حدیث ) کے مطابق بیان کیا ۔ ۔ مگر انہوں نے ( اپنے کلموں کو اس طرح ) بیان کیا : " میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنی اس کی مخلوقات کی گنتی ہے ، میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنی اس کی رضا ہے ، میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنا اس کے عرش کا وزن ہے ، میں اللہ کی تسبیح کرتا ہوں جتنی اس کے کلمات کی سیاہی ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔