قرآني·Qurani
اردو

الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار

132 احادیث · #6805–6936

حدیث 6925 — صحيح مسلم 48:117
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجِسْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ أَىُّ الْكَلاَمِ أَفْضَلُ قَالَ ‏ "‏ مَا اصْطَفَى اللَّهُ لِمَلاَئِكَتِهِ أَوْ لِعِبَادِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ‏"‏ ‏.‏
وہیب نے کہا : ہمیں سعید جریری نے ابو عبداللہ جسری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : ( اللہ کے ذکر کے لیے ) کون سا کلمہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جسے اللہ نے اپنے فرشتوں کے لیے یا ( ان سمیت ) اپنے تمام بندوں کے لیے منتخب فرمایا ہے : سبحان الله وبحمده " میں ( ہر نعمت کے لیے ) اللہ کی حمد کے ساتھ ہر ناشایان چیز سے اس کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں ۔
حدیث 6926 — صحيح مسلم 48:118
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ، مِنْ عَنَزَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكَ بِأَحَبِّ الْكَلاَمِ إِلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِأَحَبِّ الْكَلاَمِ إِلَى اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ أَحَبَّ الْكَلاَمِ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے جریر سے ، انہوں نے ابوعبداللہ جسری سے جو عنزہ قبیلے سے تھے ، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتاؤں جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ " میں نے کہا : اللہ کے رسول! مجھے وہ کلمہ بتائیے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کو سب سےزیادہ محبوب کلمہ سبحان الله وبحمده ہے ۔
حدیث 6927 — صحيح مسلم 48:119
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْوَكِيعِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَدْعُو لأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِلاَّ قَالَ الْمَلَكُ وَلَكَ بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏
فضیل نے طلحہ بن عبیداللہ بن کریز سے ، انہوں نے ام درداء سے اور انہوں نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی مسلمان بندہ نہیں جو اپنے بھائی کی پیٹھ پیچھے اس کے لیے دعا کرے ، مگر ایک فرشتہ ( ہے جو ) کہتا ہے : تمہیں بھی اس کے مانند ملے ۔
حدیث 6928 — صحيح مسلم 48:120
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَرْوَانَ، الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ حَدَّثَنِي سَيِّدِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ دَعَا لأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏
موسیٰ بن سروان معلم نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے طلحہ بن عبیداللہ بن کریز نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی ، کہا : میرے آقا ( خاوند ) نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جس شخص نے اپنے بھائی کے لیے اس کی پیٹھ پیچھے دعا کی تو جو فرشتہ اس کے ساتھ مقرر ہے وہ کہتا ہے : آمین اور تمہیں بھی اسی کے مانند عطا ہو ۔
حدیث 6929 — صحيح مسلم #6929
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي، سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ صَفْوَانَ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ - وَكَانَتْ تَحْتَهُ الدَّرْدَاءُ قَالَ قَدِمْتُ الشَّامَ فَأَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَنْزِلِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ فَقَالَتْ أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَتْ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ دَعْوَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ كُلَّمَا دَعَا لأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں عبدالملک بن ابی سلیمان نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن صفوان کے بیٹے صفوان سے روایت کی ، ( حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی بیٹی ) درداء ، ان ( صفوان ) کی زوجیت میں تھی ، وہ کہتے ہیں : اور میں شام آیا تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہاں ان کے گھر گیا ، وہ نہیں ملے ، میں حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے ملا تو انہوں نے کہا : کیا تم اس سال حج کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ انہوں نے کہا : ہمارے لیے خیر کی دعا کرنا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : " مسلمان کی اپنے بھائی کے لیے اس کی پیٹھ پیچھے کی گئی دعا مستجاب ہوتی ہے ، اس کے سر کے قریب ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے ، وہ جب بھی اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو مقرر کیا ہوا فرشتہ اس پر کہتا ہے : آمین ، اور تمہیں بھی اسی کے مانند عطا ہو ۔
حدیث 6930 — صحيح مسلم 48:121
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي، سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ صَفْوَانَ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ - وَكَانَتْ تَحْتَهُ الدَّرْدَاءُ قَالَ قَدِمْتُ الشَّامَ فَأَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَنْزِلِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ فَقَالَتْ أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَتْ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ دَعْوَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ كُلَّمَا دَعَا لأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں عبدالملک بن ابی سلیمان نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن صفوان کے بیٹے صفوان سے روایت کی ، ( حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی بیٹی ) درداء ، ان ( صفوان ) کی زوجیت میں تھی ، وہ کہتے ہیں : اور میں شام آیا تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہاں ان کے گھر گیا ، وہ نہیں ملے ، میں حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے ملا تو انہوں نے کہا : کیا تم اس سال حج کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ انہوں نے کہا : ہمارے لیے خیر کی دعا کرنا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : " مسلمان کی اپنے بھائی کے لیے اس کی پیٹھ پیچھے کی گئی دعا مستجاب ہوتی ہے ، اس کے سر کے قریب ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے ، وہ جب بھی اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو مقرر کیا ہوا فرشتہ اس پر کہتا ہے : آمین ، اور تمہیں بھی اسی کے مانند عطا ہو ۔
حدیث 6931 — صحيح مسلم 48:122
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي، سُلَيْمَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، ‏.‏
یزید بن ہارون نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، اور کہا : صفوان بن عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے ۔
حدیث 6932 — صحيح مسلم 48:123
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ، مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏
ابواسامہ اور محمد بن بشر نے زکریا بن ابی زائدہ سے ، انہوں نے سعید بن ابی بُردہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس بات پر ( اپنے ) بندے سے راضی ہوتا ہے کہ وہ ایک کھانا کھائے اور اس پر اللہ کی حمد کرے یا پینے کی کوئی چیز ( پانی ، دودھ وغیرہ ) پیے اور اس پر اللہ کی حمد کرے ۔
حدیث 6933 — صحيح مسلم 48:124
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
اسحٰق بن یوسف ازرق نے کہا : ہمیں زکریا بن ابی زائدہ نے سعید بن ابی بُردہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ( آگے ) اسی کے مانند ( ہے ۔)
حدیث 6934 — صحيح مسلم 48:125
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ فَلاَ أَوْ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي ‏"‏ ‏.‏
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام ابوعبید سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک وہ جلد بازی کرتے ہوئے یہ نہیں کہتا : میں نے دعا کی ، لیکن میرے حق میں قبول نہیں ہوتی ۔ ۔ یا نہیں ہوئی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔