ابو احوص نے ابواسحٰق سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : " اے فلاں! جب تم اپنے بستر پر لیٹنے لگو ۔ ۔ ۔ " اس کے بعد عمرو بن مرہ کی حدیث کے مانند ہے ۔ ( مگر ابو احوص نے منصور کی روایت کی طرح ) یہ الفاظ کہے : " ( اور میں ایمان لایا ) تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا ، پھر اگر تم اس رات مر گئے تو ( عین ) فطرت پر مرو گے اور اگر تم نے ( زندہ حالت میں ) صبح کر لی تو خیر ( و بھلائی ) حاصل کرو گے ۔
شعبہ نے ابواسحٰق سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا ، اسی کے مانند ، اور انہوں نے " اگر تم نے ( زندہ حالت میں ) صبح کی تو خیر حاصل کرو گے " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا کرتے : " اے اللہ! میں تیرے نام سے جیتا ہوں اور تیرے نام سے وفات پاؤں گا " اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے : " اللہ کی حمد ہے جس نے ہمیں وفات دینے کے بعد زندہ کر دیا اور اسی کی طرف ( قیامت کے روز ) زندہ ہو کر جاتا ہے ۔
عقبہ بن مُکرم اور ابوبکر بن نافع نے کہا : ہمیں غندر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خالد سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن حارث کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے ایک شخص سے کہا کہ جب وہ اپنے بستر پر جائے تو یہ دعا کرے : "" اے اللہ! میری جان کو تو نے پیدا کیا اور تو ہی اس کو موت دے گا ، اس جان کی موت بھی اور زندگی بھی تیرے ہی لیے ہے ، اگر تو اس کو زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرمانا اور اگر تو اس کو موت دے تو اس کی مغفرت کرنا ، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت مانگتا ہوں ۔ "" ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ان سے جو حضرت عمر سے زیادہ افضل ہیں ( میں نے یہ حدیث ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( سنی ہے ۔ ) ابن نافع نے اپنی روایت میں کہا : عبداللہ بن حارث سے روایت ہے ، یہ نہیں کہا : میں نے سنا ۔
جریر نے سہیل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ( میرے والد ) ابوصالح ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو بستر پر دائیں کروٹ لیٹے ، پھر دعا کرے : اے اللہ! اے آسمانوں کے رب اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب ، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب ، دانے اور گٹھلیوں کو چیر ( کر پودے اور درخت اگا ) دینے والے! تورات ، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے ، اے اللہ! تو ہی اول ہے ، تجھ سے پہلے کوئی شے نہیں ، اے اللہ! تو ہی آخر ہے ، تیرے بعد کوئی شے نہیں ہے ، تو ہی ظاہر ہے ، تیرے اوپر کوئی شے نہیں ہے ، تو ہی باطن ہے ، تجھ سے پیچھے کوئی شے نہیں ہے ، ہماری طرف سے ( ہمارا ) قرض ادا کر اور ہمیں فقر سے غنا عطا فرما ۔ وہ اس حدیث کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ ( آگے ) اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے ۔
خالد طحان نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم اپنے بستروں پر لیٹیں تو یہ دعا کریں ، جریر کی حدیث کے مانند ( اور خالد طحان نے " ہر اس چیز کے شر سے " کے بجائے ) کہا : " ہر اس جاندار کے شر سے ( تیری پناہ چاہتا ہوں ) جسے تو نے اس کی پیشانی سے پکڑا ہوا ہے ۔
اعمش نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خادم مانگنے کے لیے آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جواب میں ) ان سے کہا : " ( بیٹی! ) تم کہا کرو : اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب! " جس طرح سہیل نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے روایت کی ۔
انس بن عیاض نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر پر لیٹنا چاہے تو اپنے تہبند کا اندرونی حصہ لے کر اس سے اپنے بستر کو جھاڑے ، پھر بسم اللہ کہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس ( کے اٹھ جانے ) کے بعد اس کے بستر پر ( مخلوقات میں سے ) کون آیا؟ پھر جب لیٹنا چاہے تو اپنی دائیں کروٹ لیٹے اور کہے : " میرے پروردگار! تو ( ہر نا شایان بات سے ) پاک ہے ، میں نے تیرے ( حکم ) سے اپنا پہلو ( بستر پر ) رکھا اور تیرے ہی حک سے اسے اٹھاؤں گا اگر تو نے میری روح کو ( اپنے پاس ) روک لیا تو اس کی مغفرت کر دینا اور اگر تو نے اسے ( واپس ) بھیج دیا تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمانا جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۔
عبدہ نے عبیداللہ بن عمر سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی اور کہا : " پھر وہ یہ ہے : تیرے نام سے اے پروردگار! میں نے اپنا پہلو ٹکایا ، اگر تو نے میری جان کو زندہ کیا تو اس پر رحمت فرمانا ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تو فرماتے : " اللہ تعالیٰ کی حمد ہے جس نے ہمیں کھلایا ، پلایا ، ( ہر طرح سے ) کافی ہوا اور ہمیں ٹھکانا دیا ۔ کتنے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے نہ ٹھکانہ دینے والا ۔