قرآني·Qurani
اردو

الرضاع

84 احادیث · #3568–3651

حدیث 3638 — صحيح مسلم 17:71
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ - أَوْ قَالَ سَبْعَ - فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ - أَوْ سَبْعَ - وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ أَوْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَجِيءَ بِامْرَأَةٍ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ لِي خَيْرًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ ‏"‏ تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ اور ابو ربیع زہرانی نے ہمیں حدیث بیان کی ، یحییٰ نے کہا : حماد بن زید نے ہمیں عمرو بن دینار سے خبر دی ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ( میرے والد ) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور پیچھے نو بیٹیاں ۔ ۔ یا کہا : سات بیٹیاں ۔ ۔ چھوڑیں تو میں نے ایک ثیبہ ( دوہاجو ) عورت سے نکاح کر لیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : "" جابر! نکاح کر لیا ہے؟ "" میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے پوچھا : "" کنواری ہے یا دوہاجو؟ "" میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! دوہاجو ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" کنواری کیوں نہیں ، تم اس سے دل لگی کرتے ، وہ تم سے دل لگی کرتی ۔ ۔ یا فرمایا : تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے ، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی ۔ ۔ "" میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : ( میرے والد ) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور پیچھے نو ۔ ۔ یا سات ۔ ۔ بیٹیاں چھوڑیں ، تو میں نے اچھا نہ سمجھا کہ میں ان کے پاس انہی جیسی ( کم عمر ) لے آؤں ۔ میں نے چاہا کہ ایسی عورت لاؤں جو ان کی نگہداشت کرے اور ان کی اصلاح کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تمہیں برکت دے! "" یا آپ نے میرے لیے خیر اور بھلائی کی دعا فرمائی ۔ اور ابوربیع کی روایت میں ہے : "" تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی اور تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے ، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی
حدیث 3639 — صحيح مسلم 17:72
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ قَالَ ‏"‏ أَصَبْتَ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ ‏.‏
سفیان نے ہمیں عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : " جابر! کیا تم نے نکاح کر لیا ہے؟ " اور آگے یہاں تک بیان کیا : ایسی عورت جو اُن کی نگہداشت کرے اور ان کی کنگھی کرے ، آپ نے فرمایا : " تم نے ٹھیک کیا ۔ " اور انہوں نے اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا
حدیث 3640 — صحيح مسلم 17:73
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ فَلَمَّا أَقْبَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ فَانْطَلَقَ بَعِيرِي كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الإِبِلِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا يُعْجِلُكَ يَا جَابِرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ ‏"‏ أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلاً - أَىْ عِشَاءً - كَىْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ ‏"‏ إِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ ‏"‏ ‏.‏
شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے ۔ جب ہم واپس ہوئے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کو تھوڑا سا تیز کیا ، میرے ساتھ پیچھے سے ایک سوار آ کر ملا انہوں نے لوہے کی نوک والی چھڑی سے جو ان کے ساتھ تھی ، میرے اونٹ کو کچوکا لگایا ، تو وہ اتنا تیز چلنے لگا جتنا آپ نے کسی بہترین اونٹ کو ( تیز چلتے ہوئے ) دیکھا ، آپ نے پوچھا : "" جابر! تمہیں کس چیز نے جلدی میں ڈال رکھا ہے؟ "" میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! میں نے نئی نئی شادی کی ہے ۔ آپ نے پوچھا : "" باکرہ سے شادی کی ہے یا ثیبہ ( دوہاجو ) سے؟ "" انہوں نے عرض کی : ثیبہ سے ۔ آپ نے فرمایا : "" تم نے کسی ( کنواری ) لڑکی سے کیوں نہ کی ، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے ، وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی؟ "" کہا : جب ہم مدینہ آئے ، ( اس میں ) داخل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا : "" ٹھہر جاؤ ، ہم رات ۔ ۔ یعنی عشاء ۔ ۔ کے وقت داخل ہوں ، تاکہ پراگندہ بالوں والی بال سنوار لے اور جس جس کا شوہر غائب رہا ، وہ بال ( وغیرہ ) صاف کر لے ۔ "" اور فرمایا : "" جب گھر پہنچنا تو عقل و تحمل سے کام لینا ( حالت حیض میں جماع نہ کرنا)
حدیث 3641 — صحيح مسلم 17:74
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي فَأَتَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي ‏"‏ يَا جَابِرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا فَتَخَلَّفْتُ ‏.‏ فَنَزَلَ فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْ ‏"‏ ‏.‏ فَرَكِبْتُ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَكُفُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَتَزَوَّجْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ بَلْ ثَيِّبٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَتَبِيعُ جَمَلَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ ‏"‏ الآنَ حِينَ قَدِمْتَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَدَعْ جَمَلَكَ وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَمَرَ بِلاَلاً أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً فَوَزَنَ لِي بِلاَلٌ فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ - قَالَ - فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا وَلَّيْتُ قَالَ ‏"‏ ادْعُ لِي جَابِرًا ‏"‏ ‏.‏ فَدُعِيتُ فَقُلْتُ الآنَ يَرُدُّ عَلَىَّ الْجَمَلَ ‏.‏ وَلَمْ يَكُنْ شَىْءٌ أَبْغَضَ إِلَىَّ مِنْهُ فَقَالَ ‏"‏ خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ ثَمَنُهُ ‏"‏ ‏.‏
وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلا تھا ، میرے اونٹ نے میری رفتار سست کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا : " جابر! " میں نے عرض کی : جی ۔ آپ نے پوچھا : " کیا معاملہ ہے؟ " میں نے عرض کی : میرے لیے میرا اونٹ سست پڑ چکا ہے اور تھک گیاہے ، اس لیے میں پیچھے رہ گیا ہوں ۔ آپ ( اپنی سواری سے ) اترے اور اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے اسے کچوکا لگایا ، پھر فرمایا : " سوار ہو جاؤ ۔ " میں سوار ہو گیا ۔ اس کے بعد میں نے خود کو دیکھا کہ میں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی اونٹنی ) سے ( آگے بڑھنے سے ) روک رہا ہوں ۔ پھر آپ نے پوچھا : " کیا تم نے شادی کر لی؟ " میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے پوچھا : " کنواری سے یا دوہاجو سے؟ " میں نے عرض کی : دوہاجو ہے ۔ آپ نے فرمایا : " ( کنواری ) لڑکی سے کیوں نہ کی ، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے ، وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی ۔ " میں نے عرض کی : میری ( چھوٹی ) بہنیں ہیں ۔ میں نے چاہا کہ ایسی عورت سے شادی کروں جو ان کی ڈھارس بندھائے ، ان کی کنگھی کرے اور ان کی نگہداشت کرے ۔ آپ نے فرمایا : " تم ( گھر ) پہنچنے والے ہو ، جب پہنچ جاؤ تو احتیاط اور عقل مندی سے کام لینا ۔ " پھر پوچھا : " کیا تم اپنا اونٹ بیچو گے؟ " میں نے عرض کی : جی ہاں ، چنانچہ آپ نے وہ ( اونٹ ) مجھ سے ایک اوقیہ ( چاندی کی قیمت ) میں خرید لیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے اور میں صبح کے وقت پہنچا ، مسجد میں آیا تو آپ کو مسجد کے دروازے پر پایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " ابھی پہنچے ہو؟ " میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : " اپنا اونٹ چھوڑو اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کرو ۔ " میں مسجد میں داخل ہوا ، نماز پڑھی ، پھر ( آپ کے پاس ) واپس آیا تو آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک اوقیہ ( چاندی ) تول دیں ، چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے وزن کیا ، اورترازو کو جھکایا ( اوقیہ سے زیادہ تولا ۔ ) کہا : اس کے بعد میں چل پڑا ، جب میں نے پیٹھ پھیری تو آپ نے فرمایا : " جابر کو میرے پاس بلاؤ ۔ " مجھے بلایا گیا ۔ میں نے ( دل میں ) کہا : اب آپ میرا اونٹ ( بھی ) مجھے واپس کر دیں گے ۔ اور مجھے کوئی چیز اس سے زیادہ ناپسند نہ تھی ( کہ میں قیامت وصول کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا اونٹ بھی واپس لے لوں ۔ ) آپ نے فرمایا : " اپنا اونٹ لے لو اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے
حدیث 3642 — صحيح مسلم 17:75
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا فِي مَسِيرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ إِنَّمَا هُوَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ - قَالَ - فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ نَخَسَهُ - أُرَاهُ قَالَ - بِشَىْءٍ كَانَ مَعَهُ قَالَ فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَقَدَّمُ النَّاسَ يُنَازِعُنِي حَتَّى إِنِّي لأَكُفُّهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ لِي ‏"‏ أَتَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا وَتُلاَعِبُكَ وَتُلاَعِبُهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو نَضْرَةَ فَكَانَتْ كَلِمَةً يَقُولُهَا الْمُسْلِمُونَ ‏.‏ افْعَلْ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ‏.‏
ابونضرہ نے ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، اور میں ایک پانی ڈھونے والے اونٹ پر ( سوار ) تھا ۔ اور وہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے ساتھ تھا ۔ کہا : آپ نے اسے ۔ ۔ میرا خیال ہے ، انہوں نے کہا : اپنے پاس موجود کسی چیز سے ۔ ۔ مارا ، یا کہا : کچوکا لگایا ، کہا : اس کے بعد وہ لوگوں ( کے اونٹوں ) سے آگے نکلنے لگا ، وہ مجھ سے کھینچا تانی کرنے لگا حتیٰ کہ مجھے اس کو روکنا پڑتا تھا ۔ کہا : اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا تم مجھے یہ اتنے اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہیں معاف فرمائے! "" کہا : میں نے عرض کی ۔ اللہ کے نبی! وہ آپ ہی کا ہے ۔ آپ نے ( دوبارہ ) پوچھا : "" کیا تم مجھے وہ اتنے اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہارے گناہ معاف فرمائے! "" کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے نبی! وہ آپ کا ہے ۔ کہا : اور آپ نے مجھ سے ( یہ بھی ) پوچھا : "" کیا اپنے والد ( کی وفات ) کے بعد تم نے نکاح کر لیا ہے؟ "" میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے پوچھا : "" دوہاجو ( شوہر دیدہ ) سے یا دوشیزہ سے؟ "" میں نے عرض کی : دوہاجو سے ۔ آپ نے فرمایا : "" تم نے کنواری سے کیوں نہ شادی کی ، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی اور تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی ، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے؟ "" ابونضرہ نے کہا : یہ ایسا کلمہ تھا جسے مسلمان ( محاورتا ) کہتے تھے کہ ایسے ایسے کرو ، اللہ تمہارے گناہ بخش دے
حدیث 3643 — صحيح مسلم 17:76
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ‏"‏ ‏.‏
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے ، وہ تمہارے لیے کسی ایک طریقے پر ہرگز سیدھی نہیں رہ سکتی ، اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو ( اسی طرح ) فائدہ اٹھا لو گے کہ اس میں کجی رہے گی اور اگر تم اسے سیدھا کرنے چلو گے تو اسے توڑ ڈالو گے ، اور اسے توڑنا اس کی طلاق ہے
حدیث 3644 — صحيح مسلم 17:77
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْمَرْأَةَ كَالضِّلَعِ إِذَا ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا وَإِنْ تَرَكْتَهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے جب ( اپنی بیوی میں ) کوئی ( پسند نہ آنے والا ) معاملہ دیکھے تو اچھی طرح سے بات کہے یا خاموش رہے ۔ اور عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کی نصیحت قبول کرو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے ۔ اور پسلیوں میں سب سے زیادہ ٹیڑھ اس کے اوپر والے حصے میں ہے ۔ اگر تم اسے سیدھا کرنے لگ جاؤ گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی ، عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کی نصیحت قبول کرو
حدیث 3645 — صحيح مسلم 17:78
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ سَوَاءً ‏.‏
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے عمران بن ابی انس سے حدیث سنائی ، انہوں نے عمر بن حکم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے ۔ اگر اسے اس کی کوئی عادت ناپسند ہے تو دوسری پسند ہو گی ۔ " یا آپ نے غيره ( اس کے سوا کوئی اور ) فرمایا
حدیث 3646 — صحيح مسلم 17:79
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا وَكَسْرُهَا طَلاَقُهَا ‏"‏ ‏.‏
ابوعاصم نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ اسی کے مانند
حدیث 3647 — صحيح مسلم 17:80
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَإِذَا شَهِدَ أَمْرًا فَلْيَتَكَلَّمْ بِخَيْرٍ أَوْ لِيَسْكُتْ وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَىْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلاَهُ إِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اگر حواء ( علیہا السلام ) نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے کبھی خیانت نہ کرتی
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔