قرآني·Qurani
اردو

الزهد والرقائق

106 احادیث · #7417–7522

حدیث 7437 — صحيح مسلم 55:21
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حُمَيْدِ، بْنِ هِلاَلٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ، يَقُولُ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا طَعَامُنَا إِلاَّ وَرَقُ الْحُبْلَةِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا ‏.‏
قرہ بن خالد نے حمید بلال سے اور انھوں نے خالد بن عمیر سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، میں نے دیکھا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( ایمان لانے والے ) سات لوگوں میں سے ساتواں شخص تھا خاردار درختوں کے پتوں کے سوا ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں ۔
حدیث 7438 — صحيح مسلم 55:22
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلاَّ كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا - قَالَ - فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ أَىْ فُلْ أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ فَيَقُولُ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَيَقُولُ أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلاَقِيَّ فَيَقُولُ لاَ ‏.‏ فَيَقُولُ فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي ‏.‏ ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِيَ فَيَقُولُ أَىْ فُلْ أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ فَيَقُولُ بَلَى أَىْ رَبِّ ‏.‏ فَيَقُولُ أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلاَقِيَّ فَيَقُولُ لاَ ‏.‏ فَيَقُولُ فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي ‏.‏ ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ وَبِرُسُلِكَ وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ وَتَصَدَّقْتُ ‏.‏ وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ فَيَقُولُ هَا هُنَا إِذًا - قَالَ - ثُمَّ يُقَالُ لَهُ الآنَ نَبْعَثُ شَاهِدَنَا عَلَيْكَ ‏.‏ وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَىَّ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ وَلَحْمِهِ وَعِظَامِهِ انْطِقِي فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ ‏.‏ وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ وَذَلِكَ الَّذِي يَسْخَطُ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں تمھیں سورج کودیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے ۔ ؟ "" انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" چودھویں کی رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا تمھیں چاند کو دیکھنے میں کو ئی زحمت ہوتی ہے؟ "" انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ !تمھیں اپنے رب کو دیکھنے میں اس سے زیادہ زحمت نہیں ہو گی جتنی زحمت تمھیں ان دونوں کو دیکھنے میں ہو تی ہے ۔ "" آپ نے فرمایا : "" وہ ( رب ) بندے سے ملا قات فرمائے گا تو کہے گا ۔ اے فلاں !کیا میں نے تمھیں عزت نہ دی تھی ، تمھیں سردار نہ بنایا تھا تمھاری شادی نہ کرائی تھی گھوڑے اور اونٹ تمھارے اختیار میں نہ دیے تھے اور تمھیں ایسا نہیں بنا چھوڑا تھا کہ تم سرداری کرتے تھے اور لوگوں کی آمدنی میں سے چوتھائی حصہ لیتے تھے ؟وہ جواب میں کہے گا ۔ کیوں نہیں ! ( بالکل ایسا ہی تھا ۔ ) تو وہ فرمائے گا ۔ کیا تم سمجھتے تھے کہ تم مجھ سے ملوگے؟ وہ کہے گا ۔ نہیں ۔ تووہ فرمائے گا ۔ آج میں اسی طرح تمھیں بھول جاؤں گا ۔ جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے پھر دوسرے سے ملاقات کرے گا ۔ اے فلاں !کیا میں نے تمھیں عز ت اور سیادت سے نہیں نوازا تھا تمھاری شادی نہیں کرائی تھی تمھارے لیے اونٹ اور گھوڑے مسخر نہیں کیے تھے اور تمھیں اس طرح نہیں بنا چھوڑا تھا کہ تم ریاست کے مزے لیتے تھے ۔ اور لوگوں کے مالوں میں سے چوتھا ئی حصہ وصول کرتے تھے ۔ ؟وہ کہے گا کیوں نہیں میرے رب!تو وہ فرمائے گا ۔ تمھیں اس بات کا کوئی گمان بھی تھا کہ تم مجھ سے ملا قات کروگے؟ وہ کہے گا ۔ نہیں تو وہ فرمائے گا اب میں بھی اسی طرح تمھیں بھول جاؤں گا جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے ۔ پھر تیسرے سے ملے گا ۔ اس سے بھی وہی فرمائے گا ۔ وہ کہے گا ۔ اے میرے رب !میں تجھ پر تیری کتابوں اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا تھا اور نمازیں پڑھی تھیں روزے رکھے تھے اور صدقہ دیا کرتا تھا جتنا اس کے بس میں ہو گا ( اپنی نیکی کی ) تعریف کرے گا ، چنانچہ وہ فرمائے گا ۔ تب تم یہیں ٹھہرو ۔ فرمایا : پھر اس سے کہا جا ئے گا ۔ اب تم تمھارے خلاف اپنا گواہ لائیں گے ۔ وہ دل میں سوچے گا میرے خلاف کون گواہی دے گا ۔ ؟پھر اس کے منہ پر مہر لگادی جا ئے گیاور اس کی ران گوشت اور ہڈیوں سے کہا جائے گا ۔ بولو تو اس کی ران اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے عمل کے متعلق بتائیں گی ۔ یہ ( اس لیے ) کہا جا ئے گا کہ وہ ( اللہ ) اس کی ذات سے اس کا عذر دور کردے ۔ اور وہ منافق ہو گا اور وہی شخص ہو گا جس پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہو گا ۔
حدیث 7439 — صحيح مسلم 55:23
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ قَالَ يَقُولُ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَيَقُولُ فَإِنِّي لاَ أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلاَّ شَاهِدًا مِنِّي قَالَ فَيَقُولُ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا - قَالَ - فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ فَيُقَالُ لأَرْكَانِهِ انْطِقِي ‏.‏ قَالَ فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ - قَالَ - ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلاَمِ - قَالَ - فَيَقُولُ بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا ‏.‏ فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بیٹھے ہوئے ) تھے کہ آپ ہنس پڑے پھر آپ نے پوچھا : " کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہو ں ؟ " ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی کئی بات پر ہنسی آتی ہے وہ کہے گا ۔ اے میرے رب!کیا تونے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : وہ فرمائے گا ۔ کیوں نہیں !فرمایا بندہ کہے گا میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی ( کی گواہی ) کو جائز قرار نہیں دیتا ۔ تو وہ فرمائے گا آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہواور کراماً کا تبین بھی گواہ ہیں چنانچہ اس کے منہ پر مہرلگادی جائے گی ۔ اور اس کے ( اپنے ) اعضاء سے کہا جائے گا ۔ بولو ، فرمایا : تو وہ اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گے پھر اسے اور ( اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گے پھر اسے اور ( اس کے اعضاء کے ) بولنے کو اکیلا چھوڑ دیا جا ئے گا ۔ فرمایا : تو ( ان کی گواہی سن کر ) وہ کہے گا دورہوجاؤ ، میں تمھاری طرف سے ( دوسروں کے ساتھ ) لڑا کرتا تھا ۔
حدیث 7440 — صحيح مسلم 55:24
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ‏"‏ ‏.‏
ابو زرعہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا : " اے اللہ !محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھروالوں کے رزق کو زندگی برقرار رکھنے جتنا کردے ۔
حدیث 7441 — صحيح مسلم 55:25
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ عَمْرٍو ‏"‏ اللَّهُمَّ ارْزُقْ ‏"‏ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ عمروناقد زہیر بن حرب اور ابو کریب نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں اعمش نے عمار ہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو زرعہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ !آل محمد کا رزق زندگی برقرار رکھنے جتنا کردے ۔ "" اور عمرو کی روایت میں ہے : "" اے اللہ! ( آل محمدکو زندگی برقرار رکھنے جتنا ) رزق دے ۔
حدیث 7442 — صحيح مسلم 55:26
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، ذَكَرَ عَنْ عُمَارَةَ، بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ كَفَافًا ‏"‏ ‏.‏
ابو اسامہ نے کہا : میں نے اعمش سے سنا انھوں نے عمارہ بن قعقاع سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : " بقدرکفایت ( کردے ۔)
حدیث 7443 — صحيح مسلم 55:27
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلاَثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ ‏.‏
منصور نے ابراہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے جب سے آپ مدینہ آئے آپ کی وفات تک کبھی تین راتیں مسلسل گندم کی روٹی سیرہو کرنہیں کھائی ۔
حدیث 7444 — صحيح مسلم 55:28
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ‏.‏
اعمش نے ابراہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہا : رسول اللہ نے کبھی متواتر تین دن سیر ہو کر گندم کی روٹی نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ اپنی راہ پر روانہ ہو گئے ۔
حدیث 7445 — صحيح مسلم 55:29
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، يُحَدِّثُ عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عبد الرحمان بن یزید نے ہمیں اسود سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نےکہا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی دودن متواتر جوکی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ۔
حدیث 7446 — صحيح مسلم 55:30
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مِنْ خُبْزِ بُرٍّ فَوْقَ ثَلاَثٍ ‏.‏
عابس نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے تین دن سے زیادہ کبھی سیر ہو کر گندم کی روٹی نہیں کھا ئی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔