حدیث 7457 — صحيح مسلم #7457
الزهد والرقائق
106 احادیث · #7417–7522
حدیث 7458 — صحيح مسلم #7458
حدیث 7459 — صحيح مسلم #7459
حدیث 7460 — صحيح مسلم #7460
حدیث 7461 — صحيح مسلم #7461
حدیث 7462 — صحيح مسلم #7462
حدیث 7463 — صحيح مسلم #7463
حدیث 7464 — صحيح مسلم 55:47
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِ الْحِجْرِ " لاَ تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاَءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلاَ تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " .
عبد اللہ بن دینار نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجرکے متعلق فرمایا : " ان عذاب دیے گئے لوگوں کے ہاں ( ان کے گھروں میں داخل نہ ہو نا مگر اس صورت میں کہ تم ( اللہ کےغضب کے ڈرسے ) رورہے ہو ۔ اگر تم رو نہیں رہے ہوتو ان کے ہاں داخل نہ ہونا ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب آجا ئے جو ان پر آیاتھا ۔
حدیث 7465 — صحيح مسلم 55:48
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، - وَهُوَ يَذْكُرُ الْحِجْرَ مَسَاكِنَ ثَمُودَ - قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْحِجْرِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ حَذَرًا أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " . ثُمَّ زَجَرَ فَأَسْرَعَ حَتَّى خَلَّفَهَا .
سالم بن عبد اللہ نے کہا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجر ( قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستی ) کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " جن لوگوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ان کی رہائش گا ہوں میں داخل نہ ہونا مگر اس طرح کہ تم رورہے ہو ۔ ڈرہے کہ تمھیں بھی وہی عذاب نہ آئےجس نے انھیں آلیا تھا " پھر آپ نے زور سے سواری کو ہانکا رفتار تیز کی یہاں تک کہ اس جگہ کو پیچھے چھوڑ دیا ۔
حدیث 7466 — صحيح مسلم 55:49
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْحِجْرِ أَرْضِ ثَمُودَ فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِهَا وَعَجَنُوا بِهِ الْعَجِينَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا وَيَعْلِفُوا الإِبِلَ الْعَجِينَ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ .
شعیب بن اسحٰق نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے نافع سے خبر دی انھیں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ( سفر کرنے والے لوگ سرزمین ثمود حجر میں اتر گئے اور وہاں کے کنوؤں سے پانی حاصل کیا اور اس کے ساتھ آٹا ( بھی ) گوندھ لیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیاکہ انھوں نے جو پانی بھراہے وہ بہادیں اورگندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دیں اور ان سے کہا : کہ وہ اس کنویں سے پانی حاصل کریں جہاں ( حضرت صالح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ) اونٹنی پانی پینے کے لیے آیا کرتی تھی ۔
صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔