ابو بردہ سے روایت ہے کہا : میں ( اپنے والد ) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا وہ اس وقت حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی کے گھر تھے ۔ مجھے چھینک آئی تو انھوں نے جواب میں دعانہیں دی اور اس ( فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ) کو چھینک آئی تو اس کو انھوں نے جواب میں دعا دی میں اپنی والدہ کے پاس گیا اور انھیں بتا یا جب وہ ( میرے والد ) ان ( میری والدہ ) کے پاس آئے تو انھوں نے کہا : تمھارے پاس میرے بیٹے کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا نہیں دی ۔ اور ان ( فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ) کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا دی ۔ انھوں نے کہا : تمھارے بیٹے کو چھینک آئی تو اس نے الحمد اللہ نہیں کہا : اس لیےمیں نے جواب نہیں دیا اس ( خاتون ) کو چھینک آئی تو انھوں نے الحمد اللہ کہا : اس لیے میں نےان کو جواب میں دعا دی ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : آپ فرماتے تھے : " جب تم میں سےکسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد اللہ کہے تو اس کو جواب میں دعا دواور اگر وہ الحمد اللہ نہ کہے تو دعا نہ دو ۔
ایاس بن سلمہ بن اکوع نے مجھے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے ان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : آپ کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو آپ نے اسے دعا دی يَرْحَمُكَ اللَّهُ اللہ تم پر رحم فرمائے ۔ " اسے دوسری چھینک آئی تو آپ نے فرمایا " اس شخص کو زکام ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جما ئی شیطان کی طرف سے ہے لہٰذاتم میں سے جب کسی شخص کو جمائی آئے تو وہ جہاں تک اس کو روک سکے روکے ۔
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں سہیل بن ابی صالح نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے ( عبدالرحمان ) سے سنا وہ میرے والد کو اپنے والد سے حدیث بیان کر رہے تھے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کو روکے کیونکہ ( ایسا نہ کرنے سے ) شیطان اندر داخل ہو تا ہے ۔
حدیث 7492 — صحيح مسلم 55:75
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي، سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ " .
عبد العزیز نے سہیل سے انھوں نے عبد الرحمان بن ابی سعید سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کوجمائی آئے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے کیونکہ شیطان اندر داخل ہوتا ہے ۔
سفیان نے سہیل بن ابی صالح سے انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی شخص کو نماز میں جمائی آئے تو وہ جتنا اس کے بس میں ہواس کو روکے کیونکہ شیطان اندر داخل ہوتا ہے ۔
حدیث 7494 — صحيح مسلم 55:77
حَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنِ ابْنِ أَبِي، سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ .
جریر نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد اور حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ( آگے ) بشراور عبدالعزیز کی حدیث کے مانند ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جنوں کو آگ کے شعلے سے اورآدم علیہ السلام کو اس ( مادے ) سے پیدا کیا گیا ہے جس کو تمہارے لئے جان کیا گیا ہے ۔
اسحاق بن ابراہیم ، محمد بن مثنیٰ عنزی اور محمد بن عبداللہ رزی نے ہمیں ثقفی سے حدیث بیان کی ، الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں ۔ کہا : ہمیں عبدالوہاب نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں خالد نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بنی اسرائیل کی ایک امت گم ہوگئی تھی ، معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے اور مجھے اس کے سوا اور کوئی بات نظر نہیں آئی کہ وہ لوگ ( یہی ) چوہے ہیں ۔ ( انھوں نے مسخ ہوکریہ شکل اختیار کرلی ہے ) تم دیکھتے نہیں کہ جب ان کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو ( بنی اسرائیل کی طرح ) وہ اس کو نہیں پیتے ۔ اگر ان کے لئے بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتے ہیں ۔ "" حضرت ابو ہریرۃ نے کہا : میں نے یہ حدیث کعب ( احبار ) کو سنائی تو انھوں نے کہا : کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناتھا؟میں نے کہا : انھوں نے باربار یہی کہا تو میں نے کہا : ( نہیں تو ) کیا میں تورات پڑھتا ہوں ( کہ وہاں سے بیان کروں گا؟ ) اسحاق نے اپنی روایت میں کہا : "" ہم نہیں جانتے ان کا کیابنا؟