عبد الرحمٰن بن زید کے آزاد کردہ غلام ثابت نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سوار پید ل کو سلام کرے ، چلنے والا بیٹھے ہو ئے کو سلام کرے اور کم لو گ زیادہ لوگوں کو سلام کریں ۔
اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم مکانوں کے سامنے کی کھلی جگہوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو گئے ۔ آپ نے فر ما یا : " تمھا را راستوں کی خالی جگہوں پر مجلسوں سے کیا سروکار؟ راستوں کی مجا لس سے اجتناب کرو ۔ " ہم ایسی باتوں کے لیے بیٹھے ہیں جن میں کسی قسم کی کو ئی قباحت نہیں ، ہم ایک دوسرے سے گفتگو اور بات چیت کے لیے بیٹھے ہیں ، آپ نے فر ما یا : " اگر نہیں ( رہ سکتے ) تو ان ( جگہوں ) کے حق ادا کرو ( جو یہ ہیں ) : آنکھ نیچی رکھنا ، سلام کا جواب دینا اور اچھی گفتگو کرنا ۔
حدیث 5648 — صحيح مسلم 39:3
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ، بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَبَيْتُمْ إِلاَّ الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " . قَالُوا وَمَا حَقُّهُ قَالَ " غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الأَذَى وَرَدُّ السَّلاَمِ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " راستوں میں بیٹھنے سے اجتنا ب کرو ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لیے ( را ستے کی ) مجلسوں کے بغیر جن میں ( بیٹھ کر ) ہم باتیں کرتے ہیں ، کو ئی چارہ نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اگر تم مجا لس کے بغیر نہیں رہ ہو سکتے تو را ستے کا حق ادا کرو ۔ " لوگوں نے کہا : اس کا حق کیا ہے ؟آپ نے فر ما یا : " نگاہ نیچی رکھنا تکلیف دہ چیزوں کو ( را ستے سے ) ہٹانا ، سلام کا جواب دینا ، اچھا ئی کی تلقین کرنا اور بر ائی سے روکنا ۔
یو نس نے ابن شہاب ( زہری ) سے انھوں نے ابن مسیب سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : مسلمان کے مسلمان پر پا نچ حق ہیں ۔ "" نیز عبد الرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے ( ابن شہاب ) زہری سے خبر دی ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" ایک مسلمان کے لیے اس کے بھا ئی پر پانچ چیزیں واجب ہیں : سلام کا جواب دینا چھینک مارنے والے کے لیے رحمت کی دعا کرنا دعوت قبول کرنا ، مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جا نا ۔ "" عبدالرزاق نے کہا : معمر اس حدیث ( کی سند ) میں ارسال کرتے تھے ( تابعی اور صحابی کا نام ذکر نہیں کرتے تھے ) اور کبھی اسے ( سعید ) بن مسیب اور آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سند سے ( متصل مرفوع ) روایت کرتے تھے ۔
اسماعیل بن جعفر نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کو ن سے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو ، اور جب اسے چھینک آئے اور الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعاکرو ۔ جب وہ بیمار ہو جا ئے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جا ئے تو اس کے پیچھے ( جنازے میں ) جاؤ ۔
حدیث 5652 — صحيح مسلم 39:7
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ " .
عبید اللہ بن ابی بکر نے اپنے داداحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب اہل کتاب تم کوسلام کریں تو تم ان کے جواب میں " وعلیکم " ( اورتم پر ) کہو ۔
شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتےہو ئے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ۔ ہم ان کو کیسے جواب دیں ، آپ نے فر ما یا : " تم لوگ " وعلیکم " ( اور تم پر ) کہو ۔
اسماعیل بن جعفر نے عبد اللہ بن دینار سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کو ئی شخص ( اَلسَامُ عَلَيكُم ) ( تم پر موت نازل ہو ) کہتا ہے ۔ " ( اس پر ) تم ( عَلَيكُم ) ( تجھ پر ہو ) کہو ۔
حدیث 5655 — صحيح مسلم 39:10
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَقُولُوا وَعَلَيْكَ " .
سفیان نے عبد اللہ بن دینار سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی مگر اس میں ہے ۔ " تو تم پر کہو : " وعلیکم " ( تم پرہو ۔)