امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ سے ، روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کی طرف روانہ ہو ئے ، جب سرغ پہنچے تو ان کو یہ اطلا ع ملی کہ شام میں وبا نمودار ہو گئی ہے ۔ تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا : "" جب تم کسی علاقے میں اس ( وبا ) کی خبر سنو تو وہاں نہ جا ؤ اور جب تم کسی علاقے میں ہواور وہاں وبا نمودار ہو جا ئے تو اس وبا سے بھا گنے کے لیے وہاں سے نہ نکلو ۔ "" اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرغ سے لوٹ آئے ۔ اور ابن شہاب سے روایت ہے ، انھوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی وجہ سے لوگوں کو لے کر لوٹ آئے ۔
یونس نے کہا : ابن شہاب نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مرض کا کسی دوسرے کو چمٹنا ماہ صفر کی نحوست اور مقتول کی کھوپڑی سے الوکا نکلنا سب بے اصل ہیں تو ایک اعرا بی ( بدو ) نے کہا : تو پھر اونٹوں کا یہ حال کیوں ہو تا ہے کہ وہ صحرامیں ایسے پھر رہے ہوتے ہیں جیسے ہرن ( صحت مند چاق چوبند ) ، پھر ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے ، ان میں شامل ہو تا ہے ، اور ان سب کو خارش لگا دیتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : " پہلے اونٹ کو کس نے بیماری لگا ئی تھی ۔ ؟
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن وغیرہ نے بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا ، نہ بد فالی کی کو ئی حقیقت ہے نہ صفر کی نحوست کی اور نہ کھوپڑی سے الونکلنے کی ۔ " تو ایک اعرابی کہنے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( آگے ) یو نس کی حدیث کی مانند ( ہے ۔)
حدیث 5790 — صحيح مسلم 39:142
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ عَدْوَى " . فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَصَالِحٍ . وَعَنْ شُعَيْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَدْوَى وَلاَ صَفَرَ وَلاَ هَامَةَ " .
شعیب نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سنان بن ابی سنان دؤلی نے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : کو ئی مرض کسی دوسرے کو خود بخود نہیں چمٹتا ۔ " تو ایک اعرابی کھڑا ہو گیا ، پھر یونس اور صالح کی حدیث کی مانند بیان کیا اور شعیب سے روایت ہے ، انھوں نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سائب بن یزید بن اخت نمر نے حدیث سنا ئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " نہ کسی سے خود بخود مرض چمٹتا ہے نہ صفر کی نحوست کو ئی چیز ہے اور نہ کھوپڑی سے الو نکلنا ۔
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہ ابوسلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں چمٹتااور وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے ( چرواہے ) کے پاس اونٹ نہ لے جا ئے ۔ "" ابو سلمہ نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں حدیثیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کرتے تھے ، پھر ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ "" لاعدوي "" والی حدیث بیان کرنے سے رک گئے اور "" بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے کے پاس ( اونٹ ) نہ لا ئے ۔ "" والی حدیث پر قائم رہے ۔ تو حارث بن ابی ذباب نے ۔ وہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا کے بیٹے تھے ۔ ۔ کہا : ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں تم سے سنا کرتا تھا ، تم اس کے ساتھ ایک اور حدیث بیان کرتے تھے جسے بیان کرنے سے اب تم خاموش ہو گئے ۔ ہو ۔ تم کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کسی سے مرض خود بخود نہیں چمٹتا "" تو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث کو پہناننے سے انکا ر کر دیا اور یہ حدیث بیان کی ۔ "" بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے کے پاس ( اونٹ ) نہ لا ئے ۔ "" اس پر حارث نے اس معاملے میں ان کے ساتھ تکرار کی حتی کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصے میں آگئے اور حبشی زبان میں ان کو نہ سمجھ میں آنے والی کو ئی بات کہی ، پھر حارث سے کہا : تمھیں پتہ چلا ہے کہ میں نے تم سے کیا کہا ہے؟ انھوں نے کہا : نہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا : میں ( اس سے ) انکا ر کرتا ہوں ۔ ابو سلمہ نے کہا : مجھے اپنی زند گی کی قسم!ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں یہ حدیث سنایا کرتے تھے ۔ "" لاعدوي ( کسی سے خود بخود کو ئی بیماری نہیں لگتی ) مجھے معلوم نہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھول گئے ہیں یا ایک بات نے دوسری کو منسوخ کردیا ہے ۔
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے بتایا : انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی مرض خود بخود دوسرے کو نہیں لگ جا تا ۔ اور اس کے ساتھ یہ بیان کرتے " بیمار اونٹوں والا ( اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے کے پاس نہ لا ئے ۔ " یو نس کی حدیث کے مانند ۔
علاء کے والد ( عبد الرحمٰن ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : کسی سے خود بخود مرض کا لگ جانا کھوپڑی سے الوکانکلنا ، ستارے کے غائب ہو نے اور طلوع ہو نے سے بارش برسنا اور صفر ( کی نحوست ) کی کو ئی حقیقت نہیں ۔
ابو خیثمہ ( زہیر ) نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کسی سے کو ئی مرض لا زمی طور پر نہیں چمٹ جا تا ۔ نہ بد شگونی کو ئی چیز ہے ، نہ چھلا وے ( غول بیا بانی ) کی کو ئی حقیقت ہے ۔