خالد بن عبد اللہ نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جس شخص نے پہلی ضرب میں چھپکلی کو قتل کر دیا اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں اور جس نے دوسری ضرب میں مارااس کے لیے اتنی اتنی پہلی سے کم نیکیاں ہیں اور اگر تیسری ضرب سے ماراتو اتنی اتنی نیکیاں ہیں دوسری سے کم ( بتا ئیں ۔)
ابو عوانہ جریر ، اسماعیل بن زکریا اور سفیان سب نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، جس طرح سہیل سے خالد کی روایت ہے سوائے اکیلے جریر کے انھوں نے اپنی روایت کردہ حدیث میں کہا : " جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا اس کے لیے سو نیکیاں لکھی گئیں ۔ دوسری ضرب میں اس سے کم اور تیسری ضرب میں اس سے کم ،
حدیث 5848 — صحيح مسلم 39:199
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ سُهَيْلٍ، حَدَّثَتْنِي أُخْتِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ سَبْعِينَ حَسَنَةً " .
محمد بن صباح نے کہا : ہمیں اسماعیل بن زکریا نے سہیل سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : مجھے میری بہن ( سودہ بنت ابو صالح رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " پہلی ضرب میں سترنیکیاں ہیں ۔
سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( پہلے ) انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی کو کسی چیونٹی نے کا ٹ لیا ، انھوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کے بارے میں حکم دیا تو وہ جلا دی گئی ۔ اس پر اللہ تعا لیٰ نے ان کے طرف وحی کی کہ ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے آپ نے امتوں میں سے ایک ایسی امت ( بڑی آبادی ) کو ہلا ک کر دیا ۔ جو اللہ کی تسبیح کرتی تھی؟
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( پہلے ) انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے ( آرام ) کرنے کے لیے سواری سے ) اترے تو ایک چیونٹی نے ان کو کا ٹ لیا ۔ انھوں نے اس کے پورے بل کے بارے میں حکم دیا ، اسے نیچے سے نکل دیا گیا پھر حکم دیا ان کو جلا دیا گیا ۔ اللہ تعا لیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ آپ نے ایک ہی چیونٹی کو کیوں ( سزا ) نہ ( دی ؟)
حدیث 5851 — صحيح مسلم 39:202
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ - قَالَ - فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلاَّ نَمْلَةً وَاحِدَةً " .
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انھوں نے کچھ احادیث ذکر کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( پہلے ) انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی ایک درخت نیچے فروکش ہو ئے انھیں ایک چیونٹی نے کا ٹ لیا ، انھوں نے ان کی پوری آبادی کے بارے میں حکم دیا ، اسے نیچے سے ( کھودکر ) نکا ل لیا گیا ، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اس ( پوریآبادی ) کو آگ سے جلا دیا گیا ۔ تو اللہ تعا لیٰ نے ان کی طرف وحی کی ، ( اس ایک ہی کو کیوں ( سزا ) نہ ( دی؟)
جویریہ بن اسماءنے نافع سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ایک عورت کو بلی کے سبب سے عذاب دیا گیا ، اس نے بلی کو قید کر کے رکھا یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ وہ عورت اس کی وجہ سے جہنم میں چلی گئی ، اس عورت نے جب بلی کو قید کیا تو نہ اس کو کھلا یا پلا یا اور نہ اس کو چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے اندر اور اوپر رہنے والے چھوٹے چھوٹے جانور کھا لیتی ۔
حدیث 5853 — صحيح مسلم 39:204
وَحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ مَعْنَاهُ .
عبید اللہ بن عمر نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، اسی طرح ( عبید اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) سعید مقبری سے اور انھوں نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ،
حدیث 5854 — صحيح مسلم 39:205
وَحَدَّثَنَاهُ هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ .
مالک نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کی ۔
حدیث 5855 — صحيح مسلم 39:206
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ لَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَتْرُكْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ " .
عبد ہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنےوالد سے ، انھوں نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ایک عورت کو بلی کے معاملے میں عذاب دیا گیا ۔ اس عورت نے نہ اسے کھلا یا نہ پلا یا اور نہ اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے چھوٹے جا نور کھا لیتی ۔