حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : جب مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو جاتے اور نمازوں کے اوقات کا انتظار کرتے ، کوئی اس کا اعلان نہیں کرتا تھا ۔ ایک دن انہوں نے اس کے بارے میں گفتگو کی تو بعض نے کہا : عیسائیوں کے گھنٹے کے مانند ایک گھنٹا لے لو اور بعض نے کہا : یہود کے قرنا جیسا قرنا ، البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم ایک آدمی ہی کیوں نہیں بھیج دیتے جو نماز کا اعلان کرے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا : اے بلال! اٹھو اور نماز کا اعلان کرو ۔ ‘ ‘
خلف بن ہشام نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی ، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں اسماعیل بن علیہ نے خبر دی ، ان دونوں ( حماد اور یحییٰ ) نے خالد حذاء سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان دہرائیں اور اقامت اکہری کہیں ۔ یحییٰ نے ابن علیہ سے ( بیان کردہ ) اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : میں ( اسماعیل ) نے یہ روایت ایوب کو سنائی تو انہوں نے کہا : ( اذان دہرائیں ) اقامت کے سوا
عبد الوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ انہوں نے ( صحابہ ) نے ( اس پر ) بات کی کہ کسی ایسی چیز کے ذریعے سے نماز کے وقت کی علامت مقرر کریں جس کو لوگ پہچان لیا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ آگ روشن کریں یا ناقوس ( گھنٹی ) بجائیں ، پھر ( آخر کار ) بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ دہری اذان اور اکہری اقامت کہیں ۔
۔ وہیب نے کہا : ہمیں خالد حذاء نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ جب لوگ زیادہ ہو گئے تو انہوں نے گفتگو کی کہ وہ علامت مقرر کریں .... آگے ( عبد الوہاب ) ثقفی کی حدیث کے مانند ہے ، فرق صرف اس قدر ہے کہ اس ( وہیب ) نے ( ينوروا نارا ’’آگ روشن کریں ‘ ‘ کی جگہ ) يوروا نارا ’’آگ جلائیں ‘ ‘ کہا ۔
۔ ایوب نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ دہری اذان اور اکہری قامت کہیں ۔
۔ ابو غسان مسمعی اور اسحاق بن ابراہیم نے مجھے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ابو غسان نے کہا : ہمیں معاذ نے حدیث سنائی اور اسحاق نے کہا : ہمیں دستوائی ( کپڑے ) والے ہشام کے بیٹے معاذ نے خبر دی ، انہوں ( معاذ ) نے کہا : مجھے میرے والد نے عامر احول سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبیﷺ نے انہیں یہ اذان سکھائی : الله أكبر الله أكبر ، أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، پھر دو بار کہے : أشهد أن لا إله إلا الله ، پھر دو بار ، أشهد أن محمدا رسول الله ، دو بار حی على الصلوٰة دو بار حي على الفلاح دوبار ۔ اسحاق نے یہ اضافہ کیا : الله أكبر الله أكبر ، لا إله إلا الله
حدیث 843 — صحيح مسلم 4:7
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُؤَذِّنَانِ بِلاَلٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى .
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کے دو مؤذن تھے ، بلال اور نابینا ابن ام مکتومؓ ۔
حضرت عائشہؓ سے بھی اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی گئی ہے ۔
حدیث 845 — صحيح مسلم 4:9
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ أَعْمَى .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ابن ام مکتوم رسول اللہﷺ کے لیے اذان دیا کرتے تھے ، حالانکہ وہ نابینا تھے ۔