قرآني·Qurani
اردو

الصلاة

324 احادیث · #837–1160

حدیث 927 — صحيح مسلم 4:89
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
۔ حماد بن زید اور عبد اللہ بن نمیر نے ہشام بن عروہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
حدیث 928 — صحيح مسلم 4:90
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلاَتِهِ قُعُودًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ ‏ "‏ إِنْ كِدْتُمْ آنِفًِا لَتَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلاَ تَفْعَلُوا ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ‏"‏ ‏.‏
۔ لیث نے ابو زبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ كی ‌بیماری ‌میں ‌ہم ‌نے ‌آپ ‌كے ‌پیچھے ‌اس ‌طرح ‌نماز ‌پڑھی ‌كہ ‌آپ ‌نے ‌بیٹھ ‌كر ‌نماز ‌پڑھائی ‌اور ‌حضرت ‌صدیق ‌اكبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌مكبر ‌كی ‌حیثیت ‌میں ‌تكبیرات ‌كہتے ‌تھے ‌. ‌نماز ‌میں ‌ہمیں ‌كھڑا ‌دیكھ ‌كر ‌آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌ہمیں ‌بیٹھنے ‌كا ‌حكم ‌دیا ‌تو ‌ہم ‌بیٹھ ‌گئے ‌پھر ‌بعد ‌فراغت ‌نماز ‌ارشاد ‌عالی ‌ہوا ‌تم ‌نے ‌اس ‌وقت ‌وہ ‌كام ‌كیا ‌جیسا ‌كہ ‌فارس ‌اور ‌روم ‌والے ‌اپنے ‌بادشاہ ‌كے ‌سامنے ‌كھڑے ‌رہتے ‌ہیں ‌اور ‌بادشاہ ‌بیٹھا ‌رہتا ‌ہے ‌. ‌اب ‌آئندہ ‌ایسا ‌نہ ‌كرنا ‌بلكہ ‌ہمیشہ ‌اپنے ‌امام ‌كی ‌پیروی ‌كرو ‌اگر ‌وہ ‌بیٹھ ‌كر ‌نماز ‌پڑھائے ‌تو ‌تم ‌بھی ‌بیٹھ ‌كر ‌نماز ‌پڑھو ‌
حدیث 929 — صحيح مسلم 4:91
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ لِيُسْمِعَنَا ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ ‏.‏
۔ حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ کے پیچھے تھاے ۔ جب رسول اللہﷺ تکبیر کہتے تو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی تکبیر کہتے تاکہ ہمیں سنائیں .... پھر لیث کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا ۔
حدیث 930 — صحيح مسلم 4:92
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلاَ تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏.‏ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ‏.‏ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ ‏"‏ ‏.‏
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’امام اقتدا ہی کے لیے بنایا گیا ہے ، اس لیے اس کی مخالفت نہ کرو ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
حدیث 931 — صحيح مسلم 4:93
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت بیان کی ۔
حدیث 932 — صحيح مسلم 4:94
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ، خَشْرَمٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تُبَادِرُوا الإِمَامَ إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏.‏ فَقُولُوا آمِينَ ‏.‏ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏.‏ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏
اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تعلیم دیتے تھے ، فرماتے تھے : ’’ امام سے آگے نہ بڑھو ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ۔ ‘ ‘
حدیث 933 — صحيح مسلم 4:95
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ إِلاَّ قَوْلَهُ ‏"‏ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏.‏ فَقُولُوا آمِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ ‏"‏ وَلاَ تَرْفَعُوا قَبْلَهُ ‏"‏ ‏.‏
۔ سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنیٰ روایت کی ، سوائے اس حصے کے : ’’ جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ‘ ‘ اور یہ حصہ بڑھایا : ’’ اور تم اس سے پہلے ( سر ) نہ اٹھاؤ ۔ ‘ ‘
حدیث 934 — صحيح مسلم 4:96
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى، - وَهُوَ ابْنُ عَطَاءٍ - سَمِعَ أَبَا عَلْقَمَةَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ فَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏.‏ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ‏.‏ فَإِذَا وَافَقَ قَوْلُ أَهْلِ الأَرْضِ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابو علقمہ نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ یقینا امام ایک ڈھال ہے ( تم اس کے پیچھے پیچھے رہو ) ، چنانچہ جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو کیونکہ جب زمین والے کا کہا ہوا آسمان والوں کے کہنے کے موافق ہو جائے گا تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
حدیث 935 — صحيح مسلم 4:97
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏.‏ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ‏.‏ وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ ‏"‏ ‏.‏
(ابو علقمہ کے بجائے ) ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو رسول اللہﷺ سے روایت کرتے سنا کہ آپﷺ نے فرمایا : ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ، اور جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی سب کے سب بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
حدیث 936 — صحيح مسلم 4:98
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَلاَ تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ بَلَى ثَقُلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَصَلَّى النَّاسُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا لاَ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ ‏"‏ أَصَلَّى النَّاسُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا لاَ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ ‏"‏ أَصَلَّى النَّاسُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا لاَ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ ‏"‏ أَصَلَّى النَّاسُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْنَا لاَ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَتْ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ - قَالَتْ - فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلاً رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ ‏.‏ قَالَتْ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلاَةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ يَتَأَخَّرَ وَقَالَ لَهُمَا ‏"‏ أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلاَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَاعِدٌ ‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلاَ أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ هَاتِ ‏.‏ فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شِيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ هُوَ عَلِيٌّ ‏.‏
موسیٰ بن ابی عائشہ نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا : کیا آپ مجھے رسول اللہﷺ کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! جب ( بیماری کے سبب ) نبی ( کے حرکات وسکنات ) بوجھل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول! نہیں ، وہ سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے پانی رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ نے اٹھنے کی کوشش کی تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، پھر آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھی لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کے منتظر ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ اٹھنے لگے توآپ پر غشی طاری ہو کئی ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر اٹھنے لگے تو بے شہوش ہو گئے ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ رسول اللہﷺ کا انتظار کرر ہے ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : لوگ مسجد میں اکٹھے بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہﷺ کا انتظار کر رہے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : پھر رسول اللہﷺ نے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ پیغام لانے والا ان کے پاس آیا اور بولا : رسول اللہﷺ آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا ، اور وہ بہت نرم دل انسان تھے : عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : آپ ہی اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ان دنوں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر یہ ہوا کہ رسول اللہﷺ نے کچھ تخفیف محسوس فرمائی تو دو مردوں کا سہارا لے کر ، جن میں سے ایک عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تھے ، نماز ظہر کے لیے نکلے ، ( اس وقت ) ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، جب ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ، اس پر نبیﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور آپ نے ان دونوں سے فرمایا : ’’ مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو ۔ ‘ ‘ ان دونوں نے آپ کو ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پہلو میں بٹھا دیا ، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہو کر نبیﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور نبیﷺ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والے راوی ) عبید اللہ نے کہا : پھر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کی : کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش نہ کروں ، جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی ﷺ کی بیماری کے بارے میں بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا : لاؤ ۔ تو میں نے ان کے سامنے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پیش کی ، انہوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہ کیا ، ہاں! اتنا کہا : کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے تمہیں اس آدمی کا نام بتایا جو عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : وہ حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تھے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔