حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ " .
اسماعیل بن جعفر نے ابو سہیل ( نافع بن مالک بن ابی عامر ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب رمضان آتا ہے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کےدروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین بیڑیوں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں ۔
حدیث 2496 — صحيح مسلم 13:2
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ " .
یونس نے ابن شہاب سے خبردی ، انھوں نے ( ابوسہیل نافع ) ابن ابی انس سے روایت کی کہ انھیں ان کےوالد نے بیان کیا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب رمضان ( کا آغاز ) ہوتاہے ، رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بندکردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیریں پہنا دی جاتی ہیں ۔
حدیث 2497 — صحيح مسلم 13:3
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَالْحُلْوَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ " . بِمِثْلِهِ .
صالح نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سابقہ سند سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب رمضان داخل ( شروع ) ہوتا ہے ۔ " ( باقی الفاظ ) اسی ( یونس کی حدیث ) کے مانندہیں ۔
حدیث 2498 — صحيح مسلم 13:4
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ " لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے مالک کے سامنے قراءت کی ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے رمضان کا ذکر کیا اور فرمایا : " روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اور افطار ( روزوں کا اختتام ) نہ کرو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اوراگر تم پرمطلع ابرآلود کردیا جائے تو اس ( رمضان ) کی مقدار ( گنتی ) پوری کرو ۔
ابواسامہ نے کہا : عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں سے سمجھاتے ہوئے فرمایا : " مہینہ اس طرح اور اس طرح اوراس طرح ہوتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار اپنا انگوٹھا بند کرلیا ۔ ( یعنی 29 کی گنتی بتائی ) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر روزے ختم کرو ، اگر تمھارا مطلع ابر آلود ہوجائے تو اس کے تیس دن پورے کرو ۔
ہم سے ابن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے اسی ( مذکورہ بالا ) سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، فرمایا : " اگر تم پر بادل چھاجائیں تو اس کے تیس دن شمار کرو ۔ " جس طرح ابو اسامہ کی حدیث ہے ۔
یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کرکے فرمایا : " مہینہ انتیس کا ہوتا ہے ، ( اشارے سے کہا : ) مہینہ اس طرح ، اس طرح اوراس طرح ( تین دہائیاں ہوتا ) ہے " اور کہا : " اس کی گنتی پوری کرو ۔ " اور تیس کا لفظ نہیں بولا ۔
حدیث 2502 — صحيح مسلم 13:8
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .
ایوب نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مہینہ انتیس کا ہوتاہے ( اور فیصلہ چاند سے ہوتا ہے ) اس لئے نہ چاند دیکھے بغیر روزے رکھو اور نہ اسے دیکھے بغیر روزے ختم کرو اگرآسمان ابر آلود ہوتو ا س کی گنتی ( تیس ) پوری کرو ۔
سلمہ بن علقمہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مہینہ انتیس کابھی ہوتاہے ، جب چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو توروزے ختم کرو ، اگر تم پر بادل چھاجائیں تو اس کی گنتی پوری کرو ۔
سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئےسنا : " جب اس ( چاند ) کو دیکھ لو تو روزہ رکھو اورجب اسے دیکھ لوتو روزے ختم کرو اوراگر بادل چھا جائیں تو اس ( مہینے ) کی گنتی پوری کرلو ۔