وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَيْرًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أُمَّ الْفَضْلِ، - رضى الله عنها - تَقُولُ شَكَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَنَحْنُ بِهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَعْبٍ فِيهِ لَبَنٌ وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ .
ہارون بن سعید ، ابن وہب ، عمرو ، ابی نضر ، مولی ابن عباس ، حضرت ام فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ۔ کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن روزہ کے بارے میں شک کیا حضرت ام فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک پیالہ بھیجا جس میں دودھ تھا عرفہ کے دن تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پی لیا ۔
حدیث 2636 — صحيح مسلم 13:142
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ، الأَشَجِّ عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ النَّاسَ شَكُّوا فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ مَيْمُونَةُ بِحِلاَبِ اللَّبَنِ وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ فَشَرِبَ مِنْهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ .
ہارون بن سعید ، ابن وہب ، عمر ، بکیر ، بن اشج ، کریب ، مولی ابن عباس ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں شک میں پڑ گئے چنانچہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ کا ایک لوٹا بھیجا جس وقت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کے میدان میں کھڑے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےدودھ پیا جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہے تھے ۔
حدیث 2637 — صحيح مسلم 13:143
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ قَالَ " مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ " .
۔ زہیر بن حرب ، جریر ، ہشام بن عروۃ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ قریش جاہلیت کے زمانہ میں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تواپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو بھی اس کا روزہ رکھنے کاحکم فرمایا تو جب رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑدے ۔
حدیث 2638 — صحيح مسلم 13:144
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ . وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ . وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَرِوَايَةِ جَرِيرٍ .
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، ابن نمیر ، حضرت ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور حدیث کے شروع میں ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور حدیث کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا کہ جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔
عمرو ناقد ، سفیان ، زہری ، عروۃ ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ عاشورہ کے دن جاہلیت کے زمانہ میں روزہ رکھا جاتاتھا تو جب اسلام آیا کہ جوچاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔
حدیث 2640 — صحيح مسلم 13:146
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِصِيَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ .
حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب ، عروۃ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے عاشورہ کے روزہ کا حکم فرمایا کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔
حدیث 2641 — صحيح مسلم 13:147
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، - قَالَ ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عِرَاكًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصِيَامِهِ حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْهُ " .
قتیبہ بن سعید ، محمد بن رمح ، لیث بن سعید ، یزید بن ابی حبیب ، عروۃ ، عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ، کہ جاہلیت کے زمانے میں قریشی لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم صادر فرمایا کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ) جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔
حدیث 2642 — صحيح مسلم 13:148
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ أَهْلَ، الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَامَهُ وَالْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ رَمَضَانُ فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ عَاشُورَاءَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ " .
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عبداللہ بن نمیر ، ابن نمیر ، عبیداللہ ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کے لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمانوں نے بھی رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے اس کا روزہ رکھا جب ر مضان کے روزے فرض ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عاشورہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے تو جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے ۔
محمد بن مثنی ، زہیر بن حرب ، یحییٰ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابواسامہ ، حضرت عبیداللہ سے اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے ۔
حدیث 2644 — صحيح مسلم 13:150
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَرِهَ فَلْيَدَعْهُ " .
قتیبہ بن سعید ، لیث ، ابن رمح ، لیث ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاہلیت والے لوگ اس دن روزہ رکھتے تھے تو تم میں جو کوئی پسند کرتا ہے کہ وہ روزہ رکھے تو رکھ لے اور جو کوئی ناپسند کرتاہے تو وہ چھوڑ دے ۔