قرآني·Qurani
اردو

الصيام

285 احادیث · #2495–2779

حدیث 2765 — صحيح مسلم 13:271
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ، - وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ - قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ - يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ - فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ فَلاَ يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي ‏"‏ ‏.‏
عقبہ نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم اس یعنی لیلۃ القدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو اگر تم میں سے کو ئی کمزور پڑ جا ئے یا بے بس ہو جا ئے تو وہ باقی کی سات راتوں میں ( کسی صورت سستی کمزوری سے ) مغلوب نہ ہو ۔
حدیث 2766 — صحيح مسلم 13:272
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَ مُلْتَمِسَهَا فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے جبلہ سے روایت کی کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ آپ نے فرما یا : "" جو اس رات کا متلا شی ہو تو وہ اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرے ۔
حدیث 2767 — صحيح مسلم 13:273
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ جَبَلَةَ، وَمُحَارِبٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَحَيَّنُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ فِي التِّسْعِ الأَوَاخِرِ ‏"‏ ‏.‏
شیبانی نے جبلہ اور محارب سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم لیلۃ القدر کے اوقت آخری دس راتوں میں تلاش کرو ۔ یا فر ما یا : " آخری سات راتوں میں ( تلاش کرو ۔)
حدیث 2768 — صحيح مسلم 13:274
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّاللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي فَنُسِّيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ حَرْمَلَةُ ‏"‏ فَنَسِيتُهَا ‏"‏ ‏.‏
ہمیں ابو طاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبردی ( کہا : ) مجھے یو نس نے ابن شہاب سے خبردی ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مجھے ( خواب میں ) شب قدر دکھا ئی گئی پھر مجھے میرے گھر والوں میں سے کسی نے بیدار کر دیا تو وہ مجھے بھلوادی گئی ، تم اسے بعد میں آنے والی ( آخری ) دس راتوں میں تلا ش کرو ۔ حرملہ نے ( "" مجھے بھلوادی گئی "" کے بجا ئے ) "" میں اسے بھول گیا "" کہا ۔
حدیث 2769 — صحيح مسلم 13:275
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ تَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ يَرْجِعُ إِلَى مَسْكَنِهِ وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَبِتْ فِي مُعْتَكَفِهِ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَأُنْسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وِتْرٍ وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً ‏.‏
ہمیں بکر نے ابن ہا د سے حدیث سنا ئی ، انھوں نے محمد بن ابرا ہیم سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحماٰن سے انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے جو مہینے کے درمیان میں ہو تے ہیں جب وہ وقت آتا کہ بیس راتیں گزر جا تیں اور اکیسویں رات کی آمد ہو تی تو اپنے گھر لو ٹ جا تے اور وہ شخص بھی لو ٹ جا تا جو آپ کے ساتھ اعتکاف کرتا تھا ۔ پھر آپ ایک مہینے ، جس میں آپ نے اعتکاف کیا تھا اس رات ٹھہرے رہے جس میں آپ ( گھر ) لو ٹ جا یا کرتے تھے ۔ آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا ، جو اللہ تعا لیٰ نے چا ہا اس کا حکم دیا ۔ پھر فر ما یا : "" میں ان ( درمیانے ) دس دنوں کا اعتکاف کرتا تھا ۔ پھر مجھ پر منکشف ہوا کہ میں اس آخری عشرے کا اعتکاف کروں ۔ تو جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنے اعتکاف کی جگہ ہی میں رات بسر کرے اور بلاشبہ میں نے یہ رات خواب میں دیکھی ہے اس کے بعد وہ مجھے بھلا دی گئی ۔ لہٰذا تم اسے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو ۔ میں اپنے آپ کو ( خواب میں ) دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اکیسویں رات ہم پر بارش ہو ئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ میں مسجد ( کی چھت ٹپک پڑی میں میں نے جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو چکے تھے ۔ آپ کو دیکھا تو آپ کے چہرہ مبارک مٹی اور پانی سے بھیگا ہوا تھا ۔)
حدیث 2770 — صحيح مسلم 13:276
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُجَاوِرُ فِي رَمَضَانَ الْعَشْرَ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ وَجَبِينُهُ مُمْتَلِئًا طِينًا وَمَاءً ‏.‏
عبد العزیز ، یعنی دراوری نے یزید ( بن ہاد ) سے انھوں نے محمد بن ابرا ہیم سے انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمان سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضا ن میں درمیانے عشرے کا اعتکاف کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انھوں نے ( اپنے " اعتکا ف کی جگہ میں را ت گزارنے " کے بجا ئے ) ا " پنے اعتکاف کی جگہ میں ٹکارہے ، " کہا اور کہا : آپ کی پیشانی مٹی اور پانی سے بھری ہو ئی تھی ۔
حدیث 2771 — صحيح مسلم 13:277
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ - قَالَ - فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ فَدَنَوْا مِنْهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأَوَّلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ ثُمَّ أُتِيتُ فَقِيلَ لِي إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ ‏"‏ ‏.‏ فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ قَالَ ‏"‏ وَإِنِّي أُرِيتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ وَأَنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ ‏"‏ ‏.‏ فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهِمَا الطِّينُ وَالْمَاءُ وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ‏.‏
ہم سے عمارہ بن غزیہ انصاری نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے محمد بن ابرا ہیم سے سنا وہ ابو سلمہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمے کے اندر جس کے دروازے پر چٹائی تھی ، رمضا ن کے پہلے عشرے میں اعتکا ف کیا ، پھر درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا ۔ کہا : تو آپ نے چتا ئی کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر خیمے کے ایک کونے میں کیا ، پھر اپنا سر مبا رک خیمے سے باہر نکا ل کر لو گوں سے گفتگو فر ما ئی ، لوگ آپ کے قریب ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" میں نے اس شب ( قدر ) کوتلاش کرنے کے لیے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا ، پھر میں نے درمیانے عشرے کا اتکاف کیا ، پھر میرے پاس ( بخاری حدیث : 813میں ہے : جبریل ؑ کی آمد ہو ئی تو مجھ سے کہا گیا : وہ آخری دس راتوں میں ہے تو اب تم میں سے جو اعتکاف کرنا چا ہے وہ اعتکاف کر لے ، "" لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا ۔ آپ نے فر مایا : "" اور مجھے وہ ایک طاق رات دکھا ئی گئی اور یہ کہ میں اس ( رات ) کی صبح مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کی صبح کی ، اور آپ نے ( اس میں ) صبح تک قیام کیا تھا پھر بارش ہو ئی تو مسجد ( کی چھت ) ٹپک پڑی ، میں نے مٹی اور پانی دیکھا اس کے بعد جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے دونوں میں مٹی اور پانی ( کے نشانات ) موجود تھے اور یہ آخری عشرے میں اکیسویں کی رات تھی ۔
حدیث 2772 — صحيح مسلم 13:278
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ - رضى الله عنه - وَكَانَ لِي صَدِيقًا فَقُلْتُ أَلاَ تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ نَعَمْ اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَشْرَ الْوُسْطَى مِنْ رَمَضَانَ فَخَرَجْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نَسِيتُهَا - أَوْ أُنْسِيتُهَا - فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ كُلِّ وِتْرٍ وَإِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلْيَرْجِعْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً قَالَ وَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ قَالَ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ ‏.‏
ہشا م نے یحییٰ سے اور انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے آپس میں لیلۃالقدر کے بارے میں بات چیت کی ، پھر میں ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا وہ میرے دوست تھے ، میں نے کہا : کیا آپ ہمارے ساتھ نخلستان میں نہیں چلیں گے؟وہ نکلے اور ان ( کے کندھوں ) پر دھاری دار چادر تھی ، میں نے ان سے پوچھا : ( کیا ) آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر کا ذکر کرتے ہو ئے سنا ، تھا ؟ انھوں نے کہا : ہاںہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضا ن کے درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا ہم بیسویں ( رات ) کی صبح کو ( اعتکاف سے ) نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : " مجھے لیلۃ القدر دکھا ئی گئی اور اب میں بھول گیا ہوں ۔ ۔ ۔ مجھے بھلا دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ اس لیے تم اس کو آخریعشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں ( اس رات ) پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ تو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ واپس ( اعتکاف میں ) چلا جا ئے ۔ کہا : ہم واپس ہو گئے اور ہمیں آسمان میں بادل کا کو ئی ٹکڑا نظر نہیں آرہا تھا کہا : ایک بدلی آئی ہم پر بارش ہو ئی یہاں تک کہ مسجد کی چھت بہ پڑی ۔ وہ کھجور کی شا خوں سے بنی ہو ئی تھی اور نماز کھڑی کی گئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے تھے کہا : یہاں تک کہ میں نے آپ کی پیشانی پر مٹی کا نشان بھی دیکھا ۔
حدیث 2773 — صحيح مسلم 13:279
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي، كَثِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِهِمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ انْصَرَفَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرُ الطِّينِ ‏.‏
معمر اور اوزاعی دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی روایت کی ۔ اور ان دونوں کی حدیث میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے ( فارغ ہو کر ) پلٹے تو میں نے آپ کو اس ھال میں دیکھا کہ آپ کی پیشانی اور ناک کے کنا رے پر مٹی کا نشان تھا ۔
حدیث 2774 — صحيح مسلم 13:280
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ فَلَمَّا انْقَضَيْنَ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَقُوِّضَ ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا كَانَتْ أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَإِنِّي خَرَجْتُ لأُخْبِرَكُمْ بِهَا فَجَاءَ رَجُلاَنِ يَحْتَقَّانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَنُسِّيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ الْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا ‏.‏ قَالَ أَجَلْ ‏.‏ نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكُمْ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ قَالَ إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ وَهْىَ التَّاسِعَةُ فَإِذَا مَضَتْ ثَلاَثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ فَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ .‏ وَقَالَ ابْنُ خَلاَّدٍ مَكَانَ يَحْتَقَّانِ يَخْتَصِمَانِ ‏.‏
محمد بن مثنیٰ اورابو بکر بن خلاد نے کہا : ہمیں عبد الارلیٰ نے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سعید نے ابو نضر ہ سے اور انھوں نےحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضا ن کے درمیا نے عشرے کا اعتکاف کیا اس سے پہلے کہ آپ کے سامنے اس اس کو کھول دیا جا ئے ۔ آپ لیلۃالقدر کو تلاش کر ہے تھے ۔ جب یہ ( دس راتیں ) ختم ہو گئیں تو آپ نے حکم دیا اور ان خیموں کو اکھا ڑدیا گیا پھر ( وہ رات ) آپ پر واضح کر دی گئی کہ وہ آخری عشرے میں ہے ۔ اس پر آپ نے ( خیمے لگا نے کا ) حکم دیا تو ان کو دوبارہ لگا دیا گیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا : "" اے لوگو! مجھ پر لیلۃالقدر واضھ کر دی گئی اور میں تم کو اس کے بارے میں بتا نے کے لیے نکلا تو دو آدمی ( ایک دوسرے پر ) اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہو ئے آئے ان کے ساتھ شیطان تھا ۔ اس پر وہ مجھے بھلا دی گئی ۔ تم اسے رمضا ن کے آخری عشرے میں تلا ش کرو ۔ تم نویں ساتویں اور پانچویں ( رات ) میں تلاش کرو ۔ ( ابو نضرہ نے ) کہا : میں نے کہا : ابو سعید !ہماری نسبت آپ اس گنتی کو زیادہ جانتے ہیں انھوں نے کہا : ہاں ہم اسے جاننے کے تم تم سے زیادہ حقدار ہیں ۔ کہا میں نے پوچھا : نویں ، ساتویں ، اور پانچویں سے کیا مراد ہے ؟انھوں نے جواب دیا : جب اکیسویں رات گزرتی ہے تو وہی رات جس کے بعد بائیسویں آتی ہے وہی نویں ہے اور جب تیئسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد ( آخر سے گنتے ہو ئے ساتویں رات آتی ہے ) ساتویں ہے اس کے بعد جب پچسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد پانچویں رات آتی ہے ) پانچویں ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔