قرآني·Qurani
اردو

الصيام

285 احادیث · #2495–2779

حدیث 2525 — صحيح مسلم 13:31
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، - رضى الله عنه - قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ عَلَى الأُخْرَى فَقَالَ ‏ "‏ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ نَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا ‏.‏
محمد بن بشر ، اسماعیل بن ابی خالد ، محمد بن سعید ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ ایک انگلی کم فرمالی ۔
حدیث 2526 — صحيح مسلم 13:32
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا مَرَّةً ‏.‏
زائدہ ، اسماعیل ، حضرت محمد بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح سے ہوتا ہے دس اور دس اور نو مرتبہ ۔
حدیث 2527 — صحيح مسلم 13:33
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، وَسَلَمَةُ، بْنُ سُلَيْمَانَ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا ‏.‏
۔ عبداللہ بن مبارک ، اسماعیل بن ابی خالد اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے ۔
حدیث 2528 — صحيح مسلم 13:34
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ - عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ قَالَ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتُهِلَّ عَلَىَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْتُ الْهِلاَلَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلاَلَ فَقَالَ مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَقُلْتُ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ‏.‏ فَقَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ فَقُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ ‏.‏ فَقَالَ لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلاَ نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلاَثِينَ أَوْ نَرَاهُ ‏.‏ فَقُلْتُ أَوَلاَ تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ فَقَالَ لاَ هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي ‏.‏
کریب کو سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا شام میں، انہوں نے کہا کہ میں گیا شام کو اور ان کا کام نکال دیا اور میں نے چاند دیکھا رمضان کا شام میں جمعہ کی شب کو (یعنی پنج شنبہ کی شام کو) پھر مدینہ آیا آخر ماہ میں اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا مجھ سے اور ذکر کیا چاند کا کہ تم نے کب دیکھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی شب کو۔ انہوں نے کہا: تم نے خود دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا اور روزہ رکھا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ ہم نے تو ہفتہ کی شب کو دیکھا اور ہم پورے تیس روزے رکھیں گے یا چاند دیکھ لیں گے تو میں نے کہا: آپ کافی نہیں جانتے دیکھنا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اور ان کا روزہ رکھنا؟ آپ نے فرمایا نہیں ایسا ہی حکم کیا ہے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ «‏‏‏‏نَكْتَفِى» ‏‏‏‏ کہا یا «‏‏‏‏تَكْتَفِى» ۔
حدیث 2529 — صحيح مسلم 13:35
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ، مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ - قَالَ - تَرَاءَيْنَا الْهِلاَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ قَالَ فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلاَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ أَىَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ قَالَ فَقُلْنَا لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَهُوَ لِلَيْلَةِ رَأَيْتُمُوهُ ‏"‏ ‏.‏
۔ حصین ، عمر بن مرہ ، حضرت ابوالبختری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم عمرہ کے لئے نکلے تو جب ہم وادی نخلہ میں اترے تو ہم نے چاند دیکھا بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری کا چاندہے ۔ اور کسی نے کہا کہ یہ دو راتوں کا چاند ہے ۔ تو ہماری ملاقات ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ تیسری تاریخ کا چاندہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ د وسری کا چاند ہے ۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم نے کس ر ات چاند دیکھا تھا؟تو ہم نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کے لئے اسے بڑھا دیاہے ۔ در حقیقت کا اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا ۔
حدیث 2530 — صحيح مسلم 13:36
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلاً إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - يَسْأَلُهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ ، عمرو ابن مرہ حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ ہم نے ذات عرق میں رمضان کا چاندد یکھا تو ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ وہ چاند کے بارے میں آپ سے پوچھے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے چاند دیکھنے کے لئے بڑھا دیا ہے ۔ تو اگر مطلع ابر آلود ہوتو گنتی پوری کرو ۔
حدیث 2531 — صحيح مسلم 13:37
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ ‏"‏ ‏.‏
یزید بن زریع ، خالد ، حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عید کے دو ماہ ناقص نہیں ہوتے ایک رمضان المبارک کا دوسرے ذی الحجہ کا ۔
حدیث 2532 — صحيح مسلم 13:38
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ، وَخَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ ‏"‏ ‏.‏ فِي حَدِيثِ خَالِدٍ ‏"‏ شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ ‏"‏ ‏.‏
معتمر بن سلیمان ، اسحاق بن سوید ، خالد ، حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتےہوئے فرماتے ہیں ۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایادو مہینے ناقص نہیں ہوتے خالد کی حدیث میں ہے کہ عید کے دو مہینے رمضان اور ذی الحجہ کے ہیں ۔ خالد کی حدیث میں ہے "" عید کے دونوں مہینے ، رمضان اور ذوالحجہ ۔
حدیث 2533 — صحيح مسلم 13:39
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ‏}‏ قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ عِقَالاً أَبْيَضَ وَعِقَالاً أَسْوَدَ أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ وِسَادَتَكَ لَعَرِيضٌ إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آیت حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ‌ نازل ہوئی ۔ تو حضرت عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور سیاہ رنگ کے دو دھاگے رکھ لئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کرلیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ جس میں رات اور دن سماگئے ہیں ۔ وہ ( د ھاگا ) تو رات کی سیاہی اور دن کی روشنی ہے ۔
حدیث 2534 — صحيح مسلم 13:40
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ‏}‏ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ خَيْطًا أَبْيَضَ وَخَيْطًا أَسْوَدَ فَيَأْكُلُ حَتَّى يَسْتَبِينَهُمَا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ مِنَ الْفَجْرِ‏}‏ فَبَيَّنَ ذَلِكَ ‏.‏
فضیل بن سلیمان ، ابو حازم ، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ جب یہ آیتوَكُلُوا وَاشْرَ‌بُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ نازل ہوئی تو بعض آدمی سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور جب تک ان میں واضح امتیاز نظر نہ آتاتو کھاتے رہتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے لفظ " مِنَ الْفَجْرِ‌ " نازل فرمایا اور سفید دھاگے کی وضاحت ہوگئی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔