قرآني·Qurani
اردو

الصيد والذبائح وما يؤكل

92 احادیث · #4972–5063

حدیث 4982 — صحيح مسلم 34:11
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّيْدِ قَالَ ‏ "‏ إِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَ فَكُلْ إِلاَّ أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مبارک نے کہا : ہمیں عاصم نے شعبی سے خگر دی ، انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تو اپنا ( شکاری ) کتا چھوڑے ، تو اللہ کا نام لے ( کر چھوڑ ) پھر اگر وہ تیرے شکار کو روک لے اور تو اس کو زندہ پائے ، تو اس کو ذبح کر اور اگر مار ڈالے اور کھائے نہیں ، تو تو اس کو کھا لے اور اگر تیرے کتے کے ساتھ دوسرا کتا ملے اور جانور مارا جا چکا ہو ، تو اس کو مت کھا کیونکہ معلوم نہیں کس نے اس کو مارا ۔ اور جو تو اللہ کا نام لے کر تیر مارے پھر اگر تیرا شکار ( تیر کھا کر ) ایک دن تک غائب رہے ، اس کے بعد تو اس میں اپنے تیر کے سوا اور کسی مار کا نشان نہ پائے ، تو اگر تیرا جی چاہے تو اسے کھا لے اور اگر تو اس کو پانی میں ڈوبا ہوا پائے تو مت کھا ۔ کیونکہ تمھیں معلوم نہیں کہ وہ پانی سےمرا ہے یا تمھارے تیر سے ۔
حدیث 4983 — صحيح مسلم 34:12
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، عَائِذُ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَأَصِيدُ بِكَلْبِيَ الْمُعَلَّمِ أَوْ بِكَلْبِيَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَخْبِرْنِي مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ قَالَ ‏ "‏ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلاَ تَأْكُلُوا فِيهَا وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ ‏"‏ ‏.‏
ابن مبارک نے حیوہ بن شریح سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ربیعہ بن یزید دمشقی کو کہتے ہوئے سنا : مجھے ابو ادریس عائذ اللہ نے خبر دی ، کہا : میں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب ( یعنی یہود یا نصاریٰ ) کے ملک میں رہتے ہیں ، ان کے برتنوں میں کھانا کھاتے ہیں اور ہمارا ملک شکار کا ملک ہے ، تو میں اپنی کمان سے ، سکھائے ہوئے کتے اور اس کتے سے شکار کرتا ہوں جو سکھایا نہیں گیا ، تو مجھ سے وہ طریقہ بیان کیجئے جو کہ حلال ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے جو کہا کہ اہل کتاب کے ملک میں ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں تو اگر تم کو اور برتن مل سکیں ، تو ان کے برتنوں میں مت کھاؤ اور اگر اور برتن نہ ملیں تو ان کو دھو لو اور پھر ان میں کھاؤ ۔ اور جو تو نے ذکر کیا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو پس جس کو تیر پہنچے اور تو اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑے ، تو اسے کھا لے اور اگر تو اپنے شکاری کتے سے شکار کرے اور اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو تو کھا لے اور اگر ایسے کتے کا شکار ہو جو شکاری نہ ہو اور تو اسے زندہ پالے تو ذبح کر کے کھا لے ۔
حدیث 4984 — صحيح مسلم 34:13
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، كِلاَهُمَا عَنْ حَيْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ وَهْبٍ، لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ صَيْدَ الْقَوْسِ ‏.‏
زہیر بن وہب اور مقری دونوں نے حیوہ سے اسی سند کے ساتھ ابن مبارک کی حدیث کی طرح روایت کی ، البتہ ابن وہب نے اپنی روایت میں کمان کے شکار کاذکر نہیں کیا ۔
حدیث 4985 — صحيح مسلم 34:14
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَغَابَ عَنْكَ فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ ‏"‏ ‏.‏
ابو عبداللہ حماد بن خالد خیاط نے معاویہ بن صالح سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن جبیر سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " جب تم ( شکارپر ) اپنا تیر چلاؤ اور پھر وہ تم سے غائب ہوجائے ، پھر تم کو مل جائے تو کھالو جب تک بدبودار نہ ہو ۔
حدیث 4986 — صحيح مسلم 34:15
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلاَثٍ ‏ "‏ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ ‏"‏ ‏.‏
معن بن عیسیٰ نے کہا : مجھے معاویہ نے عبدالرحمان بن جبیربن نفیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں ، جسے تین دن کے بعد اپنا شکار ملے ، روایت کی ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) " جب تک بدبودار نہ ہو اسے کھا سکتے ہو ۔ " ( سخت ٹھنڈے علاقوں میں دیر تک صحیح سلامت رہے گا ۔)
حدیث 4987 — صحيح مسلم 34:16
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدِيثَهُ فِي الصَّيْدِ ثُمَّ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْعَلاَءِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ نُتُونَتَهُ وَقَالَ فِي الْكَلْبِ ‏ "‏ كُلْهُ بَعْدَ ثَلاَثٍ إِلاَّ أَنْ يُنْتِنَ فَدَعْهُ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن حاتم نے کہا : ہمیں عبدالرحمان بن مہدی نے معاویہ بن صالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے علاء سے ، انہوں نے مکحول سے ، انہوں نے ابو ثعلبہ بن خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں اپنی حدیث بیان کی ، پھر ابن حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ہمیں ابن مہدی نے معاویہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمان بن جبیر اورابو زاہریہ سے ، انہوں نے جبیر بن نفیر سے ، انھوں نے ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے علاء کی حدیث کے مانند روایت کی ، اور اس کی بدبو کا ذکر نہیں کیا اورکتے ( کے شکار ) کے بارے میں فرمایا : " تین دن کے بعد بھی اس کو کھا سکتے ہو ، لیکن اگر اس سے بد بوآئے تو اس کو چھوڑ دو ۔
حدیث 4988 — صحيح مسلم 34:17
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي، ثَعْلَبَةَ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ ‏.‏ زَادَ إِسْحَاقُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِمَا قَالَ الزُّهْرِيُّ وَلَمْ نَسْمَعْ بِهَذَا حَتَّى قَدِمْنَا الشَّامَ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو ادریس سے ، انھوں نے ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلیوں ( نوک دار دانت ) والے ہر درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے ، اسحاق اور ابن ابی عمر نے ا پنی روایت میں یہ اضافہ کیا ۔ زہری نے کہا : شام میں آنے تک ہم نے یہ حدیث نہیں سنی تھی ۔
حدیث 4989 — صحيح مسلم 34:18
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ عُلَمَائِنَا بِالْحِجَازِ حَتَّى حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ وَكَانَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الشَّامِ ‏.‏
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابو ادریس خولانی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ ابن شہاب زہری نے کہا : ہم نے حجاز میں اپنے علماء سے یہ حدیث نہیں سنی تھی ۔ یہاں تک کہ ابو ادریس نے ، جو شام کے فقہاء میں سے ہیں ، مجھے یہ حدیث بیان کی ۔
حدیث 4990 — صحيح مسلم 34:19
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّالله عليه وسلم نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ‏.‏
عمرو بن حارث نے کہا کہ ابن شہاب نے انھیں اب ادریس خولانی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ۔
حدیث 4991 — صحيح مسلم 34:20
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُهُمْ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ وَعَمْرٍو كُلُّهُمْ ذَكَرَ الأَكْلَ إِلاَّ صَالِحًا وَيُوسُفَ فَإِنَّ حَدِيثَهُمَا نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ ‏.‏
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بن انس ، ابن ابی ذئب ، عمرو بن حارث ، یونس بن یزید وغیرہ نے اور معمر ، یوسف بن ماجثون اور صالح سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس اور عمرو کی حدیث کی مانند روایت کی ۔ سب نے کھانے کا ذکر کیاہے ۔ سوائے صالح اور یوسف کے ۔ ان دونوں کی حدیث یہ ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے در ندے ( کو کھانے ) سے منع فرمایا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔