قرآني·Qurani
اردو

الطلاق

91 احادیث · #3652–3742

حدیث 3732 — صحيح مسلم 18:76
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً، تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَكُونُ فِي شَرِّ بَيْتِهَا فِي أَحْلاَسِهَا - أَوْ فِي شَرِّ أَحْلاَسِهَا فِي بَيْتِهَا - حَوْلاً فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعَرَةٍ فَخَرَجَتْ أَفَلاَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"‏ ‏.‏
معاذ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے حمید بن نافع سے اکٹھی دو حدیثیں بیان کیں ، سرمہ لگانے کے بارے میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک اور بیوی کی حدیث ، البتہ انہوں نے ان کا نام ، زینب نہیں لیا ۔ ۔ ۔ ( باقی حدیث ) محمد بن جعفر کی ( سابقہ ) حدیث کی طرح ( بیان کی)
حدیث 3733 — صحيح مسلم 18:77
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، بِالْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي الْكُحْلِ وَحَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُخْرَى مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ تُسَمِّهَا زَيْنَبُ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ‏.‏
حمید بن نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کر رہی تھیں ، وہ دونوں یہ بتا رہی تھیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اس کی ایک بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے ، اس کی آنکھ میں تکلیف ہو گئی ہے وہ چاہتی ہے کہ اس میں سرمہ لگائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ تم میں سے کوئی عورت ( پورا ) سال گزرنے پر لید پھینکا کرتی تھی ، اور یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں
حدیث 3734 — صحيح مسلم 18:79
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَتْ لَمَّا أَتَى أُمَّ حَبِيبَةَ نَعِيُّ أَبِي سُفْيَانَ دَعَتْ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْ بِهِ ذِرَاعَيْهَا وَعَارِضَيْهَا وَقَالَتْ كُنْتُ عَنْ هَذَا غَنِيَّةً سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"‏‏.‏
زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : جب ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس ( ان کے والد ) ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر آئی تو انہوں نے تیسرے دن زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں اور رخساروں پر ہلکا سا لگایا اور کہا : مجھے اس کی ضرورت نہ تھی ، ( مگر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : " کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو ، حلال نہیں کہ وہ ( کسی مرنے والے پر ) تین دن سے زیادہ سوگ منائے ، سوائے شوہر کے ، وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے
حدیث 3735 — صحيح مسلم 18:80
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ، بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَتْهُ عَنْ حَفْصَةَ، أَوْ عَنْ عَائِشَةَ، أَوْ عَنْ كِلْتَيْهِمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ - أَوْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ - أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجِهَا ‏"‏ ‏.‏
لیث بن سعد نے نافع سے روایت کی کہ صفیہ بنت ابی عبید نے انہیں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یا ان دونوں سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی عورت کے لیے ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے ۔ ۔ یا فرمایا : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتی ہے ۔ ۔ حلال نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے سوا کسی بھی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے
حدیث 3736 — صحيح مسلم 18:81
وَحَدَّثَنَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ، اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ نَافِعٍ، بِإِسْنَادِ حَدِيثِ اللَّيْثِ ‏.‏ مِثْلَ رِوَايَتِهِ ‏.‏
عبداللہ بن دینار نے نافع سے لیث کی حدیث کی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت بیان کی
حدیث 3737 — صحيح مسلم 18:82
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَابْنِ دِينَارٍ وَزَادَ ‏ "‏ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں : میں نے نافع سے سنا ، وہ صفیہ بنت ابوعبید سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہی تھیں ۔ ۔ ۔ جس طرح لیث اور ابن دینار کی حدیث ہے ۔ اور یہ اضافہ کیا : " وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی
حدیث 3738 — صحيح مسلم 18:83
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ ‏.‏
ایوب اور عبیداللہ دونوں نے نافع سے ، انہوں نے صفیہ بنت ابی عبید سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی اور اہلیہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان ( لیث بن سعد ، عبداللہ بن دینار اور یحییٰ بن سعید ) کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی
حدیث 3739 — صحيح مسلم 18:84
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجِهَا ‏"‏ ‏.‏
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " کسی عورت کے لیے ، جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے ، حلال نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے سوا کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے
حدیث 3740 — صحيح مسلم 18:85
وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ وَلاَ تَكْتَحِلُ وَلاَ تَمَسُّ طِيبًا إِلاَّ إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ ‏"‏ ‏.‏
ابن ادریس نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی عورت کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے ، مگر خاوند پر ، ( اس پر ) چار مہینے دس دن ( سوگ منائے ) نہ وہ عَصب کے خانہ دار کپڑے کے سوا کوئی رنگا ہوا کپڑا پہنے ، نہ سرمہ لگائے ، مگر ( اس دوران میں ) جب ( حیض سے ) پاک ہو تو معمولی سی قُسط یا اظفار ( جیسی کوئی چیز ) استعمال کر لے ۔ " ( یہ دونوں خوشبوئیں نہیں ، صرف بدبو کو زائل کرنے والے بخور ہیں)
حدیث 3741 — صحيح مسلم 18:86
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ ‏ "‏ عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن نمیر اور یزید بن ہارون ، دونوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اور دونوں نے کہا : " طہر کے آغاز میں تھوڑی سی قسط اور اظفار لگا لے
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔