قرآني·Qurani
اردو

الطهارة

145 احادیث · #534–678

حدیث 574 — صحيح مسلم 2:41
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمِطْهَرَةِ فَقَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نےمحمد بن زیاد سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو وضو کے برتن سے وضو کرتے دیکھا تو کہا : وضواچھی طرح کرو میں نے حضرت ابو القاسم ( محمد ) ﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’کونچوں کے لیے آگ کاعذاب ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 575 — صحيح مسلم 2:42
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے
حدیث 576 — صحيح مسلم 2:43
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلاً، تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَى قَدَمِهِ فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ ثُمَّ صَلَّى ‏.‏
حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا کہ ایک شخص نے وضو کیا تو اپنے پاؤں پر ایک ناخن جتنی جگہ چھوڑ دی ، تو نبی ﷺ نے اس کو دیکھ لیا اور فرمایا : ’’واپس جاؤ اور اپنا وضو خوب اچھی طرح کرو- ‘ ‘ وہ واپس گیا ، ( حکم پر عمل کیا ) پھر نماز پڑھی ۔
حدیث 577 — صحيح مسلم 2:44
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ - أَوِ الْمُؤْمِنُ - فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلاَهُ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب ایک مسلم ( یامومن ) بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی ( یاپانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ سارے گناہ ، جنہیں اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کیا تھا ، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی ( یا پانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ وہ سارے گناہ ، جو اس کے ہاتھوں نے پکڑ کر کیے تھے ، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو پانی ( یا پانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ وہ تمام گناہ ، جو اس کے پیروں نے چل کر کیے تھے ، خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ وہ گناہون سے پاک ہو کر نکلتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 578 — صحيح مسلم 2:45
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ حُمْرَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا ، تو اس کے جسم سے اس کےگناہ خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ اس کے ناخنوں کےنیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
حدیث 579 — صحيح مسلم 2:46
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ دِينَارٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ ثُمَّ يَدَهُ الْيُسْرَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ ‏.‏ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنْتُمُ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ فَلْيُطِلْ غُرَّتَهُ وَتَحْجِيلَهُ ‏"‏ ‏.‏
عمارہ بن غزیہ انصاری نےنعیم بن عبداللہ مجمر سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابوہریرہ ﷺ کو وضو کرتے دیکھا ، انہوں نے اپنا چہرہ دھویا اور اچھی طرح وضو کیا ، پھر اپنا دایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنا بایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا حتی کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنا بایاں پاؤں دھویا حتیٰ کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے ، پھر کہا : رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ، اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’قیامت کےدن اچھی طرح وضو کرنے کی وجہ سے تم لوگ ہی روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں والے ہو گے ، لہٰذا تم میں سے جو اپنے چہرے اور ہاتھ پاؤں کی روشنی اور سفیدی کو آگے تک بڑھا سکے ، بڑھا لے ۔ ‘ ‘
حدیث 580 — صحيح مسلم 2:47
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ حَتَّى كَادَ يَبْلُغُ الْمَنْكِبَيْنِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى رَفَعَ إِلَى السَّاقَيْنِ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ ‏"‏ ‏.‏
سعید بن ابی ہلال نے نعیم بن عبداللہ سےروایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئےیہاں تک کہ کندھوں کے قریب پہنچ گئے ، پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے ، یہاں تک کہ اوپر پنڈلیوں تک لے گئے ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ میری امت کے لوگ قیامت کے دن وضو کے اثر سے روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے ، لہٰذا تم میں سے جو اپنی روشنی کو آگے تک بڑھا سکتا ہے ، بڑھا لے ۔ ‘ ‘
حدیث 581 — صحيح مسلم 2:48
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ، - قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ وَلآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ وَإِنِّي لأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لأَحَدٍ مِنَ الأُمَمِ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ‏"‏ ‏.‏
مروان نے ابو مالک اشجعی سعد بن طارق سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور ( اس کا پانی ) برف سے زیادہ سفید اور شہد سے ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں ، ( یہ خالصتاً میری امت کے لیے ہے ، اس لیے ) میں ( امت کے علاوہ دوسرے ) لوگوں کو اس سے روکوں گا ، جیسےآدمی اپنےحوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے پوچھا : اے اللہ کے رسول !کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک علامت ہو گی جو دوسری کسی امت کی نہیں ہو گی ، تم وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے ۔ ‘ ‘
حدیث 582 — صحيح مسلم 2:49
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، - وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَرِدُ عَلَىَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لأَحَدٍ غَيْرِكُمْ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْكُمْ فَلاَ يَصِلُونَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ هَؤُلاَءِ مِنْ أَصْحَابِي فَيُجِيبُنِي مَلَكٌ فَيَقُولُ وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
(مروان کے بجائے ) ابن فضیل نے ابو مالک اشجعی سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اسی طرح ( دوسرے ) لوگوں کو اس ( حوض ) سے دور ہٹاؤں گا جیسےایک آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے ہٹاتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے نبی !کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی اور کی نہیں ہو گی ، تم میرے پا س وضو کےاثرات سے روشن چہرے اور چمکدارہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے ۔ تم میں سےایک گروہ کو زبردستی میرے پاس آنے سےروک دیا جائے گا ، تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ اس پر میں کہوں گا : اے میرے رب !یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں ۔ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا او رکہے گا : کیا آپ جانتے ہیں انہوں نےآپ کے بعد کیا کیا کام ایجاد کیے تھے؟ ‘ ‘
حدیث 583 — صحيح مسلم 2:50
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ حَوْضِي لأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَعْرِفُنَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ لَيْسَتْ لأَحَدٍ غَيْرِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے ، اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس سے اسی طرح ( دوسرے ) لوگوں کو ہٹاؤں گا ، جس طرح آدمی اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اےاللہ کے رسول ! اور کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تم میرے پاس روشن چہرے اور چمکتے ہوئے سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤگے ، یہ علامت تمہارے سوا کسی اور میں نہیں ہو گی ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔